سب سے میٹھا نام ’’این جی اوز‘‘
علامہ بریانی عرف برڈ فلو اکثر ہمارے فاسد خیالات پر گرفت کرتے رہتے ہیں۔۔۔
barq@email.com
ISLAMABAD:
قسمت قسمت کی بات ہوتی ہے ورنہ ہم نے کسی این جی او یا دوسرے الفاظ میں ''ڈالر'' سے رشتہ جوڑنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔
ہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا
صبر ایوبؑ کیا گریہ یعقوبؑ کیا
لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔ جی تو چاہتا ہے کہ اپنی قسمت کو کسی طرح نہ کسی طرح ڈھونڈ کر وہ سلوک کریں جوکسی نے کسی کے ساتھ نہ کیا ہو، لیکن پتہ نہیں یہ کم بخت کہاں پائی جاتی ہے ، کم از کم ہمارے اپنے پاس تو نہیں ہے۔ ہوتی تو ہماری بری حالت دیکھ کرکچھ تو پسیجتی، وفور شوق اور عشق نے اب ہمیں اس مقام پر پہنچایا ہوا ہے جہاں کہیں کوئی ''این اوز'' کا نام لیتا ہے،
ہمارے سامنے جب بھی کسو نے نام لیا
دل حسرت زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
پتہ نہیں اس حسینہ عالم، لرزندہ جہاں، گلشن بے خار کو ہم سے اتنی چڑ کیوں ہے،کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ
شفق دھنک، مہتاب ہوائیں بجلی تارے نغمے پھول
اس دامن میں کیا کیا ہے وہ دامن ہاتھ میں آئے تو
اب تو ہماری عمر وہ نہ رہی جو اس زمانے میں تھی جب ہم مدھو بالا کی فلمیں دیکھ دیکھ کر یہ ارادے باندھتے تھے کہ سیدھے بمبئی جو ابھی بالغ ہو کر ممبائی نہیں بنی تھیں جائیں اور اس دلیپ کمار اور راج کپور کی ایسی کی تیسی کر دیں۔ دونوں کو اور کوئی کام نہیں تھا جس فلم میں بھی دیکھو ان میں سے کسی کے ساتھ شادی رچا رہے ہیں ، کم بختوں کی ایک دو دفعہ پر تسلی بھی نہیں ہوتی، بار بار ہمارے دل پر چھرے چلاتے ہیں، تقریباً وہی جذبات آج کل اس ''این جی او'' نام سے بھی وابستہ ہیں جو سننے میں تو آتا ہے لیکن دیکھنے کا شرف عطا نہیں کرتا، تعین کریں جب بھی ہم کسی کے منہ سے یہ نام سنتے ہیں، دل پر آرے سے چل جاتے ہیں، آپ بھی ذرا احتیاط رکھئے گا ہمارے سامنے یہ نام لینے سے احتیاط رکھیے گا ،کیا پتہ کب ارادہ عمل کا جامہ پہن لے
کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نہیں ہم نشین
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
علامہ بریانی عرف برڈ فلو اکثر ہمارے فاسد خیالات پر گرفت کرتے رہتے ہیں کہ یہ این جی اوز دراصل ہمارے ایمانوں اور ضمیروں پر کفرکی یلغار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے دو بیٹے اور ایک داماد این جی اوز ہی کا دیا کھاتے ہیں، اس لیے غصے میں آکر ہم بھی فارسی بہ فارسی جوات دیتے ہیں کہ یہی تو ہم چاہتے ہیں اس ایمان اور ضمیر نے اب تک ہمیں دیا کیا ہے، لوگوں نے نہ جانے انھیں بیچ بیچ کر کیا کچھ کما لیا ہے اور ان ہمارے والے کو کوئی ٹکے سیربھی لینے کو تیار نہیں ہے ، کب سے بازار میں سجائے بیٹھے ہیں، کہ کوئی خدا کا بندہ آکر صرف نرخ ہی پوچھ لے، پھر دیکھیں گے کہ ہم کیسے اسے پھنساتے ہیں ، چاہے مفت ہی کیوں نہ ہو ہم اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔
