ایک درد ناک سانحہ کی یاد میں

آج کا دن قوم سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ دہشتگردوں کے لیے کوئی اپنے دل میں نرم گوشہ نہ رکھے

۔ فوٹو؛ فائل

16دسمبر2014 پاکستان کی درد انگیز تاریخ کا لہو رنگ دن ہے، یہ وہ دن ہے جب دہشتگردوں نے وارسک روڈ پشاور پر قائم آرمی پبلک اسکول پر حملہ کر کے معصوم بچوں کا قتل عام کیا، انھیں ذبح اور گولیوں سے چھلنی کیا جب کہ درندگی و سفاکیت کی انتہا کر دی ۔ اس سانحہ جانکاہ کو دنیا تا حیات یاد رکھے گی جس میں معصوم بچے اسکول اساتذہ و اسٹاف سمیت جرم بیگناہی میں دہشتگردوں اور انتہا پسندوں کے ہاتھوں شہید ہوئے، قاتل ریاست مخالف بھی تھے اور ملک میں بیگناہوں کے قتل کی لاتعداد دہشتگردانہ وارداتوں کے ذمے دار بھی۔ اس المناک واقعہ پر دنیا بھر میں شدید غم وغصہ، صدمے اور افسوس کا اظہار کیا گیا، امن پسند عالمی تنظیموں نے اس کی پر زور مذمت کی، ملک بھر کے تاجروں اور کاروباری حلقوں سمیت وکلا نے ہڑتال کی، طالبان کے ترجمان نے اس وحشیانہ واردات کو ضرب عضب اور خیبرون آپریشن کے خلاف اپنا جواب قراردیا تھا جب کہ صدر مملکت ممنون حسین اور وزیراعظم نواز شریف اور دیگر سیاسی قائدین نے اس کی سخت مذمت کی اور کہا کہ ہم اپنے بچوں کے خون کا حساب لیں گے۔

اس سانحہ کا روشن پہلو بھی کسی اہمیت سے کم نہ تھا، اس روز پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی، پاکستان تحریک انصاف نے ملک بند کرنے جب کہ عوامی تحریک اور جے یو آئی نے اپنے احتجاج ملتوی کیے ، نواز اور عمران ایک عزم کے ساتھ متحد نظر آئے کہ کسی دہشتگرد کو بچ کر نہیں جانے دیا جائے گا، اور اس عزم و عہد کی تکمیل اس وقت کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کی، انھوں نے کہا کہ دہشتگردوں نے قوم کے دل پر حملہ کیا ہے، ان کے خاتمہ تک پیچھا کریں گے جب کہ عملی صداقت یہ ہے کہ وفاق اور عسکری قیادت نے ملک گیر آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں کا ناطقہ بند کیا، ان کو چاروں صوبوں میں چن چن کر ہلاک کیا اور جو گرفتار ہوئے ان کی بڑی تعداد کو پولیس اور رینجرز نے تحویل میں لے کر قانون کے حوالے کیا ، ان کے کمانڈر مارے گئے جب کہ سہولت کاروں اور ان کے مالیاتی گٹھ جوڑ کو ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان جاری کیا۔

اسی پشاور سانحہ کے پس منظر میں کراچی کا رخ کرنے والے دہشتگردوں کا محاصرہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا، اور شہر قائد کو بھی فوج، رینجرز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کی مشترکہ کاشوں اور انتھک کوششوں سے امن نصیب ہوا جس کے لیے نئے آرمی چیف قمر جاوید باجوہ نے بھی گزشتہ دنوں اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردوں کے خلاف کراچی آپریشن جاری رہے گا، ان کہنا تھا کہ آرمی اسکول پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے، سانحہ کی دوسری برسی کے موقع پر اسی قسم کے جذبات کا اظہار مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین اور سماجی تنظیموں کی طرف سے کیا گیا۔ یہ حقیقت ہے کہ اے پی ایس سانحہ کے بعد عسکری قیادت نے آپریشن ضرب عضب کی وہ ضرب کاری رسید کی کہ تخریب کاروں کی کمر ٹوٹ گئی، ان کے خفیہ اور بظاہر مضبوط نیٹ ورک اور ٹھکانے تباہ ہو گئے ہیں، ان کی باقیات کا تعاقب ضروری ہے۔

