اساتذہ کی بھرتی کا ٹیسٹ بدانتظامی کا شکار امیدواروں کا احتجاج

محکمہ تعلیم کا این ٹی ایس سے اساتذہ کی بھرتی کا ٹیسٹ منعقد کرنے کا تجربہ ناکام

این ٹی ایس کی جانب سے کراچی کے ٹیسٹ مراکزپرامتحانی پرچہ تاخیرسے پہنچایاگیاجبکہ این ٹی ایس کاعملہ بھی امیدواروں کودیے گئے وقت کے بعد مراکز پہنچا۔ فوٹو: فائل

صوبائی محکمہ تعلیم کی جانب سے این ٹی ایس (نیشنل ٹیسٹنگ سروس) کواساتذہ کی بھرتیوں کے سلسلے میں ٹیسٹ کے انعقادکا ٹھیکہ دیے جانے کا تجربہ ناکام ہوگیا ہے اوراتوارکومنعقدکیے گئے ایچ ایس ٹی(ہائی اسکول ٹیچر) کے تحریری ٹیسٹ میں کراچی کے پانچوں ٹیسٹ مراکز پربدانتظامیوں کی بدترین مثالیں سامنے آئی ہیں۔

این ٹی ایس کی جانب سے کراچی کے ٹیسٹ مراکزپرامتحانی پرچہ تاخیرسے پہنچایاگیاجبکہ این ٹی ایس کاعملہ بھی امیدواروں کودیے گئے وقت کے بعد مراکز پہنچا جس کے سبب کسی بھی ٹیسٹ مرکز پرتحریری ٹیسٹ بروقت شروع نہ ہوسکا، نیشنل ٹیسٹنگ سروس کی جانب سے سائنس گروپ کے سیکڑوں امیدواروں کے ٹیسٹ مراکزجنرل گروپ کے مراکز میں قائم کردیے گئے جس سے سائنس گروپ کے امیدوار شدیدذہنی اذیت کاشکارہوگئے دوسری جانب این ٹی ایس نے ذرائع ابلاغ کوٹیسٹ کی کوریج سے روک دیا، ٹیسٹ مراکزمیں ذرائع ابلاغ کوجانے کی اجازت نہیں دی گئی صوبائی محکمہ تعلیم اوراین ٹی ایس کی جانب سے اتوارکوہائی اسکول اساتذہ کی بھرتیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ صبح 10سے 12بجے تک لیے جانے کااعلان کیا گیا تھا اوراس سلسلے میں امیدواروں کو9 بجے ٹیسٹ مراکزپہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

تاہم گلشن اقبال بلاک 6کے ٹیسٹ مرکز سمیت دیگرتمام مراکز پر امیدوار جب 9بجے پہنچے تواین ٹی ایس کاعملہ متعلقہ اسکولوں میں موجود ہی نہیں تھا این ٹی ایس کاعملہ ٹیسٹ مراکز پرساڑھے 9 بجے پہنچاجبکہ تحریری ٹیسٹ کے انتظامات کے بعد ٹیسٹ بمشکل11بجے شروع ہوا این ٹی ایس کی جانب سے گلشن اقبال کاٹیسٹ مرکز جنرل گروپ کے امیدواروں کے لیے قائم کیاگیاتھاتاہم بڑے پیمانے پرسائنس گروپ کے امیدوارو کے ایڈمٹ کارڈ پر بھی انھیں اسی امتحانی مرکز پر پہنچنے کی ہدایت کی گئی تھی سائنس گروپ کے امیدوارجب گلشن اقبال کے مرکز پرپہنچے توانھیں بتایاکہ گیاکہ ان کاٹیسٹ یہاںنہیں ہوگا۔




تاہم امیدواروں کے احتجاج کے بعد انھیں اسی مرکز پر انتظارکرنے کی ہدایت کی گئی اوربعدازاں سائنس ٹیسٹ کا پرچہ منگوایاگیااورسائنس گروپ کے امیدواروں کاٹیسٹ جنرل گروپ کا ٹیسٹ ختم ہونے کے بعد دوسرے مرحلے میں دوپہرکولیاگیااوربڑی تعدادمیں سائنس گروپ کے امیدوارگلشن اقبال کے مذکورہ اسکول میں ایک درخت کے نیچے کھڑے رہ کرکئی گھنٹے تک اپنے ٹیسٹ کاانتظارکرتے رہے دوسری جانب جب جنرل گروپ کے امیدوارامتحانی مرکزسے باہرنکلے توانھوں نے بتایاکہ تقریباً 11بجے انھیں امتحانی پرچہ حوالے کیاگیا 2 گھنٹے پورے ہونے سے قبل سوا12بجے ان سے پرچہ چھین لیاگیا جس کے سبب وہ پورا پرچہ حل نہیں کرسکے۔

علاوہ ازیں امیدواروں کے ساتھ آنے والے ہزاروں افراد کے لیے بھی سینٹرکے باہرنشستوں ،شامیانے اورپانی کاکوئی انتظام نہیں تھاامیدواروں کے ساتھ آنے والے یہ افراد کئی گھنٹے تک کھڑے رہنے پر مجبورتھے واضح رہے کہ جامعہ کراچی اوراین ای ڈی یونیورسٹی اپنے رجحان ٹیسٹ کے انعقادکے موقع پرامیدواروں کے ساتھ آنے والے والدین کے لیے بھی نشستوں ،شامیانے اورپینے کے پانی کامعقول انتظام کرتی ہے ''ایکسپریس''نے جب اس صورتحال پرریفارم سپورٹ یونٹ کے سربراہ پرویزسیہڑسے رابطہ کیاتوان کاکہناتھاکہ انتظامات این ٹی ایس کے حوالے کیے گئے ہیں محکمہ تعلیم کاعملہ سینٹرمیں موجود نہیں، ذرائع ابلاغ پرکوریج کی پابندی بھی این ٹی ایس کا فیصلہ ہے این ٹی ایس کراچی کے سربراہ عمران خان سے رابطہ کیا گیا تو ان کاکہناتھاکہ چونکہ ماضی میں ذرائع ابلاغ کوکوریج کی اجازت دینے کا تجربہ اچھانہیں رہا۔
Load Next Story