نظام بدلو ورنہ اسلام آباد کی طرف مارچ ہوگا طاہر القادری کا حکومت کو 3ہفتے کا الٹی میٹم

عدلیہ آرٹیکل 254 پڑھے،2 پارٹیوں کو ’’مک مکا‘‘ کی اجازت نہیں‘میرے پیچھے کوئی ایجنسی نہیں، لاہور میںخطاب

لاہور:تحریک منہاج القرآن کے تحت مینار پاکستان پر جلسے کا منظر ،چھوٹی تصویر میں طاہر القادر ی لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

تحریک منہاج القرآن کے سرپرست ڈاکٹر طاہرالقادری نے حکومت کو انتخابی نظام میں تبدیلی کیلیے 3 ہفتے کی مہلت د یتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ اگر مطالبہ تسلیم نہ کیا گیا تو 14جنوری کو اسلام آباد میں40لاکھ لوگوںکی عوامی پارلیمنٹ کا اجلاس ہوگا اور عوام پرامن مارچ میں جمع ہوکر فیصلہ کریںگے۔

نگراں حکومت اور آئین کے مطابق انتخابی نظام کے لیے دو پارٹیوں کو ڈرائنگ روم میںبیٹھ کر مک مکا کرنے کی اجازت نہیںدی جائے گی۔ اس کیلیے عدلیہ اور فوج سمیت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام اسٹیک ہولڈرز کو مشاورت میں شامل کیاجائے۔ اتوار کو مینار پاکستان لاہور پر بڑے عوامی اجتماع میں ''سیاست نہیں، ریاست بچائو'' ایجنڈے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے خطاب میں انھوں نے کہا کہ10جنوری کو بعد نماز جمعہ قافلے ملک بھر سے اس اجتماع کیلیے روانہ ہو جائیںگے۔ میں الیکشن رکوانے نہیں آیا، الیکشن ضرور ہوں مگر آئین کی شرائط کے مطابق ہوں۔ اگر قوم کے اور میرے ایجنڈے پر عمل کیے بغیر اور انتخابی اصلاحات کے بغیر موجودہ نظام کے تحت الیکشن کرائے گئے تو یہ آئین کی خلاف ورزی ہو گی اور اسے عوام مسترد کردیںگے۔

پارلیمنٹ ہر وہ کام کرتی ہے جو اسکے مفاد میں ہوتا ہے اور وہ کام نہیں کرتی جوعوامی مفاد میں ہے۔ دو پارٹیوں کا ''مک مکا'' عوام قبول نہیں کرینگے۔ طاہر القادری نے آئین کے مختلف آرٹیکلزکا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ خائن اور بددیانت شخص کو آئین الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دیتا لیکن جعلی ڈگریوں پر نااہل ہونیوالے3ماہ بعد پھر اسمبلیوں میں آگئے۔ عوام کا یہ سمندر فیصلہ کرے کہ ان سے جان چھڑانی ہے یا ملک کو انھی کے ہاتھوں گروی رکھنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہوا تو کیا ملک میں آئین کی حکمرانی ہے؟۔ حکومت کے اپنے ادارے اور اپنے لگائے گئے افسر ایڈمرل(ر) فصیح بخاری کا بیان ہے کہ روزانہ 10سے 12ارب جبکہ سالانہ 5000 ارب روپے کی کرپشن ہورہی ہے، اس کرپشن میں ہر ایم این اے شامل نہیں لیکن بھاری اکثریت انھی لوگوں کی ہے۔

