ینگ ڈاکٹرز کی ہڑتال

یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دنیا ابھی تک دہشت گردی کی کسی ایک تعریف پر متفق نہیں ہے

msuherwardy@gmail.com

RAWALPINDI:
یہ بات بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ دنیا ابھی تک دہشت گردی کی کسی ایک تعریف پر متفق نہیں ہے۔ طاقتور ممالک نے دہشتگردی کو اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا ہے۔ لیکن جہاں دہشتگردی کی تعریف پر اختلاف موجود ہے۔

وہاں دہشتگرد کی تعریف پر تقریبا اتفاق ہے۔ عمومی طور پر معصوم لوگوں کی جانوں سے بے رحمانہ طور پر کھیلنے والے کو دہشتگرد کہا جا تا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ آپ کا مقصد کتنا ہی مقدس اور جائز کیوں نہ ہو لیکن آپ اس کے حصول کے لیے معصوم و نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔ اسی لیے تحریک آزادی کی جدو جہد کرنے والے مجاہدین سے بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی منزل کے حصول کے لیے نہتے شہریوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔

حتیٰ کہ اب تو عالمی قوانین آپس میں جنگ کرنے والے دو ممالک کو بھی اس بات کا پابند کرتے ہیں کہ وہ شہری آبادی کے علاقوں کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔ جنگ میں بھی اسپتالوں کو بھی نشانہ نہیں بنا یا جاتا۔ ڈاکٹرز جنگ میں بھی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اسپتالوں میں فرائض انجام دیتے ہیں۔ میری اس ساری تمہید کا مقصد یہ بات ثابت کرنا ہے کہ دنیا میں تحریک آزادی کی جدو جہد اور دو ممالک کی جنگ میں بھی نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہے۔ اپنے کسی بھی مقصد کے لیے نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے ولا ہی دہشتگرد کہلاتا ہے۔ اسی تعریف کو درست مانتے ہوئے پاکستان میں خود کش حملہ کرنے والوں کو دہشتگرد قرار دیا گیا ہے۔کیونکہ ان کی اس کارروائی کے نتیجے میں نہتے معصوم شہری نشانہ بنتے ہیں۔ اس ضمن میں اس کے مقصد کا جائز ہونا بے معنی ہو جاتا ہے۔

اسی منطق کو درست مانتے ہوئے مختلف تنظیموں کو ان کی کارروائیوں کی بنیاد پر دہشت گرد اور ان کے کارکنوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن اگر یہ درست ہے تو کیا ینگ ڈاکٹرز کی تنظیم وائی ڈی اے کے ساتھ بھی ایسا لیبل نہیں لگایا جا سکتا ہے؟۔ ویسے بھی صرف خو د کش حملہ یا بم بلاسٹ ہی تو دہشتگردی نہیں ہوتا بلکہ ایسا کوئی عمل جس سے عام معصوم نہتے شہریوں کی جان کو خطرہ ہو وہ بھی دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔ کیا ینگ ڈاکٹرز ہڑتال کی کال سے نہتے معصوم شہریوں کی جان کو خطرہ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہے تو اسے کس نام سے پکارا جائے؟ اس ضمن میں حکومت کی خاموشی چہ معنی دارد۔

پاکستان میں ڈاکٹرز کی ہڑتال ایک فیشن بن گیا ہے۔ بلا شبہ یہ وبا لاہور سے شروع ہوئی لیکن پھر یہ ایک موذی مرض کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی۔ کراچی میں ڈاکٹرز ہڑتال کرتے ہیں۔ پشاور میں بھی ہڑتال کرتے ہیں اور کوئٹہ میں بھی ڈاکٹرز ہڑتال کرتے ہیں۔ اسلام آباد میں ڈاکٹرز ہڑتال کرتے ہیں۔ اس طرح ڈاکٹرز کی ہڑتال کے سامنے پاکستان کی چاروں صوبوں اور مرکزی حکومت ایک طرح سے بے بس نظر آرہی ہیں۔ ایسے ہی جیسے ضرب عضب سے پہلے پاکستان کی حکومت طالبان کے سامنے بے بس نظر آ رہی تھی۔ میں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ ڈاکٹرز کے مطالبات کس حد تک جائز اور نا جائز ہیں۔ تا ہم ان کی ہڑتال ایک طرح کی دہشتگردی ہی سمجھی جائے گی۔ اس ضمن میں کسی بھی قسم کی رعا یت مریضوں کے ساتھ زیادتی و ظلم ہے۔


