تحریک انصاف کی پارلیمنٹ واپسی
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنیکا اعلان بلاشبہ جمہوری فیصلہ ہے
فوٹو؛ فائل
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جسے سیاسی اصطلاع میں خوش آیند موو قرار دیا جاسکتا ہے، انھوں نے کہا ہے کہ ہم وزیراعظم کے ایوان میں دروغ گوئی پر تحریک استحقاق اور تحریک التوا لائیں گے، درخواست کریں گے کہ وزیراعظم کے بیان پر ایوان میں بحث کرائی جائے، ادھر وزیراعظم نواز شریف کے خلاف قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے تحریک استحقاق جمع کرادی ہے جو وزیراعظم کے قومی اسمبلی کے فلور پر پاناما لیکس اور لندن فلیٹس کے بیان پر ہے، اس پر خورشید شاہ، نفیسہ شاہ، شازیہ مری ، نوید قمر اور اعجاز جھکرانی کے دستخط ہیں۔
جمہوریت کے روادارانہ ارتقا کا سب سے بڑا سچ پارلیمنٹ میں ہی بولا جا سکتا ہے۔ یہ بات عشروں قبل جس بھی رکن اسمبلی نے کی اس نے جمہوری روایات اور اقدار کی روشنی میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر مہر تصدیق ثبت کی ، کیونکہ یہی ادارہ قومی جمہوری امنگوں کا نقیب اور قانون سازی کا اہم ترین فورم ہے ، اس لیے سیاست دانوں کا پارلیمنٹ سے برگشتہ ہوکر سڑکوں پر آنا گناہ نہیں، ملکی سیاست احتجاجوں کی اپنی ایک تہلکہ خیز تاریخ رکھتا ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کو بھی احتجاج کا آئین نے حق دیا ہے، اس لیے آج اگر وہ اپنے اصل فورم سے رجوع کرتی ہے تواس میں تضحیک کا پہلو ڈھونڈنا مناسب نہیں، ساری سیاسی جماعتیں ایوان سے باہر مظاہرے کرچکی ہیں، ایوان سے باہر جاکر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا مقصد بھی عوام تک اپنی بات پہنچانا ہوتا ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین اور منتخب اراکین پر پارلیمنٹ میں واپسی کا دروازہ بند نہیں تھا اور نہ ہی اس واپسی کا مذاق اڑانا جمہوری عمل کے شایان شان ہے، بلکہ پارلیمنٹیرینز کو خوش ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف پولیٹیکل مین اسٹریم میں پلٹ آئی ہے۔
دنیا بھر کے منتخب اراکین پارلیمنٹ میں یہ جمہوری کشمکش ہر جگہ دیکھی گئی ہے جب کہ میڈیا ہی ہائیڈ پارک کی شعلہ بیانی اور پارلیمنٹ کے سنجیدہ خطاب کے درمیان فرق کو واضح کردیتا ہے۔ چرچل کا کہنا تھا کہ سچ پر ٹھوکر کھانا اور پھر گرکر سنبھلنا بھی ایک سیاسی عمل ہے ۔ اراکین پارلیمنٹ میں نوک جھونک ہوتی رہتی ہے، اطالوی وزیراعظم رومانی نے عہدہ چھوڑا تو برلسکونی کے اقتدار سنبھالنے کے وقت کہا کہ تم تو ڈیٹا کو اس طرح دل سے لگائے رکھتے ہو جس طرح کوئی شرابی بجلی کے پول سے چمٹ جاتا ہے۔ ملکی صورتحال پر ایک انگریزی معاصر میں تجزیہ نگار نے دلچسپ بات کی کہ نواز شریف کے لیے یہ خزاں کا حزن وملال کا موسم اگر نہیں ہے تو وہ اسے اپنی سیاسی طاقت کا موسم بہار بھی نہ سمجھیں۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنیکا اعلان بلاشبہ جمہوری فیصلہ ہے ، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ حکومتی بینچز اور اپوزیشن جماعتیں اس واپسی کا فراخدلی سے خیر مقدم کریں گی تاکہ ملک کو درپیش سیاسی مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ میں بحث ہو، پاناما لیکس کیس سمیت تمام قومی ایشوز پر تقاریر ہوں ، عمران نے سپریم کورٹ سے مایوسی کی بات ذاتی سیاق وسباق میں کہی ہوگی وہ کمیشن پر معترض ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کی آیندہ سماعت میں پیش ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ ہی اس کیس کی سماعت کرے اور فیصلہ دے۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر سیاسی تھی۔ اسی نکتہ کو وہ قومی اسمبلی میں اجاگر کرنے کے لیے آنے کے متمنی ہیں، عمران کا کہنا ہے کہ اب پتہ چلے گا پارلیمنٹ نوازشریف سے جواب طلب کریگی یا نہیں؟، کیا وزیراعظم کا احتساب ہوگا؟ اس ضمن میں گزشتہ روز عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں پاناما کیس کے حوالے سے آیندہ کا لائحہ عمل طے اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
دریں اثنا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے4مطالبات پر عملدرآمد کو آخری وارننگ سمجھے،27 دسمبر کے بعد وزیر اعظم کو اندازہ ہوجائیگا کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے ، نواز شریف عدالتوں کا سامنا کریں، وزیر اعظم نے ایوان میں کھڑے ہو کر خود کہا کہ پاناما پیپرز پر احتساب مجھ سے شروع کیا جائے، اپنے4 مطالبات ہر صورت تسلیم کروائیں گے ۔ یہ بات انھوں نے منگل کو بلاول ہاؤس میں پیپلزپارٹی کی کورکمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر ہم سیاسی رہنماؤں اور اپنے قارئین کی توجہ ایک خبر کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ بینکوں سے تفصیلات بھی طلب کی جارہی ہیں، خبر کے مطابق ایسے کھاتیدار جو اپنی دولت پر امارات یا اپنے آبائی ملک میں یکم جنوری تک ٹیکس کی معلومات فراہم نہیں کریں گے ان کی تفصیلات دنیا بھر میں شیئر کی جائیں گی۔ دبئی کے بینکوں نے کھاتیداروں کو نوٹس جاری کرنا بھی شروع کردیے ہیں۔ یہ ایک بریک تھرو اور چشم کشا پیش رفت ہے۔
جمہوریت کے روادارانہ ارتقا کا سب سے بڑا سچ پارلیمنٹ میں ہی بولا جا سکتا ہے۔ یہ بات عشروں قبل جس بھی رکن اسمبلی نے کی اس نے جمہوری روایات اور اقدار کی روشنی میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر مہر تصدیق ثبت کی ، کیونکہ یہی ادارہ قومی جمہوری امنگوں کا نقیب اور قانون سازی کا اہم ترین فورم ہے ، اس لیے سیاست دانوں کا پارلیمنٹ سے برگشتہ ہوکر سڑکوں پر آنا گناہ نہیں، ملکی سیاست احتجاجوں کی اپنی ایک تہلکہ خیز تاریخ رکھتا ہے، دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح تحریک انصاف کو بھی احتجاج کا آئین نے حق دیا ہے، اس لیے آج اگر وہ اپنے اصل فورم سے رجوع کرتی ہے تواس میں تضحیک کا پہلو ڈھونڈنا مناسب نہیں، ساری سیاسی جماعتیں ایوان سے باہر مظاہرے کرچکی ہیں، ایوان سے باہر جاکر اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھنے کا مقصد بھی عوام تک اپنی بات پہنچانا ہوتا ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین اور منتخب اراکین پر پارلیمنٹ میں واپسی کا دروازہ بند نہیں تھا اور نہ ہی اس واپسی کا مذاق اڑانا جمہوری عمل کے شایان شان ہے، بلکہ پارلیمنٹیرینز کو خوش ہونا چاہیے کہ تحریک انصاف پولیٹیکل مین اسٹریم میں پلٹ آئی ہے۔
