واٹر بورڈ زیر زمین پائپوں کی چوری کا معاملہ دلچسپ شکل اختیار کر گیا
سپرنٹنڈنٹ انجینئر کھدائی رکوانے کے لیے متحرک
سپرنٹنڈنٹ انجینئر کھدائی رکوانے کے لیے متحرک (فوٹو ایکسپریس)
کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کورنگی ڈویژن میں زیرزمین پائپوں کی چوری کا معاملہ دلچسپ شکل اختیار کرگیا ہے معاملے کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی نے تحقیقات کو نتیجہ خیز بنانے اور اصل حقائق تک پہنچنے کے لیے زمین کی کھدائی کا فیصلہ کیا ہے تاہم کورنگی ڈویژن کے سپرنٹنڈنٹ انجینئر سعید شیخ کھدائی کو رکوانے کے لیے متحرک ہوگئے ہیں
جبکہ دوسری طرف واٹربورڈ کی انتظامیہ بھی سپرنٹنڈنٹ انجینئر کی پشت پناہی کررہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس معمولی نوعیت کے معاملے کو سیاسی مداخلت پر غیر ضروری اہمیت دی جارہی ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کورنگی ڈویژن میں بڑے پیمانے پر زیرزمین پائپوں کو زمین سے نکال دیا گیا،
اپنی نوعیت کی اس منفرد اور انوکھی واردات کی جب خبریں میڈیا پر آئیں تو واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس واردات میں ملوث سپرنٹنڈنٹ انجینئرز سمیت دیگر اہلکاروں کو بچانے کے لیے معاملے کو دبانے کی کوشش کی مگر اعلیٰ سطح پر معاملے کا نوٹس لینے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی،
اس تحقیقاتی کمیٹی نے انتظامیہ کی خواہش کے مطابق رپورٹ دیدی جبکہ انتظامیہ نے اس واردات میں ملوث اصل کرداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس واردات کی نشاندہی کرنے والے سب انجینئر کو معطل کردیا کہ تم نے اس واردات کو طشت ازبام کیوں کیا تاہم اعلیٰ سطح کے دبائو کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے اور معطل سب انجینئر کو بحال کرنے پر مجبور ہوگئی،
نئی تحقیقاتی کمیٹی نے غیرجانبداری کے ساتھ تحقیقات شروع کررکھی ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ افسران کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں، اب تحقیقاتی کمیٹی نے کورنگی ڈویژن میں مختلف مقامات پر کھدائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے توقع ہے کہ جمعہ یا ہفتہ کو کھدائی کی جائے گی
جبکہ دوسری طرف واٹربورڈ کی انتظامیہ بھی سپرنٹنڈنٹ انجینئر کی پشت پناہی کررہی ہے، اس کا کہنا ہے کہ اس معمولی نوعیت کے معاملے کو سیاسی مداخلت پر غیر ضروری اہمیت دی جارہی ہے، تفصیلات کے مطابق کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کورنگی ڈویژن میں بڑے پیمانے پر زیرزمین پائپوں کو زمین سے نکال دیا گیا،
اپنی نوعیت کی اس منفرد اور انوکھی واردات کی جب خبریں میڈیا پر آئیں تو واٹربورڈ کی انتظامیہ نے اس واردات میں ملوث سپرنٹنڈنٹ انجینئرز سمیت دیگر اہلکاروں کو بچانے کے لیے معاملے کو دبانے کی کوشش کی مگر اعلیٰ سطح پر معاملے کا نوٹس لینے پر ایک تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی گئی،
اس تحقیقاتی کمیٹی نے انتظامیہ کی خواہش کے مطابق رپورٹ دیدی جبکہ انتظامیہ نے اس واردات میں ملوث اصل کرداروں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے اس واردات کی نشاندہی کرنے والے سب انجینئر کو معطل کردیا کہ تم نے اس واردات کو طشت ازبام کیوں کیا تاہم اعلیٰ سطح کے دبائو کے باعث واٹربورڈ کی انتظامیہ نئی تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے اور معطل سب انجینئر کو بحال کرنے پر مجبور ہوگئی،
نئی تحقیقاتی کمیٹی نے غیرجانبداری کے ساتھ تحقیقات شروع کررکھی ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ افسران کے بیانات قلمبند کرلیے ہیں، اب تحقیقاتی کمیٹی نے کورنگی ڈویژن میں مختلف مقامات پر کھدائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے توقع ہے کہ جمعہ یا ہفتہ کو کھدائی کی جائے گی