اتھارٹیزکا نیا انتظامی کنٹرول
وزیراعظم نے اوگرا اور نیپرا سمیت پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کے سپرد کردیا۔
وزیراعظم نے اوگرا اور نیپرا سمیت پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کے سپرد کردیا۔ فوٹو؛ فائل
وزیراعظم نوازشریف نے اوگرا اور نیپرا سمیت پانچ ریگولیٹری اتھارٹیز کی خودمختاری ختم کرتے ہوئے ان کا انتظامی کنٹرول متعلقہ وزارتوں کے سپرد کردیا۔ وزیراعظم کی منظوری کے بعد کابینہ ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق اوگرا کو وزارت پٹرولیم و قدرتی وسائل، نیپرا کو وزارت پانی و بجلی، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماتحت کردیا گیا۔ فریکوینسی ایلوکیشن بورڈ بھی ا نتظامی طور پر انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈویژن کے ماتحت کام کرے گا جب کہ پبلک پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (پیپرا) کو فنانس ڈویژن کے حوالے کر دیا گیا۔
اپوزیشن جماعتوں سمیت عوامی حلقوں نے اس فیصلہ کو وزیراعظم کی طرف سے غیر معمولی پالیسی فیصلہ قراردیا ہے جب کہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اتھارٹیز کی انتظامی تبدیلی کو بہ یک جنبش قلم کیبنٹ ڈویژن سے متعلقہ وزارتوں کے سپرد کرنے کی وجہ وزارتوں اور اتھارٹیز کے مابین اختیارات کی کشمکش تھی ، یاد رہے ان اتھارٹیز کا قیام سابق صدر پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا تھا۔
جس کا مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ اور انھیں مذکورہ وزارتوں اور محکموں سے درپیش مسائل کے حل کا کوئی آزادانہ فورم مہیا کرنا تھا مزید براں پالیسی سازی میں ان اتھارٹیز کو روٹین کے کاموں میں مصروف اداروں کی شفاف اور ٹرانسپیرنٹ کارکردگی کو یقینی بنانا تھا، بتایا جاتا ہے کہ وزارت پانی و بجلی اور پٹرولیم کو اپنی اتھارٹیز سے کافی شکایتیں تھیں جن پر مشترکہ مفادات کونسل کے حالیہ اجلاس میں غور کیا گیا، سندھ اور خیبر پختونخوا نے فیصلوں میں عجلت سے گریز پر زور دیا جب کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تحریری طور پر اس نکتہ کو ایجنڈا سے نکالنے کا کہا، ان کے مطابق اس سے ان کا صوبہ متاثر ہوگا، سندھ کے تحفظات پر بھی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے اظہار کیا گیا ۔
دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف نے ایسے مقامات پر صنعتی علاقوں کے قیام کی ہدایت کی ہے جو اقتصادی طور پر موزوں ہوں اور ان سے پاکستان اور چین دونوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبہ جات پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ آصف، حاصل بزنجو، وزیراعلیٰ شہبازشریف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے ان مقامات کی اقتصادی موزونیت اور فوائد کے بارے میں چینی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اہم موڑ پر اقتصادی بحالی کے لیے پاکستان کی بہت زیادہ مدد کی جس پر پاکستان کی حکومت اور عوام چینی قیادت اور عوام کے شکر گزار ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے اور کیٹی بندر پراجیکٹ کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے آیندہ جے سی سی میں غور کے لیے پیش کیا جانا چاہیے جیسا کہ سندھ حکومت نے آگاہ کیا ہے۔ چینی حکومت کو ان منصوبہ جات کی بہت زیادہ اقتصادی موزونیت کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ انھیں سی پیک میں شامل کیا جائے۔
