طاہرالقادری کالانگ مارچ سمجھ سےبالاترہےالیکشن مؤخرنہیں ہونے دینگےعمران خان
حکومت میں بیٹھے لوگ پیسے بنارہے ہیں، ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے لیے نیا این آر او لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پاکستان کو بچانے کیلیے قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگی بصورت دیگر ملک ترقی نہیں کرسکے گا، عمران خان۔ فوٹو : این این آئی
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے نوجوان قیادت کوسامنے لانے کیلیے عام انتخابات میں 25 فیصد ٹکٹ 35سال سے کم عمرافراد کودینے کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت میں بیٹھے ہوئے لوگ پیسے بنارہے ہیں اور قوم تباہ ہورہی ہے۔
پاکستان کو بچانے کیلیے قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگی بصورت دیگر ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے لیے اسمبلی سے ایک نیا این آر او لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم خاندانی سیاست ختم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے انتخابات کا سال ہونے کے باوجود پارٹی الیکشن کرارہے ہیں۔ وہ پیرکو ہائی کورٹ بار حیدرآباد میں وکلا سے خطاب کررہے تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے مسلح ونگ پالے ہوئے ہیں، جب مجرموں کو پولیس سے تحفظ دلایا جائے گا تو سندھ میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ان معاشروں نے کبھی ترقی نہیں کی جہاں قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوسکی۔حکومت کی بنائی ہوئی نیب کا کہنا ہے کہ ملک کو کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے جس دن کرپشن پر قابو پالیا اور اسمبلیوں میں بیٹھے ٹیکس چوروں کو نکال کر جیلوں میں ڈال دیا تو اسی روز سے پاکستان ترقی کرنے لگے گا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سرمایہ کار بنگلا دیش، ملائیشیا اور دبئی جارہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں بے روزگاروں کی ایک فوج تیار ہورہی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں نے کہا کہ پارٹی میں الیکشن کرانے سے آپ کی پارٹی ٹوٹ جائے گی لیکن ہم نے کہا کہ ہمیں تحریک انصاف کو ایک جمہوری پارٹی بنانا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ جمہوری پارٹی پاکستان میں حقیقی جمہوریت قائم کرے گی۔
دریں اثنا دادو اور میہڑ میں عوامی اجتماعات سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ دہرے نظام سے سندھ تقسیم ہورہاہے، پورے صوبے میں ایک طرح کا نظام ہونا چاہیے۔کراچی سے لیکر بلوچستان تک پوریملک میں دہشت گردی ہورہی ہے، تحریک انصاف جانتی ہے کہ دہشت گردی کیسے ختم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ طاہرالقادری نے جوبات بھی کی وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن تبدیلی صرف الیکشن سے ہی آئے گی ۔الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومت مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہاکہ تبدیلی کیلیے تحریک انصاف کی جدوجہدکاسونامی جاری ہے،سندھی عوام اورنوجوانوں کاساتھ رہاتو زرداری اورنوازشریف کوبہا لے جائوں گا۔ ہماری حکومت میں انتقامی کارروائیاں نہیں ہوں گی، تھانوں میں انصاف ملے گا۔
