شدت پسندانہ عالمی واقعات میں تشویشناک اضافہ
دہشت گردی کا عفریت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔
دہشت گردی کا عفریت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے ۔ فوٹو فائل
دنیا میں شرپسندی اور دہشت گردی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہورہا ہے وہ چشم کشا ہے۔ پیر کو ترکی میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کو ایک پولیس اہلکار نے اس وقت سرعام فائرنگ کرکے ہلاک کردیا جب وہ انقرہ میں فن پاروں کی نمائش میں تقریر کررہے تھے، حملہ آور سفیر کے پیچھے کھڑا تھا اور اس نے 8فائر کیے۔ یہ بات قابل تشویش ہے کہ میڈیا اس واقعے کو بھی اسلامی شدت پسندوں سے جوڑ رہا ہے اور روسی صدر ولادی میر پوتن نے فوری طور پر قاتلانہ حملے کا بدلہ لینے کا اعلان کردیا ہے۔
فردِ واحد کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا بدلہ روسی صدر کس قوم یا ملک سے لینا چاہتے ہیں؟ برطانوی اخبار کے مطابق حملہ آور نے نعرہ لگایا تھا کہ 'شام کو نہ بھولو، حلب کو نہ بھولو، یہ حلب میں ہلاکتوں کا بدلہ ہے'۔ تو کیا انتقامی کارروائی میں ایک بار پھر مسلم ممالک پر ہلہ بولا جائے گا؟ واضح رہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ماسکو میں حلب کی صورتحال پر بات چیت کے لیے روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ میں ڈرائیور نے ٹرک ہجوم پر چڑھا دیا، دہشت گردی کی اس کارروائی میں 9 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد ڈرائیور فرار ہوگیا۔ برلن پولیس کے مطابق واقعہ دہشت گردی کی سوچی سمجھی کارروائی ہے۔ یہ دہشت گردی کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
سال گزشتہ فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن پر جشن کے دوران تیز رفتار ٹرک نے ہجوم کو کچلنے اور بعد ازاں فائرنگ سے 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کا عفریت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ، افریقہ اور خطے کے دیگر ممالک بدترین اندرونی خلفشار اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جنھیں عالمی سپرپاورز اور ان کے اتحادیوں نے مل کر تباہی کا شکار کیا ہے۔ شاید انھی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں میں امریکا اور یورپی ممالک کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی کمزور قوم کو انصاف نہ ملے اور عالمی برادری بھی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کے پاس سوائے 'مارو یا مرجاؤ' کے کوئی چارہ نہیں بچتا۔ دہشت گردی چاہے جس شکل میں بھی ہو پاکستان نے اس کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی دہشت گردیوں کا بدلہ معصوم اور بے قصور عوام سے لینا بالکل بھی جائز نہیں۔ پاکستان روسی سفیر کے قتل اور برلن واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے ان تنازعات کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گرد پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ ان محرکات کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے کچھ نہیں کررہی جو دہشت گردی کی وجہ بن رہے ہیں۔ اگر اقوام عالم اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں تو یہ تمام تر تنازعات حل ہوسکتے ہیں جس سے دنیا بھر میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
فردِ واحد کی جانب سے کیے جانے والے اس حملے کا بدلہ روسی صدر کس قوم یا ملک سے لینا چاہتے ہیں؟ برطانوی اخبار کے مطابق حملہ آور نے نعرہ لگایا تھا کہ 'شام کو نہ بھولو، حلب کو نہ بھولو، یہ حلب میں ہلاکتوں کا بدلہ ہے'۔ تو کیا انتقامی کارروائی میں ایک بار پھر مسلم ممالک پر ہلہ بولا جائے گا؟ واضح رہے کہ فائرنگ کا واقعہ ایسے وقت پر ہوا ہے جب ماسکو میں حلب کی صورتحال پر بات چیت کے لیے روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہورہا ہے۔ علاوہ ازیں جرمنی کے شہر برلن میں کرسمس مارکیٹ میں ڈرائیور نے ٹرک ہجوم پر چڑھا دیا، دہشت گردی کی اس کارروائی میں 9 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے بعد ڈرائیور فرار ہوگیا۔ برلن پولیس کے مطابق واقعہ دہشت گردی کی سوچی سمجھی کارروائی ہے۔ یہ دہشت گردی کا پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی متعدد واقعات رونما ہوچکے ہیں۔
سال گزشتہ فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن پر جشن کے دوران تیز رفتار ٹرک نے ہجوم کو کچلنے اور بعد ازاں فائرنگ سے 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ دہشت گردی کا عفریت پوری دنیا میں پھیل چکا ہے۔ اس وقت مشرق وسطیٰ، افریقہ اور خطے کے دیگر ممالک بدترین اندرونی خلفشار اور دہشت گردی کا شکار ہیں۔ شام، عراق اور افغانستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے، جنھیں عالمی سپرپاورز اور ان کے اتحادیوں نے مل کر تباہی کا شکار کیا ہے۔ شاید انھی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں میں امریکا اور یورپی ممالک کے خلاف نفرت میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جب کسی کمزور قوم کو انصاف نہ ملے اور عالمی برادری بھی اس کا ساتھ نہ دے تو اس کے پاس سوائے 'مارو یا مرجاؤ' کے کوئی چارہ نہیں بچتا۔ دہشت گردی چاہے جس شکل میں بھی ہو پاکستان نے اس کی ہمیشہ مذمت کی ہے۔ عالمی سطح پر ہونے والی دہشت گردیوں کا بدلہ معصوم اور بے قصور عوام سے لینا بالکل بھی جائز نہیں۔ پاکستان روسی سفیر کے قتل اور برلن واقعے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ دہشت گردی ختم کرنے کے لیے ان تنازعات کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے جو دہشت گرد پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اقوام متحدہ ان محرکات کے سدباب کے لیے سنجیدگی سے کچھ نہیں کررہی جو دہشت گردی کی وجہ بن رہے ہیں۔ اگر اقوام عالم اس معاملے میں اپنا کردار ادا کریں تو یہ تمام تر تنازعات حل ہوسکتے ہیں جس سے دنیا بھر میں قیام امن کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