پاک بھارت آبی تنازع اور ورلڈ بینک
عالمی بینک بھی بھارت کی ’’بلیک میلنگ‘‘ کا شکار ہوگیا ہے
۔ فوٹو: فائل
'جن پہ تکیہ تھا وہی پتے ہوا دینے لگے' یہ محاورہ پاکستان و بھارت کے درمیان آبی تنازع کے موقع پر عالمی بینک کے ثالثی سے پیچھے ہٹ جانے پر خوب صادق آرہا ہے۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد رواں برس جولائی میں عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا جب کہ بھارت نے اس تنازع کے حل کے لیے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کے تقرر کی درخواست کی تھی۔
اس موقع پر پاکستان میں ایک غلغلہ اٹھا تھا کہ عالمی بینک چونکہ طاس معاہدے میں ثالث کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے وہ بھارت کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیگا لیکن اس تناظر میں پاکستانی یہ بھول بیٹھے تھے کہ 'جس کی لاٹھی اس کی بھینس' یونہی نہیں کہا جاتا، عالمی طاقتیں ہوں یا دیگر مظاہر، جس جانب زور دکھائی دیتا ہے اسی کی طرفداری کی جاتی ہے، یوں لگتا ہی کہ عالمی بینک بھی بھارت کی ''بلیک میلنگ'' کا شکار ہوگیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازع کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو جنوری تک معاملات باہمی طور پر حل کرنے کی مہلت دی ہے، نیز ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ اس مسئلے کو مفاہمت سے اور سندھ طاس معاہدے کی رو کے مطابق حل کرسکیں۔
بجائے اس کے کہ دونوں ممالک مختلف راستے اختیار کریں جس سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدہ ناقابل عمل ہوجائیگا۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خزانہ کو خطوط کے ذریعے آگاہ بھی کردیا ہے۔ بھارت آبی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے نیلم پر 330 میگا واٹ کا کشن گنگا اور دریائے چناب پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کررہا ہے، قبل ازیں دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کیا جاچکا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔ پاکستان اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک پانی کے تنازع پر دوبارہ مذاکرات کی بحالی کو ترجیح دینگے جب کہ اس حوالے سے غور بھی شروع کردیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو یہ قابل اطمینان بات ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اظہر من الشمس ہے۔ کہیں بھارت کی عاقبت نااندیشی 'مستقبل کی جنگ، پانی پر' کے اندیشے کو حقیقت کا روپ نہ دے دے۔
اس موقع پر پاکستان میں ایک غلغلہ اٹھا تھا کہ عالمی بینک چونکہ طاس معاہدے میں ثالث کی حیثیت رکھتا ہے اس لیے وہ بھارت کو اپنی من مانی نہیں کرنے دیگا لیکن اس تناظر میں پاکستانی یہ بھول بیٹھے تھے کہ 'جس کی لاٹھی اس کی بھینس' یونہی نہیں کہا جاتا، عالمی طاقتیں ہوں یا دیگر مظاہر، جس جانب زور دکھائی دیتا ہے اسی کی طرفداری کی جاتی ہے، یوں لگتا ہی کہ عالمی بینک بھی بھارت کی ''بلیک میلنگ'' کا شکار ہوگیا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ ورلڈ بینک کے صدر نے سندھ طاس معاہدے پر آبی تنازع کے حل کے لیے غیر جانبدار ماہر یا چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور بھارت کو جنوری تک معاملات باہمی طور پر حل کرنے کی مہلت دی ہے، نیز ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کنگ نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ دونوں ممالک کے لیے ایک موقع ہے کہ اس مسئلے کو مفاہمت سے اور سندھ طاس معاہدے کی رو کے مطابق حل کرسکیں۔
بجائے اس کے کہ دونوں ممالک مختلف راستے اختیار کریں جس سے وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاہدہ ناقابل عمل ہوجائیگا۔ اس حوالے سے ورلڈ بینک نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خزانہ کو خطوط کے ذریعے آگاہ بھی کردیا ہے۔ بھارت آبی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دریائے نیلم پر 330 میگا واٹ کا کشن گنگا اور دریائے چناب پر 850 میگا واٹ رتلے پن بجلی منصوبہ تعمیر کررہا ہے، قبل ازیں دریائے چناب پر بگلیہار ڈیم تعمیر کیا جاچکا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو ایک بہترین مثال تصور کیا جاتا رہا ہے۔
بھارت اور پاکستان کے درمیان متعدد بار سیاسی کشیدگی کے باوجود بھی کسی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا۔ پاکستان اور بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک پانی کے تنازع پر دوبارہ مذاکرات کی بحالی کو ترجیح دینگے جب کہ اس حوالے سے غور بھی شروع کردیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہوتا ہے تو یہ قابل اطمینان بات ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اظہر من الشمس ہے۔ کہیں بھارت کی عاقبت نااندیشی 'مستقبل کی جنگ، پانی پر' کے اندیشے کو حقیقت کا روپ نہ دے دے۔