آئل ریفائنریز کی پیداواری استعداد 65 فیصد تک محدود
گزشتہ مالی سال کم منافع والی پراڈکٹ فرنس آئل کے بجائے زیادہ مارجن والی مصنوعات ڈیزل وپٹرول کی پیداوار کو ترجیح دی
ریفائنریزنے گزشتہ مالی سال کم منافع والی پراڈکٹ فرنس آئل کے بجائے زیادہ مارجن والی مصنوعات ڈیزل وپٹرول کی پیداوار کو ترجیح دی۔ فائل فوٹو
سرکلر ڈیٹ کے باعث سرمائے کی قلت سے دوچار پاکستانی آئل ریفائنریز کی پیداوار میں گزشتہ مالی سال کے دوران 5فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ آئل سیکٹر کی ایک رپورٹ کے مطابق ریفائنری پیداوار میں کمی کا تسلسل 4 سال سے قائم ہے جس کی ایک وجہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں عدم استحکام اور اندرونی سطح پر ریفائنرز کے مارجن میں کمی اور سرکلر ڈیٹ میں پھنسے سرمائے کی عدم ادائیگی بتائی جاتی ہے، سال 2011-12کے دوران ریفائنریز کی پیداوار 7.3ملین ٹن رہی جبک مالی سال 2010-11کے دوران ریفائنریز کی پیداوار 7.7ملین ٹن رہی تھی۔
ماہرین کے مطابق مقامی پیداوار میں کمی کے باعث درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں اضافے کا سامنا ہے۔ سرکلر ڈیٹ کے باعث سرمائے کی قلت کا شکار ریفائنریز کم پیداواری استعداد پر چل رہی ہیں، گزشتہ مالی سال ریفائنریز کی پیداواری استعداد مزید کم ہوکر 65 فیصدرہ گئی، مالی سال 2010-11میں ریفائنریز نے 68فیصد پیداواری استعداد پر کام کیا تھا۔ انفرادی لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو اے ٹی آر ایل اور پی آر ایل کی پیداوار میں اضافہ جبکہ پارکو، این آر ایل اور بائیکو کی پیداوار میں کمی کا رجحان رہا۔
اے ٹی آر ایل نے 91 اور پی آر ایل نے 77فیصد پر کام کیا، سال 2010-11 میں اے ٹی آر ایل نے 88اور پی آر ایل نے 71فیصد استعداد پر کام کیا تھا، دوسری جانب بائیکو کی پیداواری استعداد 33سے کم ہوکر 14فیصدپر آگئی، پارکو کی پیداواری استعداد 80سے کم ہوکر 63فیصد اور این آر ایل کی پیداواری استعداد 68سے بڑھ کر 76فیصد رہی، ریفائنریز کے پیداواری مکس میں بھی تبدیلی ہوئی اور ریفائنریز نے کم مارجن والی پراڈکٹ فرنس آئل کے بجائے زیادہ مارجن والی پراڈکٹس ڈیزل اور پٹرول کی پیداوار کو ترجیح دی۔
ماہرین کے مطابق مقامی پیداوار میں کمی کے باعث درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے اور پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں اضافے کا سامنا ہے۔ سرکلر ڈیٹ کے باعث سرمائے کی قلت کا شکار ریفائنریز کم پیداواری استعداد پر چل رہی ہیں، گزشتہ مالی سال ریفائنریز کی پیداواری استعداد مزید کم ہوکر 65 فیصدرہ گئی، مالی سال 2010-11میں ریفائنریز نے 68فیصد پیداواری استعداد پر کام کیا تھا۔ انفرادی لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو اے ٹی آر ایل اور پی آر ایل کی پیداوار میں اضافہ جبکہ پارکو، این آر ایل اور بائیکو کی پیداوار میں کمی کا رجحان رہا۔
اے ٹی آر ایل نے 91 اور پی آر ایل نے 77فیصد پر کام کیا، سال 2010-11 میں اے ٹی آر ایل نے 88اور پی آر ایل نے 71فیصد استعداد پر کام کیا تھا، دوسری جانب بائیکو کی پیداواری استعداد 33سے کم ہوکر 14فیصدپر آگئی، پارکو کی پیداواری استعداد 80سے کم ہوکر 63فیصد اور این آر ایل کی پیداواری استعداد 68سے بڑھ کر 76فیصد رہی، ریفائنریز کے پیداواری مکس میں بھی تبدیلی ہوئی اور ریفائنریز نے کم مارجن والی پراڈکٹ فرنس آئل کے بجائے زیادہ مارجن والی پراڈکٹس ڈیزل اور پٹرول کی پیداوار کو ترجیح دی۔