2012 پورا سال سیاسی بحران رہے حکومت بچ نکلنے میں کامیاب

سیاسی میدان میں بڑی ہلچل رہی، مختلف چیلنجوں کا سامنا رہا، مفاہمتی پالیسی نے کام دکھایا

کمزور مخلوط حکومت کا اتنا وقت گزارنا معجزے سے کم نہیں، سیاسی تجزیہ کاروں کے تاثرات۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں رواں سال 2012 میں بھی سیاسی میدان میں بڑی ہلچل رہی۔

بعض مواقع پر تو ایسا لگا کہ حکومت صبح گئی کہ شام گئی تاہم ماضی کی طرح مصالحت اورمفاہمت کی پالیسی نے کام دکھایا۔ معیشت ہو یا تجارت، سیاست ہو یا سفارت، پارلیمان ہو یا عدالت، ہر فورم پر حکومت کو کئی چیلنجوں کا سامنا رہا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے بعض تجزیہ کاروں اور کچھ سیاستدانوں سے جب بات کی گئی کہ رواں سال حکومت کیلیے سب سے بڑا چیلنج کیا رہا، بڑی کامیابی اور ناکامی ان کی نظر میں کیا ہے؟ تو مختلف جواب سننے کو ملے۔


حکومت کی اتحادی جماعت مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری جنرل سینیٹر سید مشاہد حسین نے کچھ مثبت پہلوں کی نشاندہی کی اور کہا کہ پہلی بار پاکستان میں حکومت نے مشاورت، مصالحت اور اتفاق رائے سے معاملات طے کرنے کا رواج ڈال، یہ ایک نئے سیاسی کلچر کا آغاز ہے۔حکومت کی سب سے بڑی ناکامی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف کوئی واضح اور ٹھوس حکمت عملی نہ بنانا ہے۔



انھوں نے کہا کہ پاکستان میں سیاستدان غیر رسمی طور پر نئے رولز آف دی گیم پر اتفاق کر رہے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ماضی کے تلخ تجربوں سے انھوں نے سیکھا ہے۔تجزیہ کار ظفر اللہ خان کے مطابق حکومت کو متنازع میمو، کراچی ٹارگٹ کلنگ، بلدیاتی نظام کے معاملے پر سندھ میں مزاحمت، بلوچستان میں ناکامی جیسے بڑے چیلنج درپیش رہے۔ کامیابی اگر دیکھیں تو اتنے بحرانوں سے بچ جانا ہی بڑی کامیابی ہے۔ملک میں جمہوری عمل کے تسلسل کا کریڈٹ اپوزیشن کی مسلم لیگ (ن)کو بھی جاتا ہے۔
Load Next Story