دنیا بھر کے منتخب اراکین پارلیمنٹ میں یہ جمہوری کشمکش ہر جگہ دیکھی گئی ہے جب کہ میڈیا ہی ہائیڈ پارک کی شعلہ بیانی اور پارلیمنٹ کے سنجیدہ خطاب کے درمیان فرق کو واضح کردیتا ہے۔ چرچل کا کہنا تھا کہ سچ پر ٹھوکر کھانا اور پھر گرکر سنبھلنا بھی ایک سیاسی عمل ہے ۔ اراکین پارلیمنٹ میں نوک جھونک ہوتی رہتی ہے، اطالوی وزیراعظم رومانی نے عہدہ چھوڑا تو برلسکونی کے اقتدار سنبھالنے کے وقت کہا کہ تم تو ڈیٹا کو اس طرح دل سے لگائے رکھتے ہو جس طرح کوئی شرابی بجلی کے پول سے چمٹ جاتا ہے۔ ملکی صورتحال پر ایک انگریزی معاصر میں تجزیہ نگار نے دلچسپ بات کی کہ نواز شریف کے لیے یہ خزاں کا حزن وملال کا موسم اگر نہیں ہے تو وہ اسے اپنی سیاسی طاقت کا موسم بہار بھی نہ سمجھیں۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنیکا اعلان بلاشبہ جمہوری فیصلہ ہے ، اس لیے امید کی جانی چاہیے کہ حکومتی بینچز اور اپوزیشن جماعتیں اس واپسی کا فراخدلی سے خیر مقدم کریں گی تاکہ ملک کو درپیش سیاسی مسائل کے حل کے لیے پارلیمنٹ میں بحث ہو، پاناما لیکس کیس سمیت تمام قومی ایشوز پر تقاریر ہوں ، عمران نے سپریم کورٹ سے مایوسی کی بات ذاتی سیاق وسباق میں کہی ہوگی وہ کمیشن پر معترض ہونے کے باوجود سپریم کورٹ کی آیندہ سماعت میں پیش ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں، ان کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ ہی اس کیس کی سماعت کرے اور فیصلہ دے۔
ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر سیاسی تھی۔ اسی نکتہ کو وہ قومی اسمبلی میں اجاگر کرنے کے لیے آنے کے متمنی ہیں، عمران کا کہنا ہے کہ اب پتہ چلے گا پارلیمنٹ نوازشریف سے جواب طلب کریگی یا نہیں؟، کیا وزیراعظم کا احتساب ہوگا؟ اس ضمن میں گزشتہ روز عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں شاہ محمود قریشی اور دیگر پارٹی رہنماؤں نے شرکت کی، اجلاس میں پاناما کیس کے حوالے سے آیندہ کا لائحہ عمل طے اور پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
دریں اثنا پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ حکومت ہمارے4مطالبات پر عملدرآمد کو آخری وارننگ سمجھے،27 دسمبر کے بعد وزیر اعظم کو اندازہ ہوجائیگا کہ اپوزیشن کیا ہوتی ہے ، نواز شریف عدالتوں کا سامنا کریں، وزیر اعظم نے ایوان میں کھڑے ہو کر خود کہا کہ پاناما پیپرز پر احتساب مجھ سے شروع کیا جائے، اپنے4 مطالبات ہر صورت تسلیم کروائیں گے ۔ یہ بات انھوں نے منگل کو بلاول ہاؤس میں پیپلزپارٹی کی کورکمیٹی کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔
اس موقع پر ہم سیاسی رہنماؤں اور اپنے قارئین کی توجہ ایک خبر کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ٹیکس چوروں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ بینکوں سے تفصیلات بھی طلب کی جارہی ہیں، خبر کے مطابق ایسے کھاتیدار جو اپنی دولت پر امارات یا اپنے آبائی ملک میں یکم جنوری تک ٹیکس کی معلومات فراہم نہیں کریں گے ان کی تفصیلات دنیا بھر میں شیئر کی جائیں گی۔ دبئی کے بینکوں نے کھاتیداروں کو نوٹس جاری کرنا بھی شروع کردیے ہیں۔ یہ ایک بریک تھرو اور چشم کشا پیش رفت ہے۔