عالمی کرکٹ میں ٹنڈولکر کی کمی محسوس ہوگی محمد حفیظ
حقیقت تو یہ ہے کہ سچن ٹنڈولکر کی اس مختصر سیریز میں کمی شدت سے محسوس کریں گے۔
ہمارے کھلاڑی ون ڈے سیریز میں سچن ٹنڈولکر کے نہ ہونے پر افسردہ ہیں،محمد حفیظ۔ فوٹو: فائل
بھارت سے سیریز کیلیے بنگلور میں موجود پاکستانی ٹیم نے بھی ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرہونے والے بھارتی اسٹار بیٹسمین سچن ٹنڈولکر کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی کرکٹ میں ٹنڈولکر کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ ٹوئنٹی 20 کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی ون ڈے سیریز میں سچن ٹنڈولکر کے نہ ہونے پر افسردہ ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ان کی اس مختصر سیریز کمی شدت سے محسوس کریں گے، دنیا کا کوئی بھی بولر ان کے سامنے نہیں ٹھہر پاتا تھا، ان کا کھیل بھی دیکھنے کے قابل ہوتا تھا میں ان کے بہتر مستقبل کیلیے دعاگو ہوں۔ فاسٹ بولر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ ٹنڈولکر کے خلاف بولنگ سے لطف اٹھایا کیونکہ ان جیسے باصلاحیت بیٹسمین کے سامنے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ ہر کرکٹر کی زندگی میں ایک دن ایسا آتا ہے جب اس کو اپنے پسندیدہ کھیل کو الوداع کہنا پڑتا ہے، ان کی بھارت کے لیے خدمات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے، وہ حقیت میں دنیائے کرکٹ میں احترام کے لائق ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ بھارت کیلیے ٹیسٹ کرکٹ میں کئی اور سنچریاں اسکور کریں گے۔ عمر گل نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ویرت کوہلی اور سریشن رائنا نے ٹنڈولکر سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ نوجوان بیٹسمین عمر امین نے کہا کہ میری شدید خواہش تھی کہ میں ٹنڈولکر کے ساتھ ون ڈے سیریز میں کھیلتا، میں نے بھارت کے خلاف 2010 میں ایشیا کپ کھیلا مگر اس وقت وہ ٹیم میں نہیں تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ عالمی کرکٹ میں ٹنڈولکر کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔ ٹوئنٹی 20 کپتان محمد حفیظ نے کہا کہ ہمارے کھلاڑی ون ڈے سیریز میں سچن ٹنڈولکر کے نہ ہونے پر افسردہ ہیں، حقیقت تو یہ ہے کہ ہم ان کی اس مختصر سیریز کمی شدت سے محسوس کریں گے، دنیا کا کوئی بھی بولر ان کے سامنے نہیں ٹھہر پاتا تھا، ان کا کھیل بھی دیکھنے کے قابل ہوتا تھا میں ان کے بہتر مستقبل کیلیے دعاگو ہوں۔ فاسٹ بولر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ میں نے ہمیشہ ٹنڈولکر کے خلاف بولنگ سے لطف اٹھایا کیونکہ ان جیسے باصلاحیت بیٹسمین کے سامنے غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
انھوں نے کہا کہ ہر کرکٹر کی زندگی میں ایک دن ایسا آتا ہے جب اس کو اپنے پسندیدہ کھیل کو الوداع کہنا پڑتا ہے، ان کی بھارت کے لیے خدمات کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے، وہ حقیت میں دنیائے کرکٹ میں احترام کے لائق ہیں، مجھے امید ہے کہ وہ بھارت کیلیے ٹیسٹ کرکٹ میں کئی اور سنچریاں اسکور کریں گے۔ عمر گل نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ویرت کوہلی اور سریشن رائنا نے ٹنڈولکر سے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔ نوجوان بیٹسمین عمر امین نے کہا کہ میری شدید خواہش تھی کہ میں ٹنڈولکر کے ساتھ ون ڈے سیریز میں کھیلتا، میں نے بھارت کے خلاف 2010 میں ایشیا کپ کھیلا مگر اس وقت وہ ٹیم میں نہیں تھے۔