کراچی میں مردم شماری کے بغیر حلقہ بندیاں چیلنج متحدہ نے درخواست دائر کر دی
سپریم کورٹ اپنے احکام پرنظرثانی کرے،آئین کے تحت پہلے مردم شماری ضروری ہے،فاروق ستار۔
کراچی: متحدہ کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار سپریم کورٹ رجسٹری کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
متحدہ قومی موومنٹ نے سپریم کورٹ کی جانب سے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کے حکم کے خلاف سپریم نظرثانی کی درخواست دائرکردی ہے۔
پیرکو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے نظرثانی کی درخواست جمع کرائی اور وفاقی وزارت خزانہ،صوبائی کمشنرمردم شماری اور الیکشن کمیشن سمیت دیگرکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا حکم دیا ہے جو کہ نئی مردم شماری کے بغیرممکن نہیں، یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے،درخواست گزارکے مطابق ملک میں آخری مردم شماری 1998ء میں کی گئی تھی جس کے بعد2002ء میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں ، ان حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ملک میں بلدیاتی اور 2مرتبہ عام انتخابات ہوچکے ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پرحلقہ بندیوں کامعاملہ ایک بند باب کی حیثیت رکھتا ہے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ان حلقہ بندیوں کے خلاف کوئی درخواست نہیں، ایسی صورت میں عدالت عظمیٰ نے کیسے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت محسوس کی؟۔ درخواست گزار کے مطابق آئین کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری ضروری ہے اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے بھی24نومبرکویہی موقف اختیارکیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے قبل مردم شماری آئینی ضرورت ہے، تاہم فاضل عدالت نے 26نومبرکو اس موقف کومسترد کردیا اور 28نومبرکو سیکریٹری الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اورعدالت کی ہدایت پرحلقہ بندیوں کے عمل میں تیزی شروع کردی ،درخواست گزارکے مطاق نئی مردم شماری کے بغیرحد بندیوں کا عمل جس کا مقصد حلقہ بندیوں میں مساوات پیدا کرنا ہے لاحاصل ہوگا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے۔
سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے امور اوراختیارات میں مداخلت کی مجاز نہیں، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فاضل عدالت 26 اور 28 نومبر 2012 کے احکامات پرنظرثانی کرے اوراسے واضح کردینا چاہیے کہ مردم شماری کے بغیرحلقہ بندیوں کوعمل نہیں ہوسکتا،دریں اثنا ڈاکٹرفاروق ستار نے پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی مردم شماری کے بغیرکراچی میں حلقہ بندیاں آئین کی خلاف ورزی، امتیازی سلوک اورایم کیو ایم کے مینڈیٹ کودیوارسے لگانے کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئین کے احکامات واضح ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے،سپریم کورٹ نے ایک سال قبل یہ فیصلہ دیا تھا تاہم الیکشن کمیشن اس پرعمل درآمد کے بجائے خاموش رہا، ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی گئی مگرسپریم کورٹ خود محسوس کرلیا کہ نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے جبکہ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا تاوقت کہ مردم شماری نہ ہوجائے،اگر نئی حلقہ بندیاں مقصود ہیں توکراچی میں ہی کیوںآئین کے مطابق پورے ملک میںکی جائیں۔
پیرکو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر فاروق ستار نے نظرثانی کی درخواست جمع کرائی اور وفاقی وزارت خزانہ،صوبائی کمشنرمردم شماری اور الیکشن کمیشن سمیت دیگرکوفریق بناتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ کراچی بدامنی ازخود نوٹس کیس میں سپریم کورٹ نے کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا حکم دیا ہے جو کہ نئی مردم شماری کے بغیرممکن نہیں، یہ فیصلہ آئین سے متصادم ہے،درخواست گزارکے مطابق ملک میں آخری مردم شماری 1998ء میں کی گئی تھی جس کے بعد2002ء میں نئی حلقہ بندیاں کی گئیں ، ان حلقہ بندیوں کی بنیاد پر ملک میں بلدیاتی اور 2مرتبہ عام انتخابات ہوچکے ہیں۔
ان وجوہات کی بنا پرحلقہ بندیوں کامعاملہ ایک بند باب کی حیثیت رکھتا ہے، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ان حلقہ بندیوں کے خلاف کوئی درخواست نہیں، ایسی صورت میں عدالت عظمیٰ نے کیسے نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت محسوس کی؟۔ درخواست گزار کے مطابق آئین کے تحت نئی حلقہ بندیوں کے لیے مردم شماری ضروری ہے اس حوالے سے الیکشن کمیشن نے بھی24نومبرکویہی موقف اختیارکیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں سے قبل مردم شماری آئینی ضرورت ہے، تاہم فاضل عدالت نے 26نومبرکو اس موقف کومسترد کردیا اور 28نومبرکو سیکریٹری الیکشن کمیشن سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اورعدالت کی ہدایت پرحلقہ بندیوں کے عمل میں تیزی شروع کردی ،درخواست گزارکے مطاق نئی مردم شماری کے بغیرحد بندیوں کا عمل جس کا مقصد حلقہ بندیوں میں مساوات پیدا کرنا ہے لاحاصل ہوگا، درخواست میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن خود مختار ادارہ ہے۔
سپریم کورٹ الیکشن کمیشن کے امور اوراختیارات میں مداخلت کی مجاز نہیں، درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ فاضل عدالت 26 اور 28 نومبر 2012 کے احکامات پرنظرثانی کرے اوراسے واضح کردینا چاہیے کہ مردم شماری کے بغیرحلقہ بندیوں کوعمل نہیں ہوسکتا،دریں اثنا ڈاکٹرفاروق ستار نے پیر کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں نظرثانی کی اپیل دائر کرنے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نئی مردم شماری کے بغیرکراچی میں حلقہ بندیاں آئین کی خلاف ورزی، امتیازی سلوک اورایم کیو ایم کے مینڈیٹ کودیوارسے لگانے کے مترادف ہے۔
انھوں نے کہا کہ آئین کے احکامات واضح ہیں ان پر عمل ہونا چاہیے،سپریم کورٹ نے ایک سال قبل یہ فیصلہ دیا تھا تاہم الیکشن کمیشن اس پرعمل درآمد کے بجائے خاموش رہا، ڈاکٹرفاروق ستار نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی درخواست نہیں دی گئی مگرسپریم کورٹ خود محسوس کرلیا کہ نئی حلقہ بندیوں کی ضرورت ہے جبکہ آئین اس کی اجازت نہیں دیتا تاوقت کہ مردم شماری نہ ہوجائے،اگر نئی حلقہ بندیاں مقصود ہیں توکراچی میں ہی کیوںآئین کے مطابق پورے ملک میںکی جائیں۔