شعبہ نہ ہونے سے جامعہ کراچی اپنی تحقیق اداروں تک پہنچانے میں ناکام

تحقیق ریسرچ جرنلزتک محدود ہے،محض سائنسدان یا نئےآنیوالےطلبا مستفید ہورہے ہیں،ملکی صنعتیں ریسرچ کی افادیت سےمحروم ہیں.

انتظامیہ صنعتوںسے روابط کیلیے سیل قائم کررہی ہے،تفصیلات جلد سامنے آئیںگی،وائس چانسلر ڈاکٹرمحمد قیصر،تاحال سیل قائم نہ ہوسکا. فوٹو: فائل

صنعتی و سرکاری اداروں اور ملٹی نیشنل کمپنیوں سے رابطے کے لیے شعبہ موجود نہ ہونے کے سبب جامعہ کراچی کے سائنسی شعبہ جات اور انسٹی ٹیوٹس میںکی جانے والی ''ریسرچ''ردی کی ٹوکری کی نذرہورہی ہے۔

جبکہ یونیورسٹی کا انتظامی سطح پر عالمی تحقیقی اداروں کے سا تھ بھی موثر رابطے کا کوئی نظام موجود نہیں ہے جس کے سبب جامعہ کراچی انتظامی سطح پر دنیا میں سائنسی تحقیقی اداروں سے ''ریسرچ ایکسچینج'' میں ناکام ہے، گذشتہ 8ماہ سے کام کرنے والی موجودہ انتظامیہ بھی صنعتوں سے روابط کیلیے کسی شعبے کے قیام میں تا حال ناکام ہے جس کے سبب جامعہ کراچی میں کی جانے والی عالمی معیارات کی سائنسی تحقیق ملک میں معاشی ترقی میں کردار ادا کرنے سے قاصر ہے۔

جامعہ کراچی میں تحقیق کے لیے ''سینٹرآف ایکسیلینس فارمیرین بائیولوجی، ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ ، ایچ ای جے ریسرچ سینٹر فار کیمسٹری ، انسٹی ٹیوٹ آف انوائرمینٹل اسٹڈیز ،انسٹی ٹیوٹ آف میرین سائنس ، انسٹی ٹیوٹ آف پلانیٹری اینڈ ایسٹروفزکس ، انسٹی ٹیوٹ آف سسٹینیبل ہیلوپائیتھ ، نیشنل سینٹر فار پروٹو مکس اور نیشنل نوموٹولیجیکل ریسرچ سینٹر'' سمیت سائنسی ریسرچ کے لیے دیگرانسٹی ٹیوٹس قائم ہیں، ان سائنسی ریسرچ اداروں میں سائنس دان تحقیق میں مصروف ہیں۔




حال ہی میں جامعہ کراچی کے ڈاکٹر اے کیو خان انسٹی ٹیوٹ آف بائیوٹیکنالوجی اینڈ جینیٹک انجینئرنگ کے سائنس دانوں نے کپڑے ،فوڈز اور دیگر صنعتوں میں استعمال ہونے والے خامرے تیارکیے ہیں ، اسی انسٹی ٹیوٹ میں ہیپا ٹا ئٹس کے وائرس پرکی گئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کی وجہ بننے والا وائرس دنیا میں موجود وائرس سے الگ ہے ، مزید براں اسی ادارے کے سائنس دانوں نے ایک علیحدہ ریسرچ میں 43 اقسام کے نئے جراثیم دریافت کیے ہیں جودنیا کے کسی اور ملک میں نہیں پائے جاتے۔

دوسری جانب جامعہ کراچی کے ایچ ای جے سینٹرمیں پھلوں کی تیزرفتار پیداواراورکاشت، ٹشو کلچراور دیگر سائنسی موضوعات پر ہونے والی ریسرچ علیحدہ ہے تاہم یونیورسٹی میں صنعتوں سے رابطے کے لیے کسی شعبے کا وجود نہ ہونے کے سبب یہ تمام تحقیق ریسرچ جرنلز تک محدود ہے جس سے محض سائنسدان یا نئے آنے والے طلبا تومستفید ہورہے ہیں تاہم ملکی صنعتیں ریسرچ کی افادیت سے محروم ہیں '' ایکسپریس'' نے اس معاملے پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر سے ان کی را ئے جاننے کے لیے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ صنعتوں سے روابط کے لیے ایک سیل قائم کررہی ہے جس کی تفصیلات جلد سامنے آئیں گی تاہم کئی روز بعد دوبارہ استفسار کے باوجود وہ کسی بھی سیل کے قیام کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکے۔
Load Next Story