سرمہ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
علامہ کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہے کہ الزام تراشی میں وہ کسی سیاسی پارٹی کے درجہ دوم کے لیڈروں سے کم نہیں بلکہ چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کا تو کہنا ہے کہ کئی پارٹیوں کے لیڈراسے اپروچ کر چکے ہیں کہ آیئے الزام تراشی کا شعبہ سنبھالیے، لیکن علامہ قبول اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ خود اور مارکیٹ کو محدود نہیں کرنا چاہتے، ویسے بھی آج کل تحریک انصاف کے ساتھ وہ کنٹریکٹ پر ہیں، چنانچہ این جی اوز پر بھی انھوں نے جو ایک فرد جرم عائد کی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جن ممالک کے لیے لوگ ایک پیسہ بھی بلا ضرورت خرچ نہیں کرتے، وہ یہ کروڑوں روپے این جی اوز کے ذریعے کیوں خرچ کرتے ہیں؟ اس لیے کہ وہ ہمیں نکھٹو بے ایماں اور کرپٹ بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے تو کروڑوں روپے آتے ہیں اور ادھر ادھر ہوتے ہیں۔
پھر پنترا بدل کر کہتا ہے شرم کرو علامہ یہ جو تمہارے پاس ایک بے ایمانی کا ہنر ہے، یہ انھوں نے سکھائے ہیں یا تمہارے اپنے طبع زاد ہیں، اس سے آگے پھر جن الفاظ کا تبادلہ شروع ہوتا ہے وہ لکھنے کے قابل نہیں ہیں، لیکن ہم پر ان دونوں تو کیا دنیا بھر کے ناصحوں اور زاہدوں کے کہے کا کوئی بھی اثر ہونے والا نہیں ہے کیوں کہ یہ معاملہ عشق کا ہے اور عشق اندھا اور بہرا ہوتا ہے صرف گونگا نہیں ہوتا، اس لیے ہم بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ہم این جی اوز کے عاشق ہیں بلکہ تھے اور رہیں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابھی منزل مقصود تک نہیں پہنچے ہیں اور کوئی راہبر و رہنماء بھی ہاتھ نہیں لگا ہے لیکن ہمارا جذبہ ماند نہیں پڑا ہے اور نہ ہم اسے ماند پڑنے دیں گے اور یہی دعا کرتے رہیں گے کہ
ہے اختیار میں تیرا تو معجزہ کر دے
وہشخص میرا نہیں اسے میرا کر دے
شاید آپ ہم پر یہ الزام لگانے کے لیے پر تول رہے ہیں کہ کام دعاؤں تمناؤں اورہائے وائے کرنے سے نہیں بنتے ، اس کے لیے جدوجہد، لگن اور محنت کی ضرورت پڑتی ہے تو عرض ہے کہ اس سلسلے میں جو کرنے کا تھا وہ سب ہم کر چکے تھے، امریکا کے حق میں ڈھیرسارا لکھ چکے ہیں، پھر اس کی مخالفت میں بہت دور دور تک چلے گئے کیونکہ کسی نے یہی نسخہ بتایا ہے کہ منہ کھولو تو وہ اسے بند کرنے کے لیے کچھ کریں لیکن پتہ نہیں ہمارا یہ منہ ہی منہ نہیں ہے یا ہو سکتا ہے ان کے معیار سے چھوٹا ہو یا شاید وہ بھانپ گئے ہیں کہ ہم عاشق نہیں ڈھونگی ہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے، ہمیں این جی اوز کا نام اب بھی اچھا لگتا ہے کہ ان کا تعلق اسی جان جاں سے ہے۔
