ملکی سیاست ’’کھل جا سم سم‘‘ کی منتظر

پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کے لیے مہم چلائے

، فوٹو؛ فائل

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن پاکستان کی خودمختاری پر حملہ تھا، کمیشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانا چاہیے اس حوالے سے کابینہ سے مطالبہ کروں گا، پاناما پاناما کا شور کرنیوالے بلاول کیا سرے محل، دبئی کے محلات، فرانس کی دولت، 60 ملین ڈالر کا کیس اور ہیروں کے ہار کا قصہ بھول گئے ہیں اور کیا انھیں سوئس کیسز میں ہونے والی سزا یاد نہیں، جس شخص کی والدہ کا نام پانامالیکس میں ہو وہ دوسروں پر انگلی اٹھاتا ہے۔

پیپلز پارٹی کا کرپشن مخالف مہم چلانا ایسے ہے جیسے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے حقوق کے لیے مہم چلائے، دوسری جانب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو اور پارٹی کے سینئر رہنماؤں نے وزیر داخلہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ادھر پی ٹی آئی اور پی پی کے مابین اتحاد کے لیے رابطے جاری ہیں، اپوزیشن کی خواہش ہے کہ حکومت کو جنوری کے پہلے ہفتہ سے ٹف ٹائم دیا جائے، اس لیے ہوشمندی کا تقاضہ ہے کہ ملکی سیاست 90ء کی دہائی کی طرف نہ جائے، تاریخ سے سبق لینے کے لیے موقع زریں ہے، ادراک نہ کیا تو جمہوریت کو خطرہ لاحق۔ لازم ہے کہ سیاست میں ٹمپرامنٹ کی قدر وقیمت کا احساس کیا جائے، نعرہ بازی سے ملکی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی ، ضرورت اس بات کی ہے کہ پی ٹی آئی ، پی پی اور ن لیگ سیاسی ایشوز پر ایک دوسرے کی کردار کشی سے گریز کریں۔

ٹھوس انداز میں سیاسی موقف کو عوام کے سامنے لایا جائے، ذاتی الزامات اور کردار کشی سے رنجشیں نہ بڑھائی جائیں جو معاملات عدالتوں میں کسی فیصلہ یا نتیجہ کے منتظر ہیں ان پر سیاسی بالغ النظری کا ثبوت دیا جائے، تدبر و تحمل سے ملکی کشتی کو بحرانوں سے نکالا جائے۔ایسا ماحول پیدا کرنا سیاسی قیادتوں کا فرض ہے۔

قوم جانتی ہے کہ ملکی سیاست میں پاناما لیکس نے پینڈورا باکس کھول دیا ہے، محب وطن شہریوں کو ملکی صورتحال پر تشویش ہے، سیاسی گرما گرمی سے غیر معمولی ارتعاش پیدا ہوا ہے جوعالمی سطح پر پاناما کے انھی منکشف و مشتہر پیپرز کا فال آؤٹ ہے کہ سابق صدر آصف زرداری کی دبئی آمد سے ایک دن پہلے تلخ بیانات اور الزام تراشیوں کا میدان سج گیا ہے جس سے اندیشہ ہے کہ ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں کے درمیان سیاسی امور اور طرز حکمرانی کے حوالہ سے میڈیا میں جاری گولہ باری میں کہیں مزید شدت نہ آجائے۔


اہم حقیقت یہ ہے کہ سیاست دانوں کو مجموعی ملکی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے تمام اہم اور سلگتے ہوئے ایشوز پر سنجیدہ بحث کرنی چاہیے جب کہ کوشش ہونی چاہیے کہ عدالتوں میں زیر سماعت کیسز پر میڈیا ٹرائل کی سی صورتحال پیدا نہ ہونے پائے، حکومت بھی احتیاط سے کام لے، سیاسی جماعتوں کو مسائل کے سیاسی حل کی طرف بڑھنا چاہیے، کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس شرط ہے، ووٹرزکو یہ تاثر نہیں ملنا چاہیے کہ ان کے سیاسی رہنما ملک کو درپیش اعصاب شکن مسائل اور بحرانوں کے بیچ انٹرنیشنل سیاسی ریسلنگ کا تماشا کر رہے ہیں۔

چنانچہ یہ ٹرننگ پوائنٹ ہے کہ وزیر داخلہ کی طرف سے ایبٹ آباد آپریشن کی رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے جس کا خیر مقدم کرنا چاہیے، اسی طرح دیگر سانحات کی رپورٹس بھی چھپائی نہ جائیں، مجرمانہ غفلتوں کا دور اگر لد چکا تو اسے عملی طور پر ثابت کرنے کا وقت ہے۔ چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ امریکی فورسز نے سیکڑوں میل دور سے یہاں آکر ایک ''شخص'' کو قتل کیا اور لے گئے۔ وہ شخص کون تھا ، ساری قوم جانتی ہے، ن لیگ پیپلز پارٹی کے دور میں ایبٹ آباد تحقیقاتی کارروائی پر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا چکی تھی ، اب کوئی رکاوٹ نہیں، ہر چیز قوم کے سامنے پیش ہونی چاہیے۔

چوہدری نثار کے مطابق خانانی اور کالیا کے ذریعے پاکستان سے بڑ ے پیمانے پر منی لانڈرنگ ہوئی۔ گزشتہ حکومت کے اہلکار بھی شامل تھے۔ امریکا میں الطاف کالیا کے پکڑے جانے پر یہاں ایف آئی اے کو جھنجھوڑا، خاموشی سے انکوائری کرائی تو تشویشناک صورتحال سامنے آئی۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ہم نے کیا، آپریشن ضرب عضب کے باوجود ملک کی اندرونی سیکیورٹی کے لیے 30 ہزار فوجی جوان تعینات کیے۔ گزشتہ ڈیڑھ سے دو سال میں ایف سی اور رینجرز پر 75 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

بلاشبہ کراچی سمیت ملک میں دہشتگردوں کو موجودہ حکومت نے للکارا، پاک فوج نے آپریشن ضرب عضب سے امن قائم کیا، اسی طرح سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں پیسے کی خاطر لوگوں کو زندہ جلایا گیا۔ بات کریڈٹ کی نہیں ، احساس فرض کی ہے، حکومت کا ہر وہ اہلکار قابل مبارک باد ہے جو ملک میں امن کے قیام کی کوششوں میں پیش پیش رہا۔ یہ ریاستی کمٹمنٹ تھی کہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کے سفاک قاتل کو بینکاک سے اٹھا کر عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ تاہم سیاست دان ابھی مزید انتظار کریں ، تاریخ کروٹ لے رہی ہے، کئی سالوں کا جمود ، برس ہا برس کی کرپشن، عوام کے خون پسینے کی کمائی کی بندربانٹ ، ٹارگٹ کلنگ کے دی اینڈ، کک بیکس اور بیرون ملک چھپی دولت ''کھل جا سم سم'' کی منتظر ہے۔

 
Load Next Story