ایک برس میں 3 ڈبل سنچریاں کوہلی پانچویں بیٹسمین
پہلے بھارتی کا اعزاز، بریڈمین، کلارک، پونٹنگ اور برینڈن کی صف میں شامل
پہلے بھارتی کا اعزاز، بریڈمین، کلارک، پونٹنگ اور برینڈن کی صف میں شامل فوٹو: فائل
ABBOTTABAD:
ویرات کوہلی ایک برس میں تین ڈبل سنچریاں اسکورکرنے والے پہلے بھارتی کھلاڑی بن گئے، ڈان بریڈ مین (101.51) کے بعد ویرات کوہلی کی بطور کپتان 65.50 کی اوسط سب سے زیادہ ہے، مجموعی طور پر وہ ایک برس میں تین یا اس سے زائد ڈبل سنچریز اسکور کرنے والے پانچویں بیٹسمین بن گئے ہیں۔
ان سے قبل مائیکل کلارک 4 (2012) جبکہ ڈان بریڈ مین (1930)، رکی پونٹنگ (2003) اور برینڈن میک کولم (2014) 3،3ڈبل سنچریاں اسکور کرچکے ہیں، کلارک اور میک کولم کے بعد کوہلی یہ کارنامہ انجام دینے والے تیسرے کپتان ہیں۔ ممبئی ٹیسٹ میں 235 رنز اسکور کرنے کے بعد کوہلی کی ایوریج 50.53 ہوگئی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب ان کی اوسط 50 سے اوپر ہوئی ہے، ون ڈے میں ان کی ایوریج 52.93 اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنلز میں57.13 ہے، اس طرح وہ تینوں فارمیٹس میں اب 50 پلس اوسط کے مالک بن گئے ہیں۔
رواں سیریز میں ان کا مجموعی اسکور 640 ہوچکا ہے جوکہ انگلینڈ کے خلاف کسی بھی بھارتی کرکٹر سے زیادہ ہے، اس معاملے میں انھوں نے راہول ڈریوڈ کو پیچھے چھوڑا جنھوں نے انگلش ٹیم کے خلاف 2002 میں چارمیچز کی سیریز میں 602 رنز اسکور کیے تھے۔ یہ ساتواں موقع ہے جب کسی بھارتی بیٹسمین نے ایک سیریز میں 600 سے زائد رنز اسکور کیے ہوں، وہ گاوسکر اور ڈیوڈ کے بعد دو بار یہ کارنامہ انجام دینے والے بھارتی بیٹسمین بن گئے ہیں۔کوہلی اور جیانت یادیو کے درمیان 241 رنز کی پارٹنر شپ بھارت کی آٹھویں وکٹ کیلیے سب سے بڑی شراکت شمار ہوئی ہے،اسی وکٹ کیلیے محمد اظہر الدین اور انیل کمبلے نے 20 برس قبل جنوبی افریقہ کے خلاف سب سے زیادہ 161 رنز جوڑے تھے۔
یہ انگلینڈ کے خلاف آٹھویں وکٹ کیلیے دوسرا ڈبل سنچری اسٹینڈ ہے، تقریباً 109 برس قبل ایڈیلیڈ میں روجر ہارٹیگن اور کلین ہل نے 243 رنز کی شراکت کی تھی، ٹیسٹ تاریخ میں یہ آٹھویں وکٹ کیلیے آٹھواں ڈبل سنچری اسٹینڈ ہے۔ جیانت یادیو نویںنمبر پر سنچری اسکور کرنے والے بھارت کے پہلے کرکٹر بن گئے جبکہ بھارت بھی نویں یا اس سے نچلے نمبر پر سنچورین کی حامل ساتویں ٹیم بن گیا ہے، ٹیسٹ تاریخ میں یہ 20 واں موقع ہے جب نمبر 9 یا اس سے نچلے نمبر پر آنے والے بیٹسمین نے سنچری اسکور کی ہے۔
ویرات کوہلی ایک برس میں تین ڈبل سنچریاں اسکورکرنے والے پہلے بھارتی کھلاڑی بن گئے، ڈان بریڈ مین (101.51) کے بعد ویرات کوہلی کی بطور کپتان 65.50 کی اوسط سب سے زیادہ ہے، مجموعی طور پر وہ ایک برس میں تین یا اس سے زائد ڈبل سنچریز اسکور کرنے والے پانچویں بیٹسمین بن گئے ہیں۔
ان سے قبل مائیکل کلارک 4 (2012) جبکہ ڈان بریڈ مین (1930)، رکی پونٹنگ (2003) اور برینڈن میک کولم (2014) 3،3ڈبل سنچریاں اسکور کرچکے ہیں، کلارک اور میک کولم کے بعد کوہلی یہ کارنامہ انجام دینے والے تیسرے کپتان ہیں۔ ممبئی ٹیسٹ میں 235 رنز اسکور کرنے کے بعد کوہلی کی ایوریج 50.53 ہوگئی ہے، یہ پہلا موقع ہے جب ان کی اوسط 50 سے اوپر ہوئی ہے، ون ڈے میں ان کی ایوریج 52.93 اور ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنلز میں57.13 ہے، اس طرح وہ تینوں فارمیٹس میں اب 50 پلس اوسط کے مالک بن گئے ہیں۔
رواں سیریز میں ان کا مجموعی اسکور 640 ہوچکا ہے جوکہ انگلینڈ کے خلاف کسی بھی بھارتی کرکٹر سے زیادہ ہے، اس معاملے میں انھوں نے راہول ڈریوڈ کو پیچھے چھوڑا جنھوں نے انگلش ٹیم کے خلاف 2002 میں چارمیچز کی سیریز میں 602 رنز اسکور کیے تھے۔ یہ ساتواں موقع ہے جب کسی بھارتی بیٹسمین نے ایک سیریز میں 600 سے زائد رنز اسکور کیے ہوں، وہ گاوسکر اور ڈیوڈ کے بعد دو بار یہ کارنامہ انجام دینے والے بھارتی بیٹسمین بن گئے ہیں۔کوہلی اور جیانت یادیو کے درمیان 241 رنز کی پارٹنر شپ بھارت کی آٹھویں وکٹ کیلیے سب سے بڑی شراکت شمار ہوئی ہے،اسی وکٹ کیلیے محمد اظہر الدین اور انیل کمبلے نے 20 برس قبل جنوبی افریقہ کے خلاف سب سے زیادہ 161 رنز جوڑے تھے۔
یہ انگلینڈ کے خلاف آٹھویں وکٹ کیلیے دوسرا ڈبل سنچری اسٹینڈ ہے، تقریباً 109 برس قبل ایڈیلیڈ میں روجر ہارٹیگن اور کلین ہل نے 243 رنز کی شراکت کی تھی، ٹیسٹ تاریخ میں یہ آٹھویں وکٹ کیلیے آٹھواں ڈبل سنچری اسٹینڈ ہے۔ جیانت یادیو نویںنمبر پر سنچری اسکور کرنے والے بھارت کے پہلے کرکٹر بن گئے جبکہ بھارت بھی نویں یا اس سے نچلے نمبر پر سنچورین کی حامل ساتویں ٹیم بن گیا ہے، ٹیسٹ تاریخ میں یہ 20 واں موقع ہے جب نمبر 9 یا اس سے نچلے نمبر پر آنے والے بیٹسمین نے سنچری اسکور کی ہے۔