سبسڈی پر ٹیکس ایف بی آر اور بجلی کمپنیوں میں نیا تنازع مقدمے بازی شروع
ڈسکوز کا بجلی پرسبسڈی کو فروخت ماننے سے انکار،ایف بی آر نے بعض فرمزکے اکاؤنٹ سے رقوم نکلوالیں
کمپنیاں ٹریبونل چلی گئیں، وزارت پانی وبجلی نے فنانس منسٹری کوحل کی درخواست کردی،لاڈویژن سے رائے لے کرفیصلہ ہوگا، ذرائع۔ فوٹو: فائل
بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) نے عوام کوبجلی پر سبسڈی پر سیلز ٹیکس کی مد میں اربوں روپے کے واجبات ادا کرنے سے انکار کرتے ہوئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو ٹیرف ڈیفرنشل کلیمز کی مد میں سبسڈی پر سیلز ٹیکس وصولی روکنے کی درخواست کردی ہے۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کودستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاور سیکٹر پر ٹیکسوں کے حوالے سے جاری تنازعات کے بارے میں قانونی رائے لینے کے لیے وزارت قانون سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایف بی آر اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ٹیکس تنازعات پر مقدمے بازی کو ختم کیا جا سکے اور باہمی اتفاق سے معاملات کو طے کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے سیلز ٹیکس واجبات کی مد میں اربوں روپے کی ڈیمانڈ کی ہے اور عدم ادائیگی پر متعدد کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جا چکے ہیں، بعض کے کھاتوں سے رقوم بھی نکلوائی گئی ہیں اور یہ تمام معاملات مختلف قانونی فورمز پر مقدمے بازی کا شکار ہیں، اب وزارت پانی و بجلی کی جانب سے خزانہ ڈویژن سے رجوع کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ ایف بی آر اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان جاری تنازعات کو حل کرایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی پرٹیرف ڈیفرنشل کلیم کی مد میں سبسڈی پر سیلز ٹیکس کی مد میں ایف بی آر کو اربوں روپے واجبات ادا کرنے سے انکار کردیا ہے، ایف بی آر کی جانب سے ان کمپنیوں سے بجلی پر ٹیرف ڈیفرنشل کلیم سبسڈی پر 17فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنے کا کہا جارہا ہے اور عدم ادائیگی پر ٹیکس واجبات ڈیمانڈ کیے جارہے ہیں۔
دستاویز کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سماجی وسیاسی پالیسی کے تحت کیے جانے والے فیصلوں کے مطابق ٹیرف ڈیفرنشل کلیم سبسڈی دی جارہی ہے جو صارفین کے لیے ہے اور یہ کمپنیوں کی مجموعی فروخت کا حصہ نہیں ہوتی جبکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق 2(46)کے تحت 17 فیصد سیلز ٹیکس کا اطلاق خریدو فروخت کی سرگرمیوں پر ہوتا ہے، اس حوالے سے بعض کمپنیوں نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو سے بھی رجوع کیا ہے اور اس میں ایپلٹ ٹربیونل کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حق میں فیصلہ دیا گیا ہے لہٰذا خزانہ ڈویژن اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ٹیرف ڈیفرنشل کلیم کی مد میں صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کمپنیوں کی مجموعی سیل کا حصہ نہیں ہوتی، اس لیے بجلی پر سبسڈی کی رقم پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصولی روکی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم نے ان معاملات پر لا ڈویژن سے قانونی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے اور لا ڈویژن کی رائے کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
اس ضمن میں ''ایکسپریس'' کودستیاب دستاویز کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے پاور سیکٹر پر ٹیکسوں کے حوالے سے جاری تنازعات کے بارے میں قانونی رائے لینے کے لیے وزارت قانون سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ایف بی آر اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان ٹیکس تنازعات پر مقدمے بازی کو ختم کیا جا سکے اور باہمی اتفاق سے معاملات کو طے کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے سیلز ٹیکس واجبات کی مد میں اربوں روپے کی ڈیمانڈ کی ہے اور عدم ادائیگی پر متعدد کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس بھی منجمد کیے جا چکے ہیں، بعض کے کھاتوں سے رقوم بھی نکلوائی گئی ہیں اور یہ تمام معاملات مختلف قانونی فورمز پر مقدمے بازی کا شکار ہیں، اب وزارت پانی و بجلی کی جانب سے خزانہ ڈویژن سے رجوع کرتے ہوئے کہا گیاہے کہ ایف بی آر اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے درمیان جاری تنازعات کو حل کرایا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجلی پرٹیرف ڈیفرنشل کلیم کی مد میں سبسڈی پر سیلز ٹیکس کی مد میں ایف بی آر کو اربوں روپے واجبات ادا کرنے سے انکار کردیا ہے، ایف بی آر کی جانب سے ان کمپنیوں سے بجلی پر ٹیرف ڈیفرنشل کلیم سبسڈی پر 17فیصد سیلز ٹیکس ادا کرنے کا کہا جارہا ہے اور عدم ادائیگی پر ٹیکس واجبات ڈیمانڈ کیے جارہے ہیں۔
دستاویز کے مطابق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا موقف ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے سماجی وسیاسی پالیسی کے تحت کیے جانے والے فیصلوں کے مطابق ٹیرف ڈیفرنشل کلیم سبسڈی دی جارہی ہے جو صارفین کے لیے ہے اور یہ کمپنیوں کی مجموعی فروخت کا حصہ نہیں ہوتی جبکہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کی شق 2(46)کے تحت 17 فیصد سیلز ٹیکس کا اطلاق خریدو فروخت کی سرگرمیوں پر ہوتا ہے، اس حوالے سے بعض کمپنیوں نے ایپلٹ ٹربیونل ان لینڈ ریونیو سے بھی رجوع کیا ہے اور اس میں ایپلٹ ٹربیونل کی جانب سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے حق میں فیصلہ دیا گیا ہے لہٰذا خزانہ ڈویژن اس معاملے میں اپنا کردار ادا کرے کیونکہ ٹیرف ڈیفرنشل کلیم کی مد میں صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کمپنیوں کی مجموعی سیل کا حصہ نہیں ہوتی، اس لیے بجلی پر سبسڈی کی رقم پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصولی روکی جائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزارت خزانہ اور وزارت پٹرولیم نے ان معاملات پر لا ڈویژن سے قانونی رائے لینے کا فیصلہ کیا ہے اور لا ڈویژن کی رائے کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