نیٹو سپلائی ہتھیار گولہ بارود سمیت24اشیا لیجانے پر پابندی ہوگی
ایک سال توسیع کی جاسکے گی،48گھنٹے میںدستخط کاامکان
ایک سال توسیع کی جاسکے گی،48گھنٹے میںدستخط کاامکان فائل فوٹو
نیٹوسپلائی کو باضابطہ بنانے کیلیے پاکستان اورامریکاکے مابین مجوزہ مفاہمتی یادداشت کامسودہ منظرعام پر آگیاہے جس کے تحت پاکستان کے راستے نیٹو فورسزکوچھوٹے بڑے ہتھیاروگولہ بارود سمیت 24 اشیاکی سپلائی کی ممانعت ہوگی۔ایکسپریس کو دستیاب 12 صفحات پر مشتمل نئے کسٹمز جنرل آرڈرکے مسودے کے مطابق نیٹو سپلائی کیلیے کراچی سے چمن تک اورکراچی سے طورخم تک دوروٹ طے کیے گئے ہیں،
پاکستان کی جانب سے سپلائی کی مانیٹرنگ اورسیکیورٹی کیلیے سینٹرل کوآرڈی نیشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، سیکریٹری دفاع اتھارٹی کی سربراہ ہوںگی جبکہ فوکل پرسن کے فرائض بھی انجام دیںگی، اتھارٹی کے ممبران میں وزارت داخلہ،وزارت پورٹس اینڈ شپنگ، ایف بی آر،این ایل سی،این ایچ اے،سول ایوی ایشن اور ریلوے کے نمائندے شامل ہوںگے، پاکستان میں امریکی ڈیفنس آفس کانمائندہ امریکی فوکل پرسن ہوگا۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری 16 صفحات پر مشتمل نوٹیفکیشن میں ٹرانزٹ ٹریڈاورایساف فورسزکو پٹرولیم مصنوعات ودیگر سامان کی سپلائی کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کیلیے تمام رُولز وضع کیے گئے ہیں۔
ایف بی آرحکام کے مطابق نیٹوکنٹینرز کی کلیئرنس کے موقع پر کلیئرنگ ایجنٹ کو 250 ڈالر فی کنٹینرجمع کرانا ہوںگے تاہم دستاویز کے مطابق یہ رقم نیشنل بینک کی برانچ میں جمع کرانا ہوگی۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق نیٹو سپلائی سڑک اور ریلوے کے ذریعے ہوگی ، سامان کو نقصان کے ذمے دار کمرشل کیریئرز ہوںگے ، چھوٹے بڑے ہتھیارلے جانے اور پاکستان میں ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
،پاکستان معاہدے سے ہٹ کر سپلائی روک سکے گا، وزارت دفاع روزانہ کی بنیاد پر معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی، دونوں ممالک کے حکام ہردوماہ بعد ملاقات کریںگے اور کسی بھی غلط فہمی کو باہمی طور پر حل کیاجائے گا، معاہدے کے تحت پاکستان سامان کی محفوظ اور تیز منتقلی کیلئے سہولیات فراہم کرے گا اور اس کی کوئی فیس یا ٹیکس نہیں لے گا تاہم کمرشل کیریئرزکو فیس اداکرنی ہوگی،
یہ معاہدہ دستخطوں کے بعد 31 دسمبر 2015تک قابل عمل ہوگا اورباہمی رضامندی سے اس میں ایک سال کی توسیع بھی کی جاسکے گی۔این این آئی کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط آئندہ 48 گھنٹے میںہونے کا امکان ہے۔ اے ایف پی کے مطابق خیبرایجنسی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر نیٹوسپلائی جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بند رہی
جبکہ چمن بارڈر پر 17 کنٹینر سرحد پار جانے کیلیے تیارکھڑے ہیں،کوئٹہ میں بھی 20 ٹرک پارک کیے گئے ہیں جو کلیئرنس کے بعد چمن بارڈرجائیںگے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے نیٹو سپلائی کیلیے سیکیورٹی کا مشترکہ لائحہ عمل تیارنہ کرنے پر تحفظات کا اظہارکیاہے اور مرکز کومراسلہ ارسال کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کسی قسم کے ناخوشگوارواقعے کی ذمے داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں ہوگی۔
پاکستان کی جانب سے سپلائی کی مانیٹرنگ اورسیکیورٹی کیلیے سینٹرل کوآرڈی نیشن اتھارٹی قائم کی جائے گی، سیکریٹری دفاع اتھارٹی کی سربراہ ہوںگی جبکہ فوکل پرسن کے فرائض بھی انجام دیںگی، اتھارٹی کے ممبران میں وزارت داخلہ،وزارت پورٹس اینڈ شپنگ، ایف بی آر،این ایل سی،این ایچ اے،سول ایوی ایشن اور ریلوے کے نمائندے شامل ہوںگے، پاکستان میں امریکی ڈیفنس آفس کانمائندہ امریکی فوکل پرسن ہوگا۔ ایف بی آر کی طرف سے جاری 16 صفحات پر مشتمل نوٹیفکیشن میں ٹرانزٹ ٹریڈاورایساف فورسزکو پٹرولیم مصنوعات ودیگر سامان کی سپلائی کی چیکنگ اور مانیٹرنگ کیلیے تمام رُولز وضع کیے گئے ہیں۔
ایف بی آرحکام کے مطابق نیٹوکنٹینرز کی کلیئرنس کے موقع پر کلیئرنگ ایجنٹ کو 250 ڈالر فی کنٹینرجمع کرانا ہوںگے تاہم دستاویز کے مطابق یہ رقم نیشنل بینک کی برانچ میں جمع کرانا ہوگی۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق نیٹو سپلائی سڑک اور ریلوے کے ذریعے ہوگی ، سامان کو نقصان کے ذمے دار کمرشل کیریئرز ہوںگے ، چھوٹے بڑے ہتھیارلے جانے اور پاکستان میں ذخیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی
،پاکستان معاہدے سے ہٹ کر سپلائی روک سکے گا، وزارت دفاع روزانہ کی بنیاد پر معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لے گی، دونوں ممالک کے حکام ہردوماہ بعد ملاقات کریںگے اور کسی بھی غلط فہمی کو باہمی طور پر حل کیاجائے گا، معاہدے کے تحت پاکستان سامان کی محفوظ اور تیز منتقلی کیلئے سہولیات فراہم کرے گا اور اس کی کوئی فیس یا ٹیکس نہیں لے گا تاہم کمرشل کیریئرزکو فیس اداکرنی ہوگی،
یہ معاہدہ دستخطوں کے بعد 31 دسمبر 2015تک قابل عمل ہوگا اورباہمی رضامندی سے اس میں ایک سال کی توسیع بھی کی جاسکے گی۔این این آئی کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط آئندہ 48 گھنٹے میںہونے کا امکان ہے۔ اے ایف پی کے مطابق خیبرایجنسی میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر نیٹوسپلائی جمعرات کو مسلسل دوسرے دن بند رہی
جبکہ چمن بارڈر پر 17 کنٹینر سرحد پار جانے کیلیے تیارکھڑے ہیں،کوئٹہ میں بھی 20 ٹرک پارک کیے گئے ہیں جو کلیئرنس کے بعد چمن بارڈرجائیںگے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا حکومت نے نیٹو سپلائی کیلیے سیکیورٹی کا مشترکہ لائحہ عمل تیارنہ کرنے پر تحفظات کا اظہارکیاہے اور مرکز کومراسلہ ارسال کرتے ہوئے واضح کردیا ہے کہ کسی قسم کے ناخوشگوارواقعے کی ذمے داری صوبائی حکومت پر عائد نہیں ہوگی۔