یہ کامیابی تھی کہ جنوبی و شمالی وزیرستان حقیقت میں طالبان سے چھڑا لیا گیا ۔ ادھر نواز شریف اور عمران اپنے اختلافات بھلا کر دہشتگردوں کے خلاف ایک ہوگئے، ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان ہوا، وفاقی حکومت نے پارلیمانی جماعتوں کا ہنگاامی اجلاس طلب کیا، اس دن چشم فلک نے دہشت گردوں کے حملے میں اساتذہ و طلباء سمیت تقریباً 150 افراد شہید ہوتے دیکھے، اسکول پر جدید اسلحہ اور خود کش جیکٹس سے لیس 7 دہشتگرد اسکول کی عقبی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے، طلبہ پر اندھا دھند فائرنگ کی، جب کہ فورسز کی فائرنگ سے ایک زخمی حملہ آور نے کلاس روم میں داخل ہوکر خود کو دھماکا سے اڑا لیا، فورسز نے تمام دہشتگردوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا تھا لیکن شہید بچوں کے لواحقین کا غم آج بھی تازہ ہے۔


اگرچہ حساس اداروں نے مطلع کیا تھا کہ اے پی ایس حملے کی دوسری برسی کے موقع پر دہشت گرد پشاور سمیت ملک کے کسی بھی حصے میں کارروائی کرسکتے ہیں، تاہم مستعد فورسز نے ریڈ الرٹ جاری کردی تھی حساس اداروں کی اطلاع کے بعد آئی جی پنجاب مشتاق احمد سکھیرا نے تمام آرپی اوز، ڈی پی اوز کو سیکیورٹی اپ گریڈ کرنے کے احکامات بھی جاری کردیے اور سیکیورٹی کے حوالے سے مراسلہ جاری کر دیا گیا۔

یہ تسکین قلب کی اطلاعات ہیں کہ معصوم شہیدوں اور ہم سے جدا ہونے والوں کی یاد میں ملک کے مختلف شہروں میں تقاریب کے سلسلے جاری ہیں، کہیں ''امید سے وابستہ امن کا رستہ'' کے موضوع پر گرافٹی مقابلے ہوئے، اس سرگرمی کا مقصد سانحہ پشاور کے شہدا کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنا تھا، جب کہ دو سال پہلے اے پی ایس اسکول پشاور کے بچوں نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے امن کی ایک نئی کہانی تحریر کی، اس مقابلے میں نیشنل کالج آف آرٹس،کالج آف آرٹس اینڈ ڈیزائن پنجاب یونیورسٹی اور لاہور کالج فارویمن یونیورسٹی کے طلبا و طالبات نے حصہ لیا ۔طلبا و طالبات نے دیواروں پر سانحہ پشاور کے شہداء سے متعلق اپنے جذبات دیواروں پر عکسبند کیے۔

آج کے دن سانحہ اے پی ایس میں دیگر بچوں اور معلمات و عملہ کے ارکان کے علاوہ کلاس دہم کا طالب علم حسن زیب بھی دہشتگردوں کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے شہید ہوا تھا، حسن زیب اور ان کے بھائی موسی زیب دونوں ہی آرمی پبلک اسکول میں زیر تعلیم تھے، سانحہ کے روز جب دہشت گردوں نے آرمی پبلک اسکول پر حملہ کیا اور طلباء کو بیدردی سے قتل کرنا شروع کیا تو اس دوران موسیٰ زیب اسکول سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگیا تاہم موت حسن زیب کے تعاقب میں تھی اور وہ گولیاں لگنے سے شہادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہوگیا۔ اسکول کی خاتون پرنسپل نے بچوں کے لیے اپنی زندگی قربان کی۔ آرمی پبلک اسکول پشاور سانحہ میں شہید ہونے والے بچوں اور اساتذہ کی دوسری برسی کے موقع پر انھیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے چائلڈ رائٹس فورم کے زیراہتمام ریس کورس پارک لاہور میں شمعیں روشن کی گئیں اور روشن غبارے ہوا میں چھوڑے گئے۔

تقریب میں مختلف اسکولوں اور مدارس میں زیر تعلیم بچوں، سول سوسائٹی کے نمایندگان، این جی اوز کے نمایندگان اور عام شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شہداء آرمی پبلک اسکول پشاور کی یاد میں ریلی نکالی گئی' شمعیں روشن اور فاتحہ خوانی کی گئی۔ تفصیل کے مطابق رواداری تحریک ملتان' ملتان سول سوسائٹی نیٹ ورک کے زیراہتمام آرمی پبلک اسکول پشاور کے شہداء کی یاد میں ریلی نکالی گئی۔ امریکی سفیر رچرڈ اولسن نے سانحہ پشاور سے یک جہتی کے اظہار کے لیے خون کا عطیہ دیا تھا۔

آج کا دن قوم سے اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ دہشتگردوں کے لیے کوئی اپنے دل میں نرم گوشہ نہ رکھے، جو انسانیت کا دشمن ہے وہ پاکستان کا دشمن ہے۔ اس سبق کو آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کے باب مین ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔
Load Next Story