کراچی میں ایم کیوایم لندن کے 2رہنما رہا ہوتے ہی دوبارہ گرفتار
ایم کیوایم لندن کے دونوں رہنماؤں کو22 اکتوبرکورینجرزاہلکاروں نے حراست میں لیا تھا۔
ایم کیوایم لندن کے دونوں رہنماؤں کو22 اکتوبرکورینجرزاہلکاروں نے حراست میں لیا تھا ۔ فوٹو فائل
ایم کیوایم لندن کے 2 رہنماؤں پروفیسر حسن ظفر عارف اور امجد اﷲ خان کو سینٹرل جیل سے رہا ہوتے ہی ضلع وسطی پولیس کی بھاری نفری نے دوبارہ گرفتار کر کے سخت سیکیورٹی میں ناظم آباد تھانے منتقل کردیا۔
ایس ایس پی ضلع وسطی کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کوعزیزآباد تھانے میں درج اشتعال انگیزی تقاریراورسہولت کاری کے مقدمے میں گرفتارکیاگیا ہے، دوبارہ گرفتارکیے گئے رہنماؤں کو22 اکتوبرکورینجرزاہلکاروں نے کراچی پریس کلب کے باہر سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد رہنماؤں کو ایک ماہ کے لیے حفاظتی تحویل میں لینے کے بعد سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا گیا تھا بعدازاں دونوں رہنماؤں کی نظری بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی گئی تھی ۔
2 ماہ قبل کراچی پریس کلب سے حراست میں لیے جانے والے کیو ایم لندن کے2 رہنما پروفیسر حسن ظفر عارف اور امجد اﷲ خان کی تقریباً60 روز نظر بندی مکمل ہونے پر منگل کو سینٹرل جیل سے رہا کیا جانا تھا۔اس ضمن میں ایم کیو ایم لندن کے کارکنان و ہمدرد بڑی تعداد میں سینٹرل جیل کراچی کے باہر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے، سینٹرل جیل حکام کی جانب سے جسے ہی ان رہنماؤں کو رہا کیا گیا تو وہاں موجود ضلع وسطی پولیس کی بھاری نفری نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور سخت سیکیورٹی میں ناظم آباد تھانے منتقل کردیا۔
اس ضمن میں جب ایس ایس پی ضلع وسطی مقدس حیدر سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے بتایا کہ ایم کیوایم لندن کے دونوں رہنماؤں کو عزیزآباد تھانے میں29 جولائی 2016 کو رینجرز حکام کی مدعیت میں اشتعال انگیز تقاریر اور سہولت کاری سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیے جانے والے مقدمہ الزام نمبر 205/2016 میں گرفتار کیا گیا ہے، مقدمے میں ایم کیوایم لندن کے بانی سمیت10رہنماؤں او50 سے 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا تھا، پولیس ذرائع کا کہنا کہ ہے سینٹرل جیل احاطے سے گرفتار کیے جانے والے ایم کیو ایم کے دونوں رہنماؤں کو عزیز آباد میں بجرم دفعات 147,148,149,151,153,153-A کے تحت 16 نومبر کو درج ایک اور مقدمے 317/2016 میں بھی گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔ مذکورہ مقدمے میں ایم کیوایم کے7رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔
ایس ایس پی ضلع وسطی کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں کوعزیزآباد تھانے میں درج اشتعال انگیزی تقاریراورسہولت کاری کے مقدمے میں گرفتارکیاگیا ہے، دوبارہ گرفتارکیے گئے رہنماؤں کو22 اکتوبرکورینجرزاہلکاروں نے کراچی پریس کلب کے باہر سے حراست میں لیا تھا جس کے بعد رہنماؤں کو ایک ماہ کے لیے حفاظتی تحویل میں لینے کے بعد سینٹرل جیل کراچی منتقل کردیا گیا تھا بعدازاں دونوں رہنماؤں کی نظری بندی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کردی گئی تھی ۔
2 ماہ قبل کراچی پریس کلب سے حراست میں لیے جانے والے کیو ایم لندن کے2 رہنما پروفیسر حسن ظفر عارف اور امجد اﷲ خان کی تقریباً60 روز نظر بندی مکمل ہونے پر منگل کو سینٹرل جیل سے رہا کیا جانا تھا۔اس ضمن میں ایم کیو ایم لندن کے کارکنان و ہمدرد بڑی تعداد میں سینٹرل جیل کراچی کے باہر ان کے استقبال کے لیے موجود تھے، سینٹرل جیل حکام کی جانب سے جسے ہی ان رہنماؤں کو رہا کیا گیا تو وہاں موجود ضلع وسطی پولیس کی بھاری نفری نے انھیں دوبارہ گرفتار کر لیا اور سخت سیکیورٹی میں ناظم آباد تھانے منتقل کردیا۔
اس ضمن میں جب ایس ایس پی ضلع وسطی مقدس حیدر سے رابطہ کیا گیا توانھوں نے بتایا کہ ایم کیوایم لندن کے دونوں رہنماؤں کو عزیزآباد تھانے میں29 جولائی 2016 کو رینجرز حکام کی مدعیت میں اشتعال انگیز تقاریر اور سہولت کاری سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیے جانے والے مقدمہ الزام نمبر 205/2016 میں گرفتار کیا گیا ہے، مقدمے میں ایم کیوایم لندن کے بانی سمیت10رہنماؤں او50 سے 60 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا تھا، پولیس ذرائع کا کہنا کہ ہے سینٹرل جیل احاطے سے گرفتار کیے جانے والے ایم کیو ایم کے دونوں رہنماؤں کو عزیز آباد میں بجرم دفعات 147,148,149,151,153,153-A کے تحت 16 نومبر کو درج ایک اور مقدمے 317/2016 میں بھی گرفتار کیے جانے کا امکان ہے۔ مذکورہ مقدمے میں ایم کیوایم کے7رہنماؤں کو نامزد کیا گیا تھا۔