آجکل ینگ ڈاکٹرز نے پھر پنجاب میں ہڑتال کی ہوئی ہے۔ حکومت اس ہڑتال کے ساتھ نرمی سے نبٹنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جب ارباب اقتدار سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نرمی کیوں کر رہے ہیں تو وہ وہ کہتے ہیں سختی کریں گے تو اسپتال مکمل طور پر بند ہو جائیں گے۔

یہ کیا خوف ہے۔ مجھے دکھ اس بات کا ہے کہ نہ تو حکومت پنجاب اور نہ ہی ینگ ڈاکٹرز اس ایک مریض کی ذمے داری قبول کرنے کو تیار ہیں جو اس ہڑتال کی وجہ سے علاج کی بنیادی سہولت سے محروم رہ جاتا ہے۔ حکومت پنجاب نے ایک ڈاکٹر کو گزشتہ ہڑتال کی بنا پر نوکری سے نکالا ہی ہے تو عدالت کے ریمارکس آئے ہیں کہ کیا ہڑتال کرنے کی وجہ سے ڈاکٹر کا کیریئر ختم کیا جا سکتا ہے۔میری رائے ہے کہ جی ہاں اگر کوئی ڈاکٹر ہڑتال کرے تو نہ صرف اس کا کیریئر ختم کیا جا سکتا ہے بلکہ اس کے خلاف ضابطہ فوجداری کے تحت بھی کاروائی ہونی چاہیے۔ اس ضمن میں کسی قسم کی رعایت نہیں ہونی چاہیے۔ایک طرف دنیا بھر میں ڈاکٹرز جنگوں میں بھی فرائض انجام دینے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں اور دوسری طرف ہمارے یہ ڈاکٹرز کسی مریض کے لواحقین کے ساتھ جھگڑے کے ایک واقعہ کو بنیاد بنا کر ہڑتال کر دیتے ہیں۔

جناب شہباز شریف کو سمجھنا ہو گا کہ انھوں نے ینگ ڈاکٹرز کے ساتھ نرمی کی جو پالیسی گزشتہ پانچ سال سے بنائی ہوئی ہے اس کے کوئی ثمرات عوام تک نہیں پہنچے بلکہ ان ینگ ڈاکٹرز کے مطالبات اور ہڑتال کی وجوہات روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ ایک مطالبہ کے بعد دوسرا مطالبہ۔ ایک ہڑتال کے بعد دوسری ہڑتال۔ میری شہباز شریف اور عدالت عالیہ سے بھی گزارش ہے کہ وہ ان ہڑتالوں کو مریضوں کے حقوق کے تناظر میں دیکھیں۔

آجکل ایک مرتبہ پھر فوج اور حکومت کے ایک پیج پر ہونے کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔ فوج میںایک لمبے تقرر و تبادلوں کے بعد نئی ٹیم سامنے آئی ہے۔ میری شہباز شریف سے گزارش ہے کہ ہڑتالی ڈاکٹرز سے نبٹنے کے لیے بھی فوج کی مدد لینے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ویسے بھی اب آئی ایس پی آر میں میجر جنرل آصف غفور آ گئے ہیں جو اس سے پہلے مالاکنڈ میں ایک کامیاب آپریشن کی کمانڈ کر رہے تھے۔ ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف میڈیا میں ایک بھر پور مہم چلانے کی ضرورت ہے تا کہ اصل صورت حال عوام کے سامنے آ سکے۔ جس میں بہر حال حکومت پنجاب کو فوج کی مدد درکار ہو گی۔ ان کے خلاف بھی آئی اس پی آر کی مدد سے ایک گانا بننا چاہیے جس میں یہ بتایا جائے کہ یہ ہڑتالی ڈاکٹرز کیسے اپنے ذاتی مقاصد کے لیے نہتے و معصوم شہریوں کی جانوں سے کھیلتے ہیں۔

میں آخر میں شہباز شریف سے پھر گزارش کرتا ہوں کہ وہ ان ہڑتالی ڈاکٹرز کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کی پالیسی کو دو ٹوک طور پر ختم کرنے کا اعلان کریں ۔ اور یہ واضح کریں کہ ان سے ہڑتال کے دوران کوئی مذاکرات نہ ہونگے۔ جبتک وہ یہ نہیں کریں گے' پنجاب کے اسپتال ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ اور آپ یہ بھی مانیں جب تک ہم پنجاب کے ڈاکٹر ٹھیک نہیں کریں گے تب تک ملک کے باقی صوبوں کے ڈاکٹر بھی ٹھیک نہیں ہو نگے۔
Load Next Story