قانون بنانے والے 342ارکان اسمبلی میں سے صرف90ارکان نے ٹیکس گوشوارے جمع کرائے جبکہ70فیصد ایم این ایز نے گوشوارے جمع نہیں کرائے حالانکہ جو انکم ٹیکس چھپائے اسکو 2 سال تک کی سزا ہے۔ ہمارے ارکان پارلیمنٹ لاء میکرز نہیں لاء بریکرز ہیں۔ جب یہ خود ٹیکس نہیں دیتے تو کیا انھیں پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا حق پہنچتا ہے؟۔ بجلی، گیس اور پانی کے بل ادا نہ کرنیوالا آئین کے تحت نااہل ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا کہنا تھا کہ آج استحصالی اور جاگیردارانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑنے کی تحریک کا آغاز ہورہا ہے، ہمارا مقصد سیاسی نظام سے غلاظت صاف کرنا ہے۔ حلف اٹھاتا ہوں کہ میرے جلسے کا مقصد سیاسی بساط کو لپیٹنا نہیں، نہ میرے پیچھے دنیاکا کوئی ملک یا کوئی ایجنسی ہے۔ سارے فیصلے عوام کی پارلیمنٹ میں ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اﷲ کوگواہ بناکرکہتا ہوں کہ تمام اخراجات کارکنوں نے ادا کیے، لوگ یہاں زیور اور پلاٹ بیچ کر پہنچے ہیں۔ غلط فہمیاں اور بدگمانی ختم کرکے لوگ میرا ایجنڈا سنیں، ہم پاکستان کو ایک نئے دور میں داخل کرنے جارہے ہیں۔ کسی فوجی مداخلت کیلیے نہیں آیا، مجھے منظور نہیں کہ میرے ملک کی کوئی کھڑکی بھی ٹوٹے، ہم تشدد اور تھوڑ پھوڑکی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔ انھوں نے عہد لیا کہ ہماری جدوجہد ہمیشہ پرامن ہوگی۔ جس طرح لاہورکا جلسہ پرامن ہوا، اسی طرح اسلام آبادکا اجتماع بھی پرامن ہوگا۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے پانچ بار حلف اٹھایا اور کہا کہ اﷲ کو گواہ بناکر کہتا ہوں کہ اس اجتماع کا مقصد آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے نہ جمہوریت کا خاتمہ۔




آرمی نے کبھی کسی ٹیک اوورکی کوشش کی تو سیاسی لیڈرورں سے پہلے میں اسے رکوانے کی کوشش کروں گا۔ایک موقع پر انھوں نے حاضرین سے پوچھاکہ اگر میں کہوں کہ نظام بدلنے تک مینار پاکستان گرائونڈ میں بیٹھے رہیں تو کیا بیٹھے رہیںگے؟ اگر میں کہوں کہ اسلام آباد مارچ کریں توکیا میرے ساتھ چلو گے؟۔ اس پر لوگوں نے ''ہاں'' میں جواب دیا۔ انھوں نے کہاکہ میں ان پارٹیوں کے ہاتھ کاٹنا چاہتا ہوں جو 5,5کروڑ روپے میں ٹکٹ فروخت کریں۔آج سارا سسٹم تباہ ہوچکا ہے۔ فوجی مداخلت روکنے کیلیے پارلیمنٹ کو صحیح انداز سے چلانا ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو 90دن میں الیکشن کرانا یاد رہتا ہے جبکہ آئین کے آرٹیکل 3،9،37اور38 کی(کلاز B) اور آرٹیکل 218 کی کلاز 3 کونظر انداز کردیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم وہ الیکشن قبول کریںگے جو آرٹیکل 213 کلاز 3 کے تحت ہوںگے۔ اعلیٰ عدلیہ آئین کے آرٹیکل 254 کو بھی پڑھے۔ این این آئی کے مطابق طاہر القادری کا کہنا تھا کہ آئین کے مطابق شفاف نظام کورائج کرنے کے لیے انتخابات میں بیشک 90روز سے زائد کا عرصہ بھی لگ جائے تو یہ غیر آئینی نہیں ہوگا، آئین میںلکھا ہے کہ90 روز میںانتخابات کرائے جائیں لیکن آئین میںیہ بھی لکھا ہے کہ 90 دن سے زائد بھی لگ جائیں تو یہ بھی غیر آئینی نہیں جسکی وجہ آرٹیکل 254ہے جس میںکہا گیا ہے کہ اگر کوئی کام مقررہ مدت میں ختم نہ ہو سکے تو تب بھی یہ خلاف آئین نہیں ہوگا۔طاہر القادری نے کہا کہ اصغرخان کیس میں صدر کو غیر جانبدار رہنے کا کہا گیا لیکن وہ غیرجانبدار نہیںہیں تو کیا یہ آئین کی خلاف ورزی نہیں؟ انقلابی تبدیلی لائے بغیر انتخابات ہوئے تو یہی گھوڑے جیت کر پارلیمنٹ میں آجائیںگے اور یہ مذاق قیامت تک چلتا رہے گا ۔

