پاک بھارت آبی تنازعہ
بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں پر تسلسل سے بیراج اور ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔
پاکستان کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر پر اعتراضات ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا تنازع موجود ہے' قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہ حل نہیں ہوسکا۔ اس تنازعے کو پاک بھارت تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کہا جاتا ہے، یہ بات درست بھی ہے کیونکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جو جنگیں لڑی گئیں ، اس کی تہہ میں یہی تنازعہ موجود تھا لیکن اس کے علاوہ پانی کے معاملات بھی ایسے ہیں جنھیں خوش اسلوبی سے طے نہ کیا گیا تو پاک بھارت تعلقات خراب ہو سکتے ہیں کیونکہ دنیا کی تاریخ بتاتی ہے کہ ماضی میں مختلف قوموں کے درمیان پانی کے مسئلے پر بڑی بڑی جنگیں ہوئی ہیں۔ پانی زندگی اور موت کا مسئلہ ہوتا ہے۔
بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں پر تسلسل سے بیراج اور ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ ان آبی منصوبوں کے باعث اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے دریاؤں میں پانی کم ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دریاؤں میں پانی کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں زیرزمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔یوں آنے والے وقت میں یہ صورت حال انتہائی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر پر اعتراضات ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت یہ ڈیم تعمیر کر کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کوتنبیہ کی ہے کہ شمالی کشمیر کے تلبل یا وولر بیراج پروجیکٹ پرتعمیراتی کام بند کر دیا جائے،ورنہ مذاکراتی عمل متاثر ہوگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈس واٹر ٹریٹی اورپاکستانی بجلی و پانی کی وزارت کے کمشنر نے بھارتی ہم منصب ارنگا ناتھن کوایک خط ارسال کیا ہے،جس میں انھیں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے اس پراجیکٹ پر کام بند کرانے کے لیے کہا گیاہے۔
اخبارات میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق انھوں نے خط میں لکھاکہ 27اور28مارچ کومتنازع منصوبے پرمذاکرات کے دوران اتفاق ہواتھا کہ بھارت اس معاملے پر پاکستان کواضافی تکنیکی تفصیل دے گاتاہم اس نے ایساکرنے کے بجائے کام پھرشروع کردیاجومفاہمتی اور مذاکراتی عمل کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں زیر تعمیر کشن گنگا بجلی پروجیکٹ کا معاملہ عالمی عدالت تک پہنچایا ہے جوزیر سماعت ہے ۔قبل ازیں بگلیہار ڈیم کے متعلق بھی اسی عدالت نے فیصلہ دیاتھا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اس حوالے سے پاکستان کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دے رہا۔ کشن گنگا پراجیکٹ پر صورت حال بند گلی میں داخل ہوئی اور آخرکار پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانا پڑا۔
اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی معاملات پر خوشگوار پیش رفت ہو رہی ہے' دونوں ملکوں نے نئے ویزا معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں' اس سے سفری آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاملات بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا عمل ہے دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کریں اور بلا روک ٹوک آنا جانا ہو۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اب تک جو اچھے اقدامات کر رہی ہیں تنازعات کی موجودگی میں کسی بھی وقت ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ معاملات وہیں پہنچ جائیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ لہٰذا پانی کے تنازعات کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ بھارتی قیادت کو چاہیے کہ وہ پانی کے تنازعات پر پاکستان کو دیوار سے نہ لگائے۔ دریائی پانی کے معاملات تنا زع کشمیر سے کسی صورت کم نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات کے قیام کے لیے جہاں تنازع کشمیر کا حل ضروری ہے وہاں آبی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنا بھی ضروری ہے۔
بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں پر تسلسل سے بیراج اور ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔ ان آبی منصوبوں کے باعث اس وقت صورت حال یہ ہے کہ پاکستان کے دریاؤں میں پانی کم ہو گیا ہے جس کے نتیجے میں زرعی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔ دریاؤں میں پانی کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں زیرزمین پانی کی سطح بھی مسلسل گر رہی ہے۔یوں آنے والے وقت میں یہ صورت حال انتہائی سنگین صورت اختیار کر سکتی ہے۔ پاکستان کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ڈیموں اور بیراجوں کی تعمیر پر اعتراضات ہیں۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت یہ ڈیم تعمیر کر کے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت کوتنبیہ کی ہے کہ شمالی کشمیر کے تلبل یا وولر بیراج پروجیکٹ پرتعمیراتی کام بند کر دیا جائے،ورنہ مذاکراتی عمل متاثر ہوگا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈس واٹر ٹریٹی اورپاکستانی بجلی و پانی کی وزارت کے کمشنر نے بھارتی ہم منصب ارنگا ناتھن کوایک خط ارسال کیا ہے،جس میں انھیں پاکستان کی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے اس پراجیکٹ پر کام بند کرانے کے لیے کہا گیاہے۔
اخبارات میں شایع ہونے والی خبر کے مطابق انھوں نے خط میں لکھاکہ 27اور28مارچ کومتنازع منصوبے پرمذاکرات کے دوران اتفاق ہواتھا کہ بھارت اس معاملے پر پاکستان کواضافی تکنیکی تفصیل دے گاتاہم اس نے ایساکرنے کے بجائے کام پھرشروع کردیاجومفاہمتی اور مذاکراتی عمل کی خلاف ورزی ہے۔ پاکستان نے شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع میں زیر تعمیر کشن گنگا بجلی پروجیکٹ کا معاملہ عالمی عدالت تک پہنچایا ہے جوزیر سماعت ہے ۔قبل ازیں بگلیہار ڈیم کے متعلق بھی اسی عدالت نے فیصلہ دیاتھا۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارت اس حوالے سے پاکستان کے اعتراضات کو اہمیت نہیں دے رہا۔ کشن گنگا پراجیکٹ پر صورت حال بند گلی میں داخل ہوئی اور آخرکار پاکستان کو عالمی عدالت انصاف میں جانا پڑا۔
اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کئی معاملات پر خوشگوار پیش رفت ہو رہی ہے' دونوں ملکوں نے نئے ویزا معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں' اس سے سفری آسانیاں پیدا ہو جائیں گی۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی معاملات بھی آگے بڑھ رہے ہیں۔ یہ ایک اچھا عمل ہے دونوں ملکوں کے عوام چاہتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کاروبار کریں اور بلا روک ٹوک آنا جانا ہو۔ پاکستان اور بھارت کی حکومتیں اب تک جو اچھے اقدامات کر رہی ہیں تنازعات کی موجودگی میں کسی بھی وقت ایسی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے کہ معاملات وہیں پہنچ جائیں جہاں سے شروع ہوئے تھے۔ لہٰذا پانی کے تنازعات کو بھی خوش اسلوبی سے حل کیا جانا انتہائی ضروری ہے۔ بھارتی قیادت کو چاہیے کہ وہ پانی کے تنازعات پر پاکستان کو دیوار سے نہ لگائے۔ دریائی پانی کے معاملات تنا زع کشمیر سے کسی صورت کم نہیں ہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار تعلقات کے قیام کے لیے جہاں تنازع کشمیر کا حل ضروری ہے وہاں آبی معاملات کو خوش اسلوبی سے طے کرنا بھی ضروری ہے۔