قسمت قسمت کی بات ہوتی ہے ورنہ ہم نے کسی این جی او یا دوسرے الفاظ میں ''ڈالر'' سے رشتہ جوڑنے کے لیے کیا کچھ نہیں کیا۔
ہم نے کیا کیا نہ ترے عشق میں محبوب کیا
صبر ایوبؑ کیا گریہ یعقوبؑ کیا
لیکن یہ نہ تھی ہماری قسمت ۔ جی تو چاہتا ہے کہ اپنی قسمت کو کسی طرح نہ کسی طرح ڈھونڈ کر وہ سلوک کریں جوکسی نے کسی کے ساتھ نہ کیا ہو، لیکن پتہ نہیں یہ کم بخت کہاں پائی جاتی ہے ، کم از کم ہمارے اپنے پاس تو نہیں ہے۔ ہوتی تو ہماری بری حالت دیکھ کرکچھ تو پسیجتی، وفور شوق اور عشق نے اب ہمیں اس مقام پر پہنچایا ہوا ہے جہاں کہیں کوئی ''این اوز'' کا نام لیتا ہے،
ہمارے سامنے جب بھی کسو نے نام لیا
دل حسرت زدہ کو ہم نے تھام تھام لیا
پتہ نہیں اس حسینہ عالم، لرزندہ جہاں، گلشن بے خار کو ہم سے اتنی چڑ کیوں ہے،کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ
شفق دھنک، مہتاب ہوائیں بجلی تارے نغمے پھول
اس دامن میں کیا کیا ہے وہ دامن ہاتھ میں آئے تو
اب تو ہماری عمر وہ نہ رہی جو اس زمانے میں تھی جب ہم مدھو بالا کی فلمیں دیکھ دیکھ کر یہ ارادے باندھتے تھے کہ سیدھے بمبئی جو ابھی بالغ ہو کر ممبائی نہیں بنی تھیں جائیں اور اس دلیپ کمار اور راج کپور کی ایسی کی تیسی کر دیں۔ دونوں کو اور کوئی کام نہیں تھا جس فلم میں بھی دیکھو ان میں سے کسی کے ساتھ شادی رچا رہے ہیں ، کم بختوں کی ایک دو دفعہ پر تسلی بھی نہیں ہوتی، بار بار ہمارے دل پر چھرے چلاتے ہیں، تقریباً وہی جذبات آج کل اس ''این جی او'' نام سے بھی وابستہ ہیں جو سننے میں تو آتا ہے لیکن دیکھنے کا شرف عطا نہیں کرتا، تعین کریں جب بھی ہم کسی کے منہ سے یہ نام سنتے ہیں، دل پر آرے سے چل جاتے ہیں، آپ بھی ذرا احتیاط رکھئے گا ہمارے سامنے یہ نام لینے سے احتیاط رکھیے گا ،کیا پتہ کب ارادہ عمل کا جامہ پہن لے
کلکتہ کا جو ذکر کیا تو نہیں ہم نشین
اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے
علامہ بریانی عرف برڈ فلو اکثر ہمارے فاسد خیالات پر گرفت کرتے رہتے ہیں کہ یہ این جی اوز دراصل ہمارے ایمانوں اور ضمیروں پر کفرکی یلغار ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کے دو بیٹے اور ایک داماد این جی اوز ہی کا دیا کھاتے ہیں، اس لیے غصے میں آکر ہم بھی فارسی بہ فارسی جوات دیتے ہیں کہ یہی تو ہم چاہتے ہیں اس ایمان اور ضمیر نے اب تک ہمیں دیا کیا ہے، لوگوں نے نہ جانے انھیں بیچ بیچ کر کیا کچھ کما لیا ہے اور ان ہمارے والے کو کوئی ٹکے سیربھی لینے کو تیار نہیں ہے ، کب سے بازار میں سجائے بیٹھے ہیں، کہ کوئی خدا کا بندہ آکر صرف نرخ ہی پوچھ لے، پھر دیکھیں گے کہ ہم کیسے اسے پھنساتے ہیں ، چاہے مفت ہی کیوں نہ ہو ہم اسے خالی ہاتھ نہیں جانے دیں گے۔
