گرانٹ کی عدم فراہمی بلدیہ عظمیٰ بحران کا شکار ملازمین تنخواہ سے محروم

ایڈمنسٹریٹر نے تمام محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات پر پابندی عائد کردی

ایڈمنسٹریٹر نے تمام محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات پر پابندی عائد کردی۔ فائل فوٹو

سندھ حکومت کی طرف سے بلدیہ عظمیٰ کو ماہانہ گرانٹ فراہم نہ کرنے کے باعث ادارے کا مالی بحران بدترین شکل اختیار کرگیا، افسران وملازمین نہ صرف تاحال ماہ جون کی تنخواہوں سے محروم ہیں بلکہ ادارے کی ترقیاتی سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہورہی ہیں،اس کے علاوہ بلدیہ عظمیٰ کی گاڑیوںکو پٹرول پمپس سے فیول کی فراہمی بھی بند ہوگئی، جس سے ایمرجنسی اور دیگر معاملات میں کوئی خطرناک صورتحال بھی پیدا ہوسکتی ہے،

دوسری طرف بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید نے تمام محکموں کے غیر ترقیاتی اخراجات پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ افسران کے پٹرول کوٹے، سروس گاڑیوں کے ڈیزل، افسران کے رہائشی ٹیلیفون کے بلز میں کٹوتی کے احکامات جاری کیے ہیں،ساتھ ہی ساتھ تمام ترقیاتی وغیر ترقیاتی اخراجات کا موجودہ صورتحال میں دوبارہ تجزیہ کیا جا رہا ہے ،


محکمہ مالیات سمیت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے آمدنی جمع کرنے والے محکمہ جاتی افسران کااجلاس منعقد ہوا، محکمہ خزانہ حکومت سندھ نے اب تک بلدیہ عظمیٰ کو آکٹرائے کی مد میں 326 ملین روپے دیے ہیں جس سے 50 فیصد سے زیادہ ملازمین کی تنخواہیں ادا کردی ہیں لیکن تنخواہوں کی مد میں محکمہ خزانہ حکومت سندھ کی جانب سے ملنے والی 525 ملین روپے کی گرانٹ تا حال موصول نہیں ہوئی جس کے باعث باقی محکموں کی تنخواہیں اب تک ادا نہیں کی جاسکیں،

انھوں نے کہا کہ جولائی کے مہینے سے حکومت کی جانب سے ملازمین کی تنخواہوں میں 20فیصد اضافہ کردیا گیا ہے جس کے باعث بلدیہ عظمیٰ کو سوا سو سے ڈیڑھ سو ملین درکار ہونگے اور اس سلسلے میں ایک تفصیلی درخواست محکمہ خزانہ کو پہلے ہی بھیجی جاچکی ہے لیکن اب تک اس پر کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی ، اجلاس میں بلدیہ عظمیٰ کے اسپتالوں،فائربریگیڈ، مشین پول اور مون سون سیزن میں بارشوں کے لیے انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔
Load Next Story