قائمہ کمیٹی جرنیلوں ججوں اور بیورو کریٹس کی ٹیکس تفصیلات طلب
ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکس ڈیٹاچوری کی رپورٹ10دن میں پیش کرنے کاحکم.
ایف بی آرکواراکین پارلیمنٹ کاٹیکس ڈیٹاچوری کی انکوائری رپورٹ بھی 10روزکے اندرپیش کرنے کاحکم دیاہے. فوٹو: ایکسپریس/فائل
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے گریڈ20 سے اوپرکے افسروںجرنیلوں،ججوں اوربیوروکریٹس کی آمدنی اورٹیکس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
جبکہ ایف بی آرکواراکین پارلیمنٹ کاٹیکس ڈیٹاچوری کی انکوائری رپورٹ بھی 10روزکے اندرپیش کرنے کاحکم دیاہے جبکہ ایف بی آرکاکہناہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کاٹاجاتاہے،کمیٹی نے پی آئی اے میںجعلی ڈگریوں پر250 افرادکی بھرتیوں،ڈپٹی ایم ڈی پی آئی اے سلیم سیانی تقرری کیس سمیت پی آئی اے میںکرپشن اور ناجائز تقرریوں، ترقیوں اورٹھیکوںکی رپورٹ10 روزکے اندرطلب کرلی ہے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس پیر کویہاں کمیٹی کے سربراہ خواجہ سہیل منصور کی زیرصدارت منعقدہوا۔
وزیرخزانہ'وزیرمملکت وپارلیمانی سیکریٹری خزانہ،چیئرمین ایف بی آر'وزیردفاع اورسیکریٹری دفاع کی قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں مسلسل عدم حاضری پربرہمی کااظہارکیاگیا۔ارکان نے کہاکہ وزیرخزانہ حفیظ شیخ بھی سابق وزیراعظم شوکت عزیزکی طرح بریف کیس اٹھاکرچلے جائیں گے۔
جس پرکمیٹی نے اتفاق رائے سے وزیرخزانہ، وزیرمملکت برائے خزانہ پارلیمانی سیکریٹری خزانہ اوروزیردفاع کے خلاف قائمہ کمیٹی کااستحقاق مجروح ہونے پراسپیکرقومی اسمبلی جبکہ سیکریٹری خزانہ'سیکریٹری دفاع اورچیئرمین ایف بی آرکے خلاف کابینہ ڈویژن کوخطوط لکھنے کافیصلہ کیا۔اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے پرائیویٹ ٹیکس ڈیٹاکی غیرقانونی اشاعت کے بارے میںایف بی آرحکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چیف ان لینڈ ریونیوعلینامظہرکی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی گئی ہے جوجلدرپورٹ پیش کردے گی۔
کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکسوں کی رپورٹ شائع ہونے کے حوالے سے سفارش کی ہے کہ پارلیمنٹ میں ایف بی آر کاڈیسک قائم اورانکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ میں 15 جنوری تک توسیع کی جائے۔اجلاس کے دوران ہدایت کی گئی کہ گریڈ20 سے اوپرکے جرنیلوں،ججوں اوربیوروکریٹس کی آمدنی اور ٹیکس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کی جائے ایجنڈے کے آئٹم نمبر2کے حوالے سے ایم ڈی پی آئی اے جنید یونس نے کمیٹی کوبریفنگ دی ۔
اجلاس میں انکشا ف ہواکہ شاہین ایئرلائن میںایک جہازکی نسبت125ملازم جبکہ پی آئی اے میں ایک جہازکی نسبت452 ملازم ہیں جس پرفاضل رکن بشریٰ گوہر نے کہاکہ حکومت غریب عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے پی آئی اے کوچلارہی ہے ۔قائمہ کمیٹی کی رکن کشمالہ طارق نے کہاکہ پی آئی اے میں ایئرہوسٹس پہلے پنجابی میںاوراب سندھی میں انگریزی بولتی ہیں،انھوں نے کہا کہ زینب طاہرکیبن کریو تھیں'میڈیکل چھٹی پرہونے کے باوجودترقی دی گئی نذرشاہ کوبرطرف کردیاگیالیکن ایک اعلیٰ افسر کابھائی ہونے کی وجہ سے دوبارہ بحال کردیاگیاپی آئی اے میںسلیم سیانی نام کے شخص کو2ہزارڈالرماہوارپرڈپٹی ایم ڈی مقررکیاگیا'پی آئی اے میںزبیربھٹی نامی اعلیٰ افسرکی ڈگری جعلی تھی لیکن کیس دبادیاگیا۔کمیٹی نے متفقہ طورپرایم ڈی پی آئی اے کوہدایت کی کہ10روز میں مذکورہ تمام اسکینڈلزکی انکوائری رپورٹ پیش کی جائے ۔چیئرمین خواجہ سہیل منصور نے کہاکہ پی آئی اے میں ایم ڈی ہر3 ماہ بعدتبدیل نہ کیاجائے ۔
