کراچی کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا جارہا ہےلیاقت بلوچ
ترقی پسند دانشور پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے.
ترقی پسند دانشور پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں،مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے۔ فوٹو: پی پی آئی/فائل
MIRANSHAH:
جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جو لوگ پاکستانی شہریت رکھنا گوارا نہیں کرتے آج انہیں ریاست بچانے کی فکر ہورہی ہے۔
ترقی پسند دانشور پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں'مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے 'عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلیے کراچی کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی ترازو کے نشان سے انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ ا ن خیالات کا اظہار انھوں نے پنجاب کالونی گرائونڈ میں ایک روزہ امید ِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں بد امنی کا راج ہے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی ہے 'ہر آنے والا دن مایوسی اور مشکلات و مصائب ساتھ لاتا ہے ایسے حالات میں امید پاکستان کانفرنس کا انعقاد قوم کو ایک امید اور انقلاب کی نوید دے گا۔ انھوں نے کہا کہ قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے آزاد وطن کے لیے جدوجہد کی تھی اور انہیں یقین تھا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میںایسی نظریاتی ریاست وجود میں آئے گی،جو مدینہ جیسی ماڈل ریاست ہوگی مگر 65 سال گزرنے کے باوجود قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کو پورا نہیں کیا جا سکا اور پاکستان اسلامی ریاست نہیں بن سکا ہے۔
جماعت اسلامی کے جنرل سیکرٹری لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ جو لوگ پاکستانی شہریت رکھنا گوارا نہیں کرتے آج انہیں ریاست بچانے کی فکر ہورہی ہے۔
ترقی پسند دانشور پاکستان کو سیکولر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں'مگر ہم ایسا نہیں ہونے دینگے 'عالمی استعماری قوتوں کے ایجنڈے کی تکمیل کیلیے کراچی کو بدامنی کی آماجگاہ بنایا جارہا ہے۔ جماعت اسلامی ترازو کے نشان سے انتخاب میں بھرپور حصہ لے گی۔ ا ن خیالات کا اظہار انھوں نے پنجاب کالونی گرائونڈ میں ایک روزہ امید ِ پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ ملک میں بد امنی کا راج ہے کسی کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ معمول بن چکی ہے 'ہر آنے والا دن مایوسی اور مشکلات و مصائب ساتھ لاتا ہے ایسے حالات میں امید پاکستان کانفرنس کا انعقاد قوم کو ایک امید اور انقلاب کی نوید دے گا۔ انھوں نے کہا کہ قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے آزاد وطن کے لیے جدوجہد کی تھی اور انہیں یقین تھا کہ ان کی کوششوں کے نتیجے میںایسی نظریاتی ریاست وجود میں آئے گی،جو مدینہ جیسی ماڈل ریاست ہوگی مگر 65 سال گزرنے کے باوجود قائد اعظم محمد علی جناح کے خواب کو پورا نہیں کیا جا سکا اور پاکستان اسلامی ریاست نہیں بن سکا ہے۔