انھوں نے کہاکہ مولانا طاہر القادری کا اسلام آباد تک لانگ مارچ سمجھ سے بالا تر ہے مگرکسی بہانے حکومت کو انتخابات موخریادھاندلی نہیں کرنے دی جائے گی۔ سندھ میں دہرابلدیاتی نظام قبول نہیں کیا جائیگا، کالا باغ ڈیم صوبوں کی رضامندی کے بغیرنہیں بنناچاہیے، زرداری لیگ اورنواز لیگ آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ سندھیوں نے پی پی کوہرانتخابات میں کامیاب کرایا لیکن اس نے بے وفائی کی،سندھ میں دہرابلدیاتی نظام رائج کرکے کراچی دہشت گردوں کے حوالے کردیاگیا ۔
پاکستان کو بچانے کیلیے قانون کی بالادستی قائم کرنا ہوگی بصورت دیگر ملک ترقی نہیں کرسکے گا۔ ٹیکس چوروں کو تحفظ دینے کے لیے اسمبلی سے ایک نیا این آر او لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم خاندانی سیاست ختم کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے انتخابات کا سال ہونے کے باوجود پارٹی الیکشن کرارہے ہیں۔ وہ پیرکو ہائی کورٹ بار حیدرآباد میں وکلا سے خطاب کررہے تھے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں نے مسلح ونگ پالے ہوئے ہیں، جب مجرموں کو پولیس سے تحفظ دلایا جائے گا تو سندھ میں امن کیسے قائم ہوسکتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ ان معاشروں نے کبھی ترقی نہیں کی جہاں قانون کی بالادستی قائم نہیں ہوسکی۔حکومت کی بنائی ہوئی نیب کا کہنا ہے کہ ملک کو کرپشن اور ٹیکس چوری کی وجہ سے سالانہ اربوں روپے کا نقصان ہورہا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے جس دن کرپشن پر قابو پالیا اور اسمبلیوں میں بیٹھے ٹیکس چوروں کو نکال کر جیلوں میں ڈال دیا تو اسی روز سے پاکستان ترقی کرنے لگے گا۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سرمایہ کار بنگلا دیش، ملائیشیا اور دبئی جارہے ہیں جبکہ ہمارے ملک میں بے روزگاروں کی ایک فوج تیار ہورہی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمیں لوگوں نے کہا کہ پارٹی میں الیکشن کرانے سے آپ کی پارٹی ٹوٹ جائے گی لیکن ہم نے کہا کہ ہمیں تحریک انصاف کو ایک جمہوری پارٹی بنانا ہے اور آنے والے دنوں میں یہ جمہوری پارٹی پاکستان میں حقیقی جمہوریت قائم کرے گی۔
دریں اثنا دادو اور میہڑ میں عوامی اجتماعات سے خطاب میں عمران خان نے کہا کہ دہرے نظام سے سندھ تقسیم ہورہاہے، پورے صوبے میں ایک طرح کا نظام ہونا چاہیے۔کراچی سے لیکر بلوچستان تک پوریملک میں دہشت گردی ہورہی ہے، تحریک انصاف جانتی ہے کہ دہشت گردی کیسے ختم ہوگی۔ انھوں نے کہا کہ طاہرالقادری نے جوبات بھی کی وہ بالکل ٹھیک ہے لیکن تبدیلی صرف الیکشن سے ہی آئے گی ۔الیکشن میں تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ موجودہ حکومت مکمل طورپر ناکام ہوچکی ہے۔ انھوں نے کہاکہ تبدیلی کیلیے تحریک انصاف کی جدوجہدکاسونامی جاری ہے،سندھی عوام اورنوجوانوں کاساتھ رہاتو زرداری اورنوازشریف کوبہا لے جائوں گا۔ ہماری حکومت میں انتقامی کارروائیاں نہیں ہوں گی، تھانوں میں انصاف ملے گا۔
انھوں نے کہاکہ مولانا طاہر القادری کا اسلام آباد تک لانگ مارچ سمجھ سے بالا تر ہے مگرکسی بہانے حکومت کو انتخابات موخریادھاندلی نہیں کرنے دی جائے گی۔ سندھ میں دہرابلدیاتی نظام قبول نہیں کیا جائیگا، کالا باغ ڈیم صوبوں کی رضامندی کے بغیرنہیں بنناچاہیے، زرداری لیگ اورنواز لیگ آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ سندھیوں نے پی پی کوہرانتخابات میں کامیاب کرایا لیکن اس نے بے وفائی کی،سندھ میں دہرابلدیاتی نظام رائج کرکے کراچی دہشت گردوں کے حوالے کردیاگیا ۔