جبکہ ایف بی آرکواراکین پارلیمنٹ کاٹیکس ڈیٹاچوری کی انکوائری رپورٹ بھی 10روزکے اندرپیش کرنے کاحکم دیاہے جبکہ ایف بی آرکاکہناہے کہ تمام ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں سے انکم ٹیکس کاٹاجاتاہے،کمیٹی نے پی آئی اے میںجعلی ڈگریوں پر250 افرادکی بھرتیوں،ڈپٹی ایم ڈی پی آئی اے سلیم سیانی تقرری کیس سمیت پی آئی اے میںکرپشن اور ناجائز تقرریوں، ترقیوں اورٹھیکوںکی رپورٹ10 روزکے اندرطلب کرلی ہے ۔قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کااجلاس پیر کویہاں کمیٹی کے سربراہ خواجہ سہیل منصور کی زیرصدارت منعقدہوا۔
وزیرخزانہ'وزیرمملکت وپارلیمانی سیکریٹری خزانہ،چیئرمین ایف بی آر'وزیردفاع اورسیکریٹری دفاع کی قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں مسلسل عدم حاضری پربرہمی کااظہارکیاگیا۔ارکان نے کہاکہ وزیرخزانہ حفیظ شیخ بھی سابق وزیراعظم شوکت عزیزکی طرح بریف کیس اٹھاکرچلے جائیں گے۔
جس پرکمیٹی نے اتفاق رائے سے وزیرخزانہ، وزیرمملکت برائے خزانہ پارلیمانی سیکریٹری خزانہ اوروزیردفاع کے خلاف قائمہ کمیٹی کااستحقاق مجروح ہونے پراسپیکرقومی اسمبلی جبکہ سیکریٹری خزانہ'سیکریٹری دفاع اورچیئرمین ایف بی آرکے خلاف کابینہ ڈویژن کوخطوط لکھنے کافیصلہ کیا۔اجلاس کے دوران ارکان پارلیمنٹ کے پرائیویٹ ٹیکس ڈیٹاکی غیرقانونی اشاعت کے بارے میںایف بی آرحکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایاکہ چیف ان لینڈ ریونیوعلینامظہرکی سربراہی میں انکوائری کمیٹی بنادی گئی ہے جوجلدرپورٹ پیش کردے گی۔
کمیٹی نے ارکان پارلیمنٹ کے ٹیکسوں کی رپورٹ شائع ہونے کے حوالے سے سفارش کی ہے کہ پارلیمنٹ میں ایف بی آر کاڈیسک قائم اورانکم ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ میں 15 جنوری تک توسیع کی جائے۔اجلاس کے دوران ہدایت کی گئی کہ گریڈ20 سے اوپرکے جرنیلوں،ججوں اوربیوروکریٹس کی آمدنی اور ٹیکس کی رپورٹ قائمہ کمیٹی میں پیش کی جائے ایجنڈے کے آئٹم نمبر2کے حوالے سے ایم ڈی پی آئی اے جنید یونس نے کمیٹی کوبریفنگ دی ۔
اجلاس میں انکشا ف ہواکہ شاہین ایئرلائن میںایک جہازکی نسبت125ملازم جبکہ پی آئی اے میں ایک جہازکی نسبت452 ملازم ہیں جس پرفاضل رکن بشریٰ گوہر نے کہاکہ حکومت غریب عوام کے ٹیکسوں کی رقم سے پی آئی اے کوچلارہی ہے ۔قائمہ کمیٹی کی رکن کشمالہ طارق نے کہاکہ پی آئی اے میں ایئرہوسٹس پہلے پنجابی میںاوراب سندھی میں انگریزی بولتی ہیں،انھوں نے کہا کہ زینب طاہرکیبن کریو تھیں'میڈیکل چھٹی پرہونے کے باوجودترقی دی گئی نذرشاہ کوبرطرف کردیاگیالیکن ایک اعلیٰ افسر کابھائی ہونے کی وجہ سے دوبارہ بحال کردیاگیاپی آئی اے میںسلیم سیانی نام کے شخص کو2ہزارڈالرماہوارپرڈپٹی ایم ڈی مقررکیاگیا'پی آئی اے میںزبیربھٹی نامی اعلیٰ افسرکی ڈگری جعلی تھی لیکن کیس دبادیاگیا۔کمیٹی نے متفقہ طورپرایم ڈی پی آئی اے کوہدایت کی کہ10روز میں مذکورہ تمام اسکینڈلزکی انکوائری رپورٹ پیش کی جائے ۔چیئرمین خواجہ سہیل منصور نے کہاکہ پی آئی اے میں ایم ڈی ہر3 ماہ بعدتبدیل نہ کیاجائے ۔