انھوں نے بین الاقوامی برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیںاپنی ریاست کو محفوظ بناناہے، اس کیلیے تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔ ہم انتخابی عمل میںاصلاح چاہتے ہیں، اگر ملک میںآئین کی بالا دستی نہ ہوئی تو ملالہ کی طرح کوئی بھی محفوظ نہیںہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ عوام فوجی مارشل لائوں کیخلاف لڑتی رہی، اب سیاسی مارشل لائوں کے خلاف بھی لڑے گی۔پاکستانی غیورقوم ہیں، میں امریکا سے لیکر جاپان تک پھیلے ہوئے اپنے پاکستانی بھائیوں اور کارکنوں کو کال دوں تو ہم 3سے6 ماہ میں ملکی قرضہ اتار سکتے ہیں ۔ جولوگ غلط فہمی کی بنیاد پر انتہا پسندی کی راہ پر چل پڑے ہیں، وہ بھی اس دھرتی کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے انتہا پسندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم عدل، انصاف اور اقدارکی بات کرو گے تو میں تمہارے ساتھ کھڑا ہوں۔

اگر مساجد، امام بارگاہوں کی حفاظت کی بات ہو گی تو تم میرا ساتھ دو گے۔ میں سیاست پریقین رکھتا ہوں اور مدینے کی ریاست کا قیام سیاست محمدی ؐ کا آغاز تھا ۔ حکومت پانچ سال میں غربت ختم کرنے میںناکام رہی۔ ایسی سیاست مسترد کرتے ہیں اور ہم کرپشن کا خاتمہ چاہتے ہیں ۔ایسی ریاست چاہتے ہیں جہاں غریب کو تحفظ ملے، پولیس رشوت نہ لے اور اسکے لیے ہمیں تنخواہوں میں چار گنا اضافہ بھی کرنا پڑے تو کریں گے ۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت ملک نہ صرف دہشت گردی کا شکار ہے بلکہ دہشت گردی کا ایکسپورٹر بھی بنا ہوا ہے۔ بالی بم دھماکوں میں ملوث شخص پاکستان سے گرفتار ہوتا ہے جبکہ پشاور ائیر بیس حملوں میں مارے جانے والوں کے جسم پرٹیٹو کندہ ہیںجو غیر ملکی ہاتھوں کے ملوث ہونے کا ثبوت ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق بلوچستان میں حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے جبکہ کراچی کے فیصلے میںبھی حکومت کو ناکام قرار دیا گیا ہے تو آئین کے مطابق انکے پاس حکومت کرنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ جو لوگ پانچ سال میں غربت، مہنگائی، بیروزگاری کا خاتمہ نہیں کر سکے ہم انھیں ایکشن ری پلے کی اجازت نہیں دیںگے۔ اب دھاندلی اور استحصال کا الیکشن نہیںہوگا۔ انھوں نے کہا کہ آئین کا آرٹیکل 3کہتا ہے کہ ریاست ہر قسم کا استحصال ختم کرے،آرٹیکل 9کہتا ہے کہ کسی بھی شہری کی جان و مال اورآزادی کو کوئی خطرہ نہیںہوگا جبکہ کمزور امیدوار اور انکے حمایتی انتخابات میں ڈرتے ہوئے حصہ نہیں لیتے۔ الیکشن کمشنرکے پاس قانونی اختیار نہیں کہ وہ لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دے سکے۔ آرٹیکل 37کے مطابق ریاست کی ذمے داری ہے کہ وہ لوگوںکو معاشی انصاف فراہم کرے ۔

کیا ان تمام برائیوں کا سوفیصد خاتمہ ہوچکا ہے؟۔ اگر نہیں تو انتخابات کاکوئی جواز نہیں۔ طاہر القادری نے کہا کہ میرے پاس قابل عمل ایجنڈا ہے جسکو نافذ کر کے قلیل مدت میں نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس پرعمل کر لیاجائے تو دیوانی مقدمات کا فیصلہ ایک ماہ جبکہ فوجداری مقدمات کافیصلہ 15 روز میں ہو جائے گا۔ ہم انتخابی عمل میںہرایک کے لیے ایک مخصوص کوٹہ رکھیں گے جس میں ہر شعبہ زندگی کے لوگوںکو نمائندگی ملے گی۔ صحافی، وکیل، کسان اور نوجوان منتخب ہوکر پارلیمنٹ میںجائیںگے ۔ انتخابی حلقوں میںکسی بھی پارٹی کا کیمپ نہیںلگانے دیں گے، انتخابات سرکاری عملہ فوج کی نگرانی میںکرائے گا اور انتخابات کے دنوںمیںپولیس افسران کو3 ماہ کے لیے دوسرے مقامات پرٹرانسفر کردیاجائے گا ۔
Load Next Story