پارلیمنٹیرینز رول ماڈل بنیں

کرپشن نے ملک کو دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے تناظر میں ایک بڑے بحران سے دوچار کیا ہے

فوٹو: فائل

لاہور:
وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ دہشتگردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح اور ایمان کا حصہ ہے، غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک بحرانوں کا شکار ہوا۔ یہ بات انھوں نے اسلام آباد میں 40 ویں ایکسپورٹ ایوارڈ کی تقریب سے خطاب کے دوران کہی، انھوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ رونما ہونیوالے حادثات معمولی نہیں تھے، جب ہم حکومت میں آئے چیلنجز بے شمار تھے جن پر سخت محنت سے قابو پانے کی کوشش جا ری ہے۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ملکی سلامتی اور ترقی و استحکام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشتگردی ہے جس کے خاتمہ کے لیے پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور فاٹا کے ان علاقوں میں طالبان کے ریاست مخالف عناصر اور انتہا پسندوں کے ٹھکانوں اور نیٹ ورک کو تہس نہس کیا جو جنوبی و شمالی وزیرستان میں عقابوں کے نام نہاد نشیمن تھے اور طالبان کے حامی حلقے بزعم خود اسٹیبلشمنٹ کو ڈراتے تھے کہ طالبان کمانڈروں سے لڑائی انتہائی مہنگی ہو گی تاہم سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا قومی عسکری مشن تاریخی ہے، قبائلی عوام نے آپریشن کا خیرمقدم کیا، دہشتگردوں کی کارستانیوں کے باعث ہزاروں آئی ڈی پیز کی واپسی ممکن ہوئی، معمولات زندگی میں نہ صرف فاٹا بلکہ ملک کے دیگر شہروں اور دیہات میں بھی اس آپریشن کے دور رس اثرات محسوس کیے گئے۔

آج اللہ کے فضل و کرم سے دہشتگردی کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور اسی عزم کے ساتھ لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی بھی ضرورت ہے، اس کی شدت اگرچہ کم ہوئی ہے مگر کئی شہروں میں لوڈ شیڈنگ اذیت ناک ہے، جہاں تک دہشتگردی اور لوڈ شیڈنگ کے دہرے عذاب کا تعلق ہے اسے چیلنج سمجھنا اور اس سے نمٹنے کے لیے عسکری اور سیاسی قیادت کا جنگی بنیادوں پر کارروائی اور ٹھوس اقدامات کرنا ہر اعتبار سے لائق تحسین ہے، وزیراعظم کا یہ گلہ درست ہے کہ جنرل مشرف کے زمانے سے لوڈ شیڈنگ چلی آ رہی تھی مگر پی پی حکومت بھی اس سمت میں کوئی ٹھوس پالیسی وضع نہ کر سکی بلکہ صورتحال روز بروز بد سے بدتر ہوتی گئی، دوسری جانب دہشتگردی اور لوڈ شیڈنگ کے سماجی و اقتصادی اثرات بھی ہولناک نکلے چنانچہ دہشتگردی کے خلاف بلاامتیاز آپریشن حکومت کی جرأتمندی کہی جا سکتی ہے۔


ہمارے فوجی افسر و جوان اور ہزاروں شہری دہشت گردی کی نذر ہوئے جب کہ لوڈ شیڈنگ کی سختیوں کو جس استقامت سے عوام نے برداشت کیا ہے اسے بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، عام آدمی نے بری گورننس سے صدمات بھی بہت اٹھائے ہیں، کرپشن نے ملک کو دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے تناظر میں ایک بڑے بحران سے دوچار کیا ہے، نتیجتاً سپریم کورٹ پاناما لیکس کیس کی جنوری میں سماعت کریگی، الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ میں بھی بدعنوانی کے کیسز اور شکایات کے انبار لگے ہیں، ادھر صنعتی اور پیداواری یونٹوںکو بلا تعطل بجلی کی فراہمی اب بھی کسی چیلنج سے کم نہیں، تاہم یہ کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے جس نے سیاسی عسکری قیادت کے مابین حکمت عملی اور فکری و تزویراتی سطح پر مکمل ہم آہنگی کو یقینی بنایا لیکن ملکی افق پر داخلی و خارجی خطرات و خدشات کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو جوش کے بجائے ہوش سے کام لینا ہو گا۔

قبل ازیں بلوچستان کے شہر تربت میں وزیراعظم نے کہا کہ ملک و قوم کی ترقی کے لیے سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہوتی ہے، کچھ لوگ نوجوانوں میں ہیجان پیدا کر کے اقتدار تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، ایسے لوگ جن کاکام کیچڑاچھالنا ہو وہ قوم کی تعمیر نہیںکر سکتے، پاکستان کے عوام اب2018ء میںفیصلہ کرینگے کہ کون ان کی بہترخدمت کر رہاہے، آج پاکستان بہت بہتر حالت میں ہے، ملکی معیشت اپنے پاؤں پرکھڑی ہو رہی ہے۔ وہ بدھ کو یہاں 448 کلومیٹر طویل این 85 سوراب۔ ہوشاب شاہراہ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اﷲ خان زہری، گورنر محمد خان اچکزئی، وفاقی وزراء احسن اقبال، عبدالقادربلوچ، سینیٹر حاصل برنجو، کمانڈر سدرن کمان لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض، ڈی جی ایف ڈبلیو او لیفٹیننٹ جنرل محمدافضل بھی موجودتھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ انھیںبلوچستان میں سڑکوںکی تعمیر کے منصوبوںکی بے حد خوشی ہے۔ پاکستان کا یہ حصہ ترقی کے جس دورسے گزر رہا ہے اس کی مثال نہیںملتی۔ آج ایک نیا بلوچستان بن رہا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایک نیا پاکستان بن رہا ہے۔

فی زمانہ طاقت و استحکام کا منبع ہمہ گیر اقتصادی قوت سے لیس ریاستی ڈھانچہ مانا جاتا ہے، سیاسی بیانات کو زمینی حقائق سے مربوط رکھنے کی ضرورت ہے جب کہ یہ ایک ناقابل تردید اور المناک حقیقت ہے کہ قوم اول دن سے جمہوریت کے ایک شفاف نظام کی منتظر ہے جب کہ اسے حالیہ دھینگا مشتی اور انتشار کی سیاسی صورتحال سے ذہنی اذیت دی جا رہی ہے اس کی تکلیف کا اندازہ بھی سیاست دانوں کے ضمیر کے لیے سوالیہ نشان ہے، ملکی استحکام، قومی یکجہتی، سیاسی رواداری اور معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے کردار کی تعمیر کے لیے بھی حکمرانوں اور اپوزیشن رہنماؤں کو سوچنا چاہیے، پارلیمنٹیرینز نئی پود کے لیے رول ماڈل بنیں لیکن یہ اسی صورت ممکن ہے کہ سیاست کو عبادت سمجھا جائے، سیاست دان اپنے طرز عمل، سیاسی مباحث اور بیانات کی شائستگی سے نئی نسل کی تعمیر و تربیت کا اہتمام کریں تو یہ بڑی خدمت ہو گی۔
Load Next Story