سرمہ مفت نظر ہوں مری قیمت یہ ہے
کہ رہے چشم خریدار پہ احساں میرا
علامہ کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہے کہ الزام تراشی میں وہ کسی سیاسی پارٹی کے درجہ دوم کے لیڈروں سے کم نہیں بلکہ چشم گل چشم عرف قہر خداوندی کا تو کہنا ہے کہ کئی پارٹیوں کے لیڈراسے اپروچ کر چکے ہیں کہ آیئے الزام تراشی کا شعبہ سنبھالیے، لیکن علامہ قبول اس لیے نہیں کر رہے ہیں کہ خود اور مارکیٹ کو محدود نہیں کرنا چاہتے، ویسے بھی آج کل تحریک انصاف کے ساتھ وہ کنٹریکٹ پر ہیں، چنانچہ این جی اوز پر بھی انھوں نے جو ایک فرد جرم عائد کی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ جن ممالک کے لیے لوگ ایک پیسہ بھی بلا ضرورت خرچ نہیں کرتے، وہ یہ کروڑوں روپے این جی اوز کے ذریعے کیوں خرچ کرتے ہیں؟ اس لیے کہ وہ ہمیں نکھٹو بے ایماں اور کرپٹ بنانا چاہتے ہیں، اسی لیے تو کروڑوں روپے آتے ہیں اور ادھر ادھر ہوتے ہیں۔
پھر پنترا بدل کر کہتا ہے شرم کرو علامہ یہ جو تمہارے پاس ایک بے ایمانی کا ہنر ہے، یہ انھوں نے سکھائے ہیں یا تمہارے اپنے طبع زاد ہیں، اس سے آگے پھر جن الفاظ کا تبادلہ شروع ہوتا ہے وہ لکھنے کے قابل نہیں ہیں، لیکن ہم پر ان دونوں تو کیا دنیا بھر کے ناصحوں اور زاہدوں کے کہے کا کوئی بھی اثر ہونے والا نہیں ہے کیوں کہ یہ معاملہ عشق کا ہے اور عشق اندھا اور بہرا ہوتا ہے صرف گونگا نہیں ہوتا، اس لیے ہم بھی اعلان کر رہے ہیں کہ ہم این جی اوز کے عاشق ہیں بلکہ تھے اور رہیں گے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ابھی منزل مقصود تک نہیں پہنچے ہیں اور کوئی راہبر و رہنماء بھی ہاتھ نہیں لگا ہے لیکن ہمارا جذبہ ماند نہیں پڑا ہے اور نہ ہم اسے ماند پڑنے دیں گے اور یہی دعا کرتے رہیں گے کہ
ہے اختیار میں تیرا تو معجزہ کر دے
وہشخص میرا نہیں اسے میرا کر دے
شاید آپ ہم پر یہ الزام لگانے کے لیے پر تول رہے ہیں کہ کام دعاؤں تمناؤں اورہائے وائے کرنے سے نہیں بنتے ، اس کے لیے جدوجہد، لگن اور محنت کی ضرورت پڑتی ہے تو عرض ہے کہ اس سلسلے میں جو کرنے کا تھا وہ سب ہم کر چکے تھے، امریکا کے حق میں ڈھیرسارا لکھ چکے ہیں، پھر اس کی مخالفت میں بہت دور دور تک چلے گئے کیونکہ کسی نے یہی نسخہ بتایا ہے کہ منہ کھولو تو وہ اسے بند کرنے کے لیے کچھ کریں لیکن پتہ نہیں ہمارا یہ منہ ہی منہ نہیں ہے یا ہو سکتا ہے ان کے معیار سے چھوٹا ہو یا شاید وہ بھانپ گئے ہیں کہ ہم عاشق نہیں ڈھونگی ہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی ہے، ہمیں این جی اوز کا نام اب بھی اچھا لگتا ہے کہ ان کا تعلق اسی جان جاں سے ہے۔