ادھر صوبوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی تجاویز حکومت کو بھیج دیں، وزیراعظم نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ اتھارٹیز کا کنٹرول وزارتوں کے سپرد کردیا، نیپرا اور اوگرا کے حوالہ سے یہ حقائق بھی سامنے لائے گئے کہ دونوں اتھارٹیز کا مزاحمانہ طرزعمل اور وزارتوں کے احکامات کی عدم تعمیل اس اہم فیصلہ کا سبب ہے جب کہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں کی عوام سے لاتعلقی اور نوکر شاہی کے فرسودہ سرخ فیتہ اور تجاہل عارفانہ پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے ان اتھارٹیز کا کردار اہم تھا اور پالسی سازی میں مفاد عامہ کی مانیٹرنگ اور شہریوں کی داد رسی ان کی ذمے داری تھی۔
میڈیا کے مطابق حکومت کو باور کرایا گیا کہ اگر نیپرا اور اوگرا کی انتظامی تطہیر نہ ہوئی تو لوڈ شیڈنگ کے 2018 ء میں خاتمہ کی کمٹمنٹ شاید پوری نہ ہوسکے جب کہ نندی پور پاور پروجیکٹ اور ساہیوال کول، فائر پروجیکٹ کی تکمیل سے صارفین کو سستی بجلی اور گیس کی فراہمی کے اہداف بھی متاثر ہوسکتے ہیں، ہائی سسٹم لاسز کی تحدید بھی مشکل ہوگی، ان ہی ایشوز پر 16 دسمبر کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بحث ہوئی، صوبوں کی آواز سنی گئی، اور پھر اچانک انتظامی کنٹرول میں تبدیلی کی خبر آگئی۔
بہر حال صحیح صورتحال ان اتھارٹیز کے نئے انتظامی میکنزم کی تشکیل کے بعد واضح ہوگی، تاہم ٹرانزیشنل طریقہ کار کے ضمن میں قانونی مشاورت بھی ہوگی، متعلقہ قانون میں ترمیم کے لیے کابینہ، مشترکہ کونسل یا پارلیمنٹ میں بھی حتمی اقدامات کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے ، اتھارٹیز کی خود مختاری کے خاتمہ سے اس تاثر کو تقویت ہر گز نہیں ملنی چاہیے کہ حکومت فری ہینڈلے کر من مانے اقدامات کی خواہاں ہے۔ وزارتوں کی کارکردگی کیسی ہے ، اتھارٹیز سے مقصد حاصل ہوا، اور عوام کا جمہوریت کے بینر تلے ٹریکل ڈاؤن ثمرات اور اوپن ریلیف کتنا ملا ، عوام مہنگائی ، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ ، اوور بلنگ ، دہشتگردی اور اسٹریٹ کرائم کے ہاتھوں کتنے عذابوں سے دوچار ہیں ، ان سوالوں کے جواب حکمرانوں پر واجب ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں سمیت عوامی حلقوں نے اس فیصلہ کو وزیراعظم کی طرف سے غیر معمولی پالیسی فیصلہ قراردیا ہے جب کہ ذمے دار ذرائع کا کہنا ہے کہ ان اتھارٹیز کی انتظامی تبدیلی کو بہ یک جنبش قلم کیبنٹ ڈویژن سے متعلقہ وزارتوں کے سپرد کرنے کی وجہ وزارتوں اور اتھارٹیز کے مابین اختیارات کی کشمکش تھی ، یاد رہے ان اتھارٹیز کا قیام سابق صدر پرویز مشرف اور اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز کی ہدایات پر عمل میں لایا گیا تھا۔
جس کا مقصد صارفین کے مفادات کا تحفظ اور انھیں مذکورہ وزارتوں اور محکموں سے درپیش مسائل کے حل کا کوئی آزادانہ فورم مہیا کرنا تھا مزید براں پالیسی سازی میں ان اتھارٹیز کو روٹین کے کاموں میں مصروف اداروں کی شفاف اور ٹرانسپیرنٹ کارکردگی کو یقینی بنانا تھا، بتایا جاتا ہے کہ وزارت پانی و بجلی اور پٹرولیم کو اپنی اتھارٹیز سے کافی شکایتیں تھیں جن پر مشترکہ مفادات کونسل کے حالیہ اجلاس میں غور کیا گیا، سندھ اور خیبر پختونخوا نے فیصلوں میں عجلت سے گریز پر زور دیا جب کہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ پرویز خٹک نے تحریری طور پر اس نکتہ کو ایجنڈا سے نکالنے کا کہا، ان کے مطابق اس سے ان کا صوبہ متاثر ہوگا، سندھ کے تحفظات پر بھی وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سے اظہار کیا گیا ۔
دریں اثنا وزیراعظم نوازشریف نے ایسے مقامات پر صنعتی علاقوں کے قیام کی ہدایت کی ہے جو اقتصادی طور پر موزوں ہوں اور ان سے پاکستان اور چین دونوں کو زیادہ سے زیادہ معاشی فوائد حاصل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے وزیراعظم ہاؤس میں پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت مختلف منصوبہ جات پر پیش رفت کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں وفاقی وزرا اسحاق ڈار، احسن اقبال، خواجہ آصف، حاصل بزنجو، وزیراعلیٰ شہبازشریف، معاون خصوصی طارق فاطمی اور دیگر نے شرکت کی۔
وزیراعظم نے ان مقامات کی اقتصادی موزونیت اور فوائد کے بارے میں چینی حکومت کو تجاویز پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی بھی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ چین نے اہم موڑ پر اقتصادی بحالی کے لیے پاکستان کی بہت زیادہ مدد کی جس پر پاکستان کی حکومت اور عوام چینی قیادت اور عوام کے شکر گزار ہیں۔ دریں اثنا وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے اور کیٹی بندر پراجیکٹ کو سی پیک میں شامل کرنے کے لیے آیندہ جے سی سی میں غور کے لیے پیش کیا جانا چاہیے جیسا کہ سندھ حکومت نے آگاہ کیا ہے۔ چینی حکومت کو ان منصوبہ جات کی بہت زیادہ اقتصادی موزونیت کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تاکہ انھیں سی پیک میں شامل کیا جائے۔
ادھر صوبوں سے کہا گیا کہ وہ اپنی تجاویز حکومت کو بھیج دیں، وزیراعظم نے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعہ اتھارٹیز کا کنٹرول وزارتوں کے سپرد کردیا، نیپرا اور اوگرا کے حوالہ سے یہ حقائق بھی سامنے لائے گئے کہ دونوں اتھارٹیز کا مزاحمانہ طرزعمل اور وزارتوں کے احکامات کی عدم تعمیل اس اہم فیصلہ کا سبب ہے جب کہ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مختلف وزارتوں کی عوام سے لاتعلقی اور نوکر شاہی کے فرسودہ سرخ فیتہ اور تجاہل عارفانہ پر چیک اینڈ بیلنس کے لیے ان اتھارٹیز کا کردار اہم تھا اور پالسی سازی میں مفاد عامہ کی مانیٹرنگ اور شہریوں کی داد رسی ان کی ذمے داری تھی۔
میڈیا کے مطابق حکومت کو باور کرایا گیا کہ اگر نیپرا اور اوگرا کی انتظامی تطہیر نہ ہوئی تو لوڈ شیڈنگ کے 2018 ء میں خاتمہ کی کمٹمنٹ شاید پوری نہ ہوسکے جب کہ نندی پور پاور پروجیکٹ اور ساہیوال کول، فائر پروجیکٹ کی تکمیل سے صارفین کو سستی بجلی اور گیس کی فراہمی کے اہداف بھی متاثر ہوسکتے ہیں، ہائی سسٹم لاسز کی تحدید بھی مشکل ہوگی، ان ہی ایشوز پر 16 دسمبر کو مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں بحث ہوئی، صوبوں کی آواز سنی گئی، اور پھر اچانک انتظامی کنٹرول میں تبدیلی کی خبر آگئی۔
بہر حال صحیح صورتحال ان اتھارٹیز کے نئے انتظامی میکنزم کی تشکیل کے بعد واضح ہوگی، تاہم ٹرانزیشنل طریقہ کار کے ضمن میں قانونی مشاورت بھی ہوگی، متعلقہ قانون میں ترمیم کے لیے کابینہ، مشترکہ کونسل یا پارلیمنٹ میں بھی حتمی اقدامات کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے ، اتھارٹیز کی خود مختاری کے خاتمہ سے اس تاثر کو تقویت ہر گز نہیں ملنی چاہیے کہ حکومت فری ہینڈلے کر من مانے اقدامات کی خواہاں ہے۔ وزارتوں کی کارکردگی کیسی ہے ، اتھارٹیز سے مقصد حاصل ہوا، اور عوام کا جمہوریت کے بینر تلے ٹریکل ڈاؤن ثمرات اور اوپن ریلیف کتنا ملا ، عوام مہنگائی ، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ ، اوور بلنگ ، دہشتگردی اور اسٹریٹ کرائم کے ہاتھوں کتنے عذابوں سے دوچار ہیں ، ان سوالوں کے جواب حکمرانوں پر واجب ہیں۔