آئی جی ایف سی لاپتہ افراد لائیں یا ملوث اہلکار حوالے کریں چیف جسٹس

فیصلہ سنا دینگے، ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرادینگے

فیصلہ سنا دینگے، ملوث اہلکاروں کو گرفتار کرادینگے۔ فوٹو ایکسپریس

عدالت عظمیٰ نے بلوچستان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے متعقلہ حکومتوں اور اداروں کی طرف سے جمع کیے گیے مشترکہ بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کر کے مسترد کر دیا اور ایک نیا مشترکہ بیان جمع کرنے کی ہدایت کی ہے جو چیف سیکریٹری بلوچستان، سیکریٹری داخلہ و دفاع اور آئی جی ایف سی کا دستخط کردہ ہو۔ جمعرات کو ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے عدالت کے حکم کے مطابق بیان جمع کیا تاہم عدالت نے بیان ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اس بیان میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئی یقین دہانی نہیں کرائی گئی اور نہ ہی وفاقی حکومت اور آئی جی ایف سی نے اس پر دستخظ کیے ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ریاست کے اندر ریاست نہ بنائیں۔ آئی جی ایف سی لاپتہ لوگ لے آئیں یا پھر وہ ملوث اہلکار قانون کے حوالے کریں جن پر لوگوں کو اٹھانے کا الزام ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی نے کہا کہ صوبائی حکومت حالات کو بہتر کرنے میں سنجیدہ ہے اور عدالت کے ہر حکم پر اس کی روح کے مطا بق عمل کیا جائے گا۔ عدالت نے ڈیرہ بگٹی میں داخلے پر پابندی کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اس علاقے کو نو گو ایریا نہ بنایا جائے،

لوگوں کی نقل و حمل کو محدود نہ کیا جائے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حکومت نے اسلحہ لے کر ڈیرہ بگٹی جانے پر پابندی عائد کی ہے اس کے علاوہ کوئی پابندی نہیں۔ چیف جسٹس نے اس کی تائید کی اور کہا کہ ایک گولی بھی نہیں جانی چاہیے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ میڈیا، وکلا اور سول سوسائٹی کے ارکان کو ڈیرہ بگٹی کا دوہ کرایا جائے اسے نوگوایریا نہ بنایا جائے۔


ایف سی اور ایجنسیوں کے وکیل راجا ارشاد نے گزشتہ روز کی عدالتی کارروائی کی رپورٹنگ پر اعتراض کیا اور کہا کہ ایک اخبار نے یاسین آزاد کے بیان کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور ایف سی کو بدنام کیا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر یاسین آزاد کے بیان کے رپورٹ ہونے میں خرابی نہیں۔ اخبارات میں عدلیہ کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھ دیا جاتا ہے لیکن اس بنیاد پر میڈیا کو رپورٹنگ سے نہیں روکا جا سکتا۔ فاضل جج نے کہا کہ میڈیا کی بہت سی چیزیں شا ید ہمیں اچھی نہ لگیں

لیکن یہ ایک آزاد معاشرے کے لوازمات میں سے ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ حالات بہت حد تک تبدیل ہوگئے ہیں۔ پہلے ایف سی کی طرف سے سرکاری لیٹر کا جواب نہیں دیا جا تا تھا لیکن اب مطلوبہ ریکارڈ بھی مل جاتا ہے۔ انھوں نے کہا یہ سب عدالتی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آئی جی ایف سی کو آٹھ مقدمات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں ایف سی اہلکار لوگوں کو اٹھانے میں ملوث ہیں لیکن ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے بندوق اٹھا کر لوگوں کے پیچھے نہیں جانا یہ کام حکومت کا ہے ہم فیصلہ سنا دیں گے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ تھوڑی سی بہتری آئی ہے، وزیر اعظم نے ایک اور کمیٹی بنادی ہے،

یہ ان کی مہربانی ہے۔ چیف جسٹس نے آبزرویش دی کہ بلوچستان کے مقدمے میں ہر چیزکی نشاندہی ہوگئی ہے۔ عدالت نے اپنا کام کر دیا ہے اب صرف فیصلہ دینا باقی رہ گیا ہے۔ انھوں نے کہا عدالت حکومت کو مہلت دے رہی ہے کہ وہ احساس کرے اوراپنا کام کرے، اسی میں ملک کی بہتری ہو گی۔ ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست پر سماعت31 جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ افرادنے شکایت کی ہے کہ ان کے اقارب کوقلعے میں بند کیاگیا ہے، ریاست کے اندر ریاست نہ بنائیں، آئی جی سے کہیں کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے لکھ کردیں۔

 

Recommended Stories

Load Next Story