2012ء میں عامر اجے سنجے رنبیر اور رندیپ منفرد کرداروں میں چھا گئے
ابھے دیول،عرفان خان،جان ابراہم، ورون دھون اوررشی کپورنے بھی روٹین سے ہٹ کر کام کرکے دل موہ لیے۔
2012 میں سنجے دت، عامر خان اور رنبیر کپور اپنی جاندار پرفارمنس سے بالی وڈ میں نمایاں رہے۔ فوٹو : فائل
سال 2012ء میں بالی ووڈ ہیروز اپنی اداکاری اور پرسنالٹی کے ساتھ سلور اسکرین پر خوب دھوم مچائی 'ان کی ریلیز ہونے والی فلموں نے باکس آفس پر ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ لگی رہی اور فلم بین بھی اس مقابلہ بازی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
مسٹرپرفیکٹ عامر خان ایکشن 'تھرل اور اسپنس سے بھرپور فلم ''تلاش'' کے ساتھ جلو ہ گر ہوئے ' جو ان کی پچھلی فلموں سے بالکل مختلف تھی۔جس میں وہ بیک وقت سخت گیر پولیس افسر اور غمزدہ باپ کے رول کے ساتھ عامر باکس آفس پر رنگ جمانے میں کامیاب رہے۔بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان ''جب تک ہے جان'' کے ساتھ اپنی دھاک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جب کہ دبنگ خان ''سلمان خان'' بھی ''ایک تھا ٹائیگر'' اور ''دبنگ ٹو'' کے ذریعے اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے وہ حسب روایت سو کروڑ کلب میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سیف علی خان رومانٹک ہیرو کے طور پر تو ''کاک ٹیل'' کے ساتھ ان کا چارم برقرار رہا۔ کھلاڑیوں کے کھلاڑی اکشے کمار بھی ''ہائوس فل ٹو'' اور '' راوڈی راٹھور'' کے ذریعے خانوں سے پیچھے نہیں رہے۔ اجے دیوگن بھی 2012ء کے ٹاپ ٹین میل ایکٹرز کی لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے'ان کی ہوم پروڈکشنز میں بننے والی دو فلمیں ''بول بچن'' اور ''سن آف سردار'' ریلیز ہوئیں جن میں ''سن آف سردار'' جیسی مصالحہ فلم میں اجے نے سنگھ کے کردار میں فلم بینوں کو کامیڈی کا شیڈ دیتے ہوئے تفریح فراہم کی اور سردار کے روپ میں پسند بھی کیے گئے۔ منا بھائی (سنجے دت ) اس سال ''اگنی پتھ'' میں سفاک اور بے رحم 'کنچا' کے روپ میں ۔
سنجے نے اتنی مہارت سے ولن کا یہ کردار ادا کیا کہ دیکھنے والوں کی رگوں میں خوف سے خون جم سا گیا۔ بالی وڈ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سنجے نے اس رول کے ذریعے بالی وڈ کے روایتی ولن کو ایک بار پھر زندہ کرنے میں کامیاب رہے ۔ ''ماچو مین'' جان ابراہم نے اس سال بطور پروڈیوسر کیرئیر کا آغاز کیا اور ان کی بنائی گئی فلم ''وکی ڈونر' 'اپنی بولڈ کہانی کی وجہ سے نقادوں کی تعریف سمیٹنے میں کامیاب رہی۔''کپور بوائے'' چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور کے لیے یہ سال بہت اچھا رہا،سیاستدان سے لے کر راک اسٹار تک کا جو کردار بھی کیا' اس نے بخوبی نبھائے' لیکن ان کے کیرئیر کا سب سے اچھا رول فلم 'برفی ' میں کیا گیا گونگے اور بہرے لڑکے کا کردار رہا جو انھوں نے اتنے حقیقی انداز میں ادا کیا کہ اس کردار سے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے رول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اداکار عرفان خان نے فلم 'لائف آف اے پائی' میں 'پائی پٹیل ' کا کردار کیا اور انتہائی متاثر کن انداز میں بولے گئے ڈائیلاگز سے پوری فلم میں جان ڈال دی'جب کہ ہالی وڈ کی فلم ''دی امیزنگ سپائیڈر مین''میں بھی ان کا مختصر کردار کی بھی تعریف کی گئی۔'مون سون'ویڈنگ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنیوالے رندیپ ہودا کو ایکٹنگ پر ہر جانب سے فل مارکس توملے لیکن کسی قابل ذکر پروڈیوسر کی توجہ نہ مل سکی۔ کرینہ کی فلم 'ہیروئن'میں رندیپ نے کرینہ کو چاہنے والے کرکٹر کا رو ل کچھ اس ڈھنگ سے بنھایا کہ مرکزی کردار نہ ہونے کے باوجود چھا کر 2012 کے ہٹ ہیروز کی لسٹ میں نام لکھوانے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے علاوہ ''کاک ٹیل '' اور ''جسم ٹو'' بھی اس کے کیرئیر کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔
ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون کے بیٹے ورن دھون اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ بالی وڈ کے ٹاپ ڈائریکٹر کرن جوہر نے انھیں اپنی فلم ''اسٹوڈنٹ آف دی ائیر''کے لیے منتخب کر لیا۔ ورن نے اپنی شاندار اداکاری سے کرن کے انتخاب کو صحیح ثابت کر دکھایا۔ بے ساختہ اداکاری اور شانداز ڈانس مووز سے ورن نے سب کا دل موہ لیا اور اب وہ فلم پروڈیوسرز کے علاوہ ڈانس پرفارمنس کے لیے ایوارڈز فنکشنز کی چوائس بن گئے ہیں۔
ماضی کے رومینٹک ہیرو رشی کپور نے'' اگنی پتھ'' میں'رف اینڈ ٹف' ولن کا کردار ادا کر کے سب کوحیران کیا تو کرن جوہر کی''اسٹوڈنٹ آف دی ائیر'' میں بالکل مختلف اور 'ہٹ' کے گے ڈین کے روپ میں ناقدین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔ابھے دیول روٹین سے ہٹ کر کی گئی فلموں اور کرداروں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ چارمنگ ابھے اپنی دلکش پرسنالٹی کی وجہ سے لڑکیوں میں مقبول تو ہیں مگر اپنی اداکاری کی وجہ سے بھی سراہے جاتے ہیں۔ پرکاش جھا کی فلم 'چکر ویو' میں ماو باغی کے رول میں بھی ابھے کی اداکاری نے داد سمیٹی' گو کہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی لیکن ابھے کے کام کی سب نے تعریف کی۔
مسٹرپرفیکٹ عامر خان ایکشن 'تھرل اور اسپنس سے بھرپور فلم ''تلاش'' کے ساتھ جلو ہ گر ہوئے ' جو ان کی پچھلی فلموں سے بالکل مختلف تھی۔جس میں وہ بیک وقت سخت گیر پولیس افسر اور غمزدہ باپ کے رول کے ساتھ عامر باکس آفس پر رنگ جمانے میں کامیاب رہے۔بالی وڈ کنگ شاہ رخ خان ''جب تک ہے جان'' کے ساتھ اپنی دھاک برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جب کہ دبنگ خان ''سلمان خان'' بھی ''ایک تھا ٹائیگر'' اور ''دبنگ ٹو'' کے ذریعے اس دوڑ میں پیچھے نہیں رہے وہ حسب روایت سو کروڑ کلب میں اپنی جگہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔
سیف علی خان رومانٹک ہیرو کے طور پر تو ''کاک ٹیل'' کے ساتھ ان کا چارم برقرار رہا۔ کھلاڑیوں کے کھلاڑی اکشے کمار بھی ''ہائوس فل ٹو'' اور '' راوڈی راٹھور'' کے ذریعے خانوں سے پیچھے نہیں رہے۔ اجے دیوگن بھی 2012ء کے ٹاپ ٹین میل ایکٹرز کی لسٹ میں جگہ بنانے میں کامیاب رہے'ان کی ہوم پروڈکشنز میں بننے والی دو فلمیں ''بول بچن'' اور ''سن آف سردار'' ریلیز ہوئیں جن میں ''سن آف سردار'' جیسی مصالحہ فلم میں اجے نے سنگھ کے کردار میں فلم بینوں کو کامیڈی کا شیڈ دیتے ہوئے تفریح فراہم کی اور سردار کے روپ میں پسند بھی کیے گئے۔ منا بھائی (سنجے دت ) اس سال ''اگنی پتھ'' میں سفاک اور بے رحم 'کنچا' کے روپ میں ۔
سنجے نے اتنی مہارت سے ولن کا یہ کردار ادا کیا کہ دیکھنے والوں کی رگوں میں خوف سے خون جم سا گیا۔ بالی وڈ کے ناقدین کا کہنا ہے کہ سنجے نے اس رول کے ذریعے بالی وڈ کے روایتی ولن کو ایک بار پھر زندہ کرنے میں کامیاب رہے ۔ ''ماچو مین'' جان ابراہم نے اس سال بطور پروڈیوسر کیرئیر کا آغاز کیا اور ان کی بنائی گئی فلم ''وکی ڈونر' 'اپنی بولڈ کہانی کی وجہ سے نقادوں کی تعریف سمیٹنے میں کامیاب رہی۔''کپور بوائے'' چاکلیٹی ہیرو رنبیر کپور کے لیے یہ سال بہت اچھا رہا،سیاستدان سے لے کر راک اسٹار تک کا جو کردار بھی کیا' اس نے بخوبی نبھائے' لیکن ان کے کیرئیر کا سب سے اچھا رول فلم 'برفی ' میں کیا گیا گونگے اور بہرے لڑکے کا کردار رہا جو انھوں نے اتنے حقیقی انداز میں ادا کیا کہ اس کردار سے انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ہر قسم کے رول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
اداکار عرفان خان نے فلم 'لائف آف اے پائی' میں 'پائی پٹیل ' کا کردار کیا اور انتہائی متاثر کن انداز میں بولے گئے ڈائیلاگز سے پوری فلم میں جان ڈال دی'جب کہ ہالی وڈ کی فلم ''دی امیزنگ سپائیڈر مین''میں بھی ان کا مختصر کردار کی بھی تعریف کی گئی۔'مون سون'ویڈنگ سے اپنے کیرئیر کا آغاز کرنیوالے رندیپ ہودا کو ایکٹنگ پر ہر جانب سے فل مارکس توملے لیکن کسی قابل ذکر پروڈیوسر کی توجہ نہ مل سکی۔ کرینہ کی فلم 'ہیروئن'میں رندیپ نے کرینہ کو چاہنے والے کرکٹر کا رو ل کچھ اس ڈھنگ سے بنھایا کہ مرکزی کردار نہ ہونے کے باوجود چھا کر 2012 کے ہٹ ہیروز کی لسٹ میں نام لکھوانے میں کامیاب ہوگئے۔اس کے علاوہ ''کاک ٹیل '' اور ''جسم ٹو'' بھی اس کے کیرئیر کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوئیں۔
ڈائریکٹر ڈیوڈ دھون کے بیٹے ورن دھون اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ بالی وڈ کے ٹاپ ڈائریکٹر کرن جوہر نے انھیں اپنی فلم ''اسٹوڈنٹ آف دی ائیر''کے لیے منتخب کر لیا۔ ورن نے اپنی شاندار اداکاری سے کرن کے انتخاب کو صحیح ثابت کر دکھایا۔ بے ساختہ اداکاری اور شانداز ڈانس مووز سے ورن نے سب کا دل موہ لیا اور اب وہ فلم پروڈیوسرز کے علاوہ ڈانس پرفارمنس کے لیے ایوارڈز فنکشنز کی چوائس بن گئے ہیں۔
ماضی کے رومینٹک ہیرو رشی کپور نے'' اگنی پتھ'' میں'رف اینڈ ٹف' ولن کