آسٹریلیا کے لیے تیسرے پیسر کا انتخاب دردسر بن گیا
مچل جونسن تجربہ کار تو نئے پیسر جیکسن برڈ بھی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔
آسٹریلین سلیکٹرز نے مائکل کارک کی عدم شرکت کی صورت میں عثمان خواجہ کو طلب کرلیا ہے۔ فوٹو: فائل
سری لنکا کے خلاف دوسرے ٹیسٹ سے قبل آسٹریلوی سلیکٹرز کیلیے تیسرے فاسٹ بولر کا انتخاب درد سر بن گیا۔
مچل جونسن تجربہ کار تو نئے پیسر جیکسن برڈ بھی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، ادھر مائیکل کلارک باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے قبل ہیمسٹرنگ انجری سے نجات کیلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بین ہلفنہاس کے انجرڈ ہونے کی وجہ سے پلیئنگ الیون میں تیسرے فاسٹ بولر کی جگہ خالی ہوگئی ہے جس کیلیے مچل جونسن اور نوجوان پیسر جیکسن برڈ کے درمیان سخت مقابلہ ہے، سلیکٹرز ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں، جونسن کا وسیع تجربہ ان کی پشت پر ہے تو برڈ نے بھی ڈومیسٹک سیزن میں اپنی شاندار صلاحیتوں سے کافی متاثر کیا ہے۔
انھوں نے 14 شیفلڈ شیلڈ میچز میں 80 وکٹیں حاصل کی ہیں چونکہ پلیئنگ الیون میں پہلے ہی ایک لیفٹ آرمر مچل اسٹارک موجود ہیں اس لیے بعض ماہرین دوسرے بائیں بازو کے بولر جونسن کو میدان میں اتارے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ سابق اسپن اسٹار شین وارن بھی جیکسن برڈ کو موقع دینے کے حق میں ہیں، انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں سری لنکا کے خلاف 26 دسمبر کو شیڈول باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں برڈ ہی بولنگ کا آغاز کرے گا ، آسٹریلیا دو لیفٹ آرمر کے ساتھ کھیلنے سے گریز کرے گا۔ دوسری جانب آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک جلد سے جلد ہیمسٹرنگ تکلیف سے نجات کیلیے تگ و دو میں مصروف ہیں، وہ بھی پہلے ٹیسٹ میں اس تکلیف کا شکار ہوئے تھے۔
سلیکٹرز نے پہلے ہی حفظ ماتقدم کے تحت ان کے کور اپ کیلیے عثمان خواجہ کو طلب کرلیا ہے مگر کلارک کی خواہش ہے کہ وہ ہر صورت یہ ٹیسٹ کھیلیں۔ یہ سال ویسے بھی ان کیلیے کافی شاندار گزرا اور وہ اس میں 106.35 کی ایوریج سے 1489 رنز اسکور کرچکے ہیں تاہم وہ ابھی بھی ایک برس میں زیادہ اسکور کے معاملے میں سابق کپتان رکی پونٹنگ سے 55 رنز کی دوری پر ہیں اگر وہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیلنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو دو اننگز میں وہ پونٹنگ کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں اگر وہ بروقت فٹ نہیں ہوئے تب پھر ٹیم شین واٹسن کی قیادت میں کھیلے گی۔ادھر سری لنکن بیٹسمین کمارسنگاکارا کو ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے کیلیے مزید 40 رنز درکار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں 12، 13 برس سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہا ہوں مگر میرے لیے میلبورن کرکٹ گرائونڈ پر پانچ روزہ کرکٹ کھیلنے کا یہ پہلا موقع اور میں اس کو یادگاربنانے کی کوشش کروںگا۔
مچل جونسن تجربہ کار تو نئے پیسر جیکسن برڈ بھی صلاحیتوں میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں، ادھر مائیکل کلارک باکسنگ ڈے ٹیسٹ سے قبل ہیمسٹرنگ انجری سے نجات کیلیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکا کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں بین ہلفنہاس کے انجرڈ ہونے کی وجہ سے پلیئنگ الیون میں تیسرے فاسٹ بولر کی جگہ خالی ہوگئی ہے جس کیلیے مچل جونسن اور نوجوان پیسر جیکسن برڈ کے درمیان سخت مقابلہ ہے، سلیکٹرز ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پائے ہیں، جونسن کا وسیع تجربہ ان کی پشت پر ہے تو برڈ نے بھی ڈومیسٹک سیزن میں اپنی شاندار صلاحیتوں سے کافی متاثر کیا ہے۔
انھوں نے 14 شیفلڈ شیلڈ میچز میں 80 وکٹیں حاصل کی ہیں چونکہ پلیئنگ الیون میں پہلے ہی ایک لیفٹ آرمر مچل اسٹارک موجود ہیں اس لیے بعض ماہرین دوسرے بائیں بازو کے بولر جونسن کو میدان میں اتارے جانے کے حق میں نہیں ہیں۔ سابق اسپن اسٹار شین وارن بھی جیکسن برڈ کو موقع دینے کے حق میں ہیں، انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں سری لنکا کے خلاف 26 دسمبر کو شیڈول باکسنگ ڈے ٹیسٹ میں برڈ ہی بولنگ کا آغاز کرے گا ، آسٹریلیا دو لیفٹ آرمر کے ساتھ کھیلنے سے گریز کرے گا۔ دوسری جانب آسٹریلیا کے کپتان مائیکل کلارک جلد سے جلد ہیمسٹرنگ تکلیف سے نجات کیلیے تگ و دو میں مصروف ہیں، وہ بھی پہلے ٹیسٹ میں اس تکلیف کا شکار ہوئے تھے۔
سلیکٹرز نے پہلے ہی حفظ ماتقدم کے تحت ان کے کور اپ کیلیے عثمان خواجہ کو طلب کرلیا ہے مگر کلارک کی خواہش ہے کہ وہ ہر صورت یہ ٹیسٹ کھیلیں۔ یہ سال ویسے بھی ان کیلیے کافی شاندار گزرا اور وہ اس میں 106.35 کی ایوریج سے 1489 رنز اسکور کرچکے ہیں تاہم وہ ابھی بھی ایک برس میں زیادہ اسکور کے معاملے میں سابق کپتان رکی پونٹنگ سے 55 رنز کی دوری پر ہیں اگر وہ باکسنگ ڈے ٹیسٹ کھیلنے کے قابل ہوجاتے ہیں تو دو اننگز میں وہ پونٹنگ کو پیچھے چھوڑ سکتے ہیں اگر وہ بروقت فٹ نہیں ہوئے تب پھر ٹیم شین واٹسن کی قیادت میں کھیلے گی۔ادھر سری لنکن بیٹسمین کمارسنگاکارا کو ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کرنے کیلیے مزید 40 رنز درکار ہیں، ان کا کہنا ہے کہ میں 12، 13 برس سے ٹیسٹ کرکٹ کھیل رہا ہوں مگر میرے لیے میلبورن کرکٹ گرائونڈ پر پانچ روزہ کرکٹ کھیلنے کا یہ پہلا موقع اور میں اس کو یادگاربنانے کی کوشش کروںگا۔