وزیراعظم پاکستان کا دورہ بوسنیا

بوسنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع سے استفادہ کرے گا

۔ فوٹو؛ فائل

KANDAHAR:
وزیراعظم پاکستان بوسنیا ہرزیگوینیا کے تین روزہ سرکاری دورے پر ہیں، جہاں انھوں نے اپنے ہم منصب ڈینس زیودے وچ سے ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ بدھ کو وزیراعظم نوازشریف بوسنیائی ہم منصب سے ملاقات کے لیے انسٹی ٹیوشن بلڈنگ پہنچے تو ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ انھیں بوسنیا کی مسلح افواج کے چاک وچوبند دستے نے سلامی دی جب کہ دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔

بوسنیا ہرزیگوینیا، جس نے گزشتہ صدی میں انتہائی کشیدہ حالات و بدامنی کا سامنا کیا، اب مذاکرات کے ذریعے قیام امن کے لیے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی ترقی مثالی ہے، دنیا کے دیگر ممالک کو بھی بوسنیا سے سبق سیکھنا چاہیے، مذاکرات ہی کسی بھی تنازعہ کو حل کرنے کا پرامن طریقہ کار ہیں۔

بوسنیا کے وزیراعظم نے پاکستان کی دوستی کو سراہتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ پاکستان 25 سال سے ثابت شدہ اور مخلص دوست ہے، پاکستان نے ہر فورم پر حمایت کی ہے، ہم تمام شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کریںگے، باہمی تجارت بہتر ہو رہی ہے، مشترکہ کمیشن بنانے پر غور کر رہے ہیں، نوازشریف کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے بلکہ دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ بہتر اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، وزیراعظم پاکستان کے بین الاقوامی دورے اسی بات کا مظہر ہیں لیکن کچھ عاقبت نااندیش ریاستیں پاکستان کی ان پرخلوص کاوشوں کے درپے ہیں، بھارت بھی ان میں سے ایک ہے جو اپنی مخالفت اور دشمنی سے کبھی باز نہیں آیا، نیز افغانستان نے بھی نادان دوست ہونے کا ثبوت دیا ہے جب کہ پاکستان نے ہر آڑے وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں امن ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے، بدقسمتی سے افغانستان میں جب بھی کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوتا ہے تو اس کا الزام بغیر کسی ثبوت اور تحقیق کے پاکستان پر لگا دیا جاتا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان طویل تاریخی، ثقافتی اور مذہبی تعلقات ہیں، افغانستان کو یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ 1979 میں سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے 3.5 ملین سے زائد افغان مہاجرین کو کھلے دل سے پناہ دی، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان افغانستان میں پائیدار امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے۔


اس سلسلے میں پاکستانی وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار نے واضح کیا ہے کہ حکومت دہشتگردی کی باقیات ختم کرکے دم لے گی، افغانستان کا دشمن پاکستان کا دشمن ہے اور افغانوں کا دوست پاکستان کا دوست ہے، افغان حکومت بے بنیاد الزامات سے گریز کرے اور دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے میں تعاون کرے، افغان مریضوں کے ساتھ رعایت کی جائے گی تاہم دہشت گردی کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کرنا پاکستان کی ذمے داری ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر داخلہ نے پاک افغان سرحد لنڈی کوتل خیبر ایجنسی کے دورہ کے موقع پر کیا۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ طورخم بارڈر پر ویزا اور نادرا کے جدید دفاتر قائم کرنے کی منظوری دیدی گئی ہے۔

یہ بات صائب ہے کہ وفاقی حکومت کی موثر پالیسیوں اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں کی بدولت دہشتگردی کے واقعات میں نمایاں کمی آئی ہے، اس کے برعکس دنیا میں دہشتگردی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، ضرب عضب آپریشن کے ذریعے دہشتگردوں کا صفایا کردیا گیا ہے اور باقی ماندہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز کی موثر کارروائیوں کی وجہ سے سرحد پار چلے گئے ہیں۔ صائب ہوگا کہ جو دہشتگرد پاکستان میں داخل ہوکر معصوم جانوں سے کھیلتے ہیں ان کی آمد ہر صورت روکی جائے، اس سلسلے میں پاک افغان سرحد کی نگرانی کے لیے اقدامات قابل تحسین ہیں۔

چوہدری نثار نے بریفنگ میں بتایا کہ سرحد پار سے دہشتگرد عناصر کی نقل و حرکت روکنے کے لیے 2020ء تک چھ کنٹرولڈ روٹس قائم کریں گے اور کسی کو بلاروک ٹوک آزادانہ پاکستان میں گھسنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے حکومت اور عسکری قیادت کی کاوشیں قابل ستائش ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے بوسنیائی وزیراعظم سے ملاقات میں القاعدہ، طالبان اور مسئلہ کشمیر پر بھی بات چیت کی۔

وزیراعظم نے کہا ہم نے القاعدہ اور طالبان کے حوالے سے سخت فیصلے کیے اور ملک سے القاعدہ اور طالبان کا صفایا کردیا ہے، پاکستان میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے، القاعدہ اور ٹی ٹی پی کے محفوظ ٹھکانوں کو ختم کیا گیا۔ وزیراعظم پاکستان کا کہنا صائب ہے لیکن اس امر سے پہلوتہی نہیں برتی جاسکتی کہ طالبان اور دہشت گرد عناصر کی ابھی مکمل بیخ کنی نہیں ہوئی ہے، اس کے کئی ہرکارے اب بھی ملک میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں جن کی مکمل سرکوبی تک مطمئن نہیں بیٹھنا چاہیے۔

وزیراعظم پاکستان کے دورۂ بوسنیا کو خوش آیند قرار دیا جاسکتا ہے کیونکہ بوسنیا کے ساتھ دفاع، توانائی، تعلیم، زراعت، تجارت، سرمایہ کاری، صنعت، دفاعی پیداوار سمیت دس شعبوں میں تعاون پر اتفاق ہوا ہے، سرکاری پاسپورٹ پر ویزا پابندی جلد ختم ہو جائے گی، بوسنیا پاکستان میں سرمایہ کاری کے پرکشش مواقع سے استفادہ کرے گا، توقع ہے دونوں ملکوں کے تاجر اور سرمایہ کار مختلف شعبوں میں مواقع سے فائدہ اٹھائیںگے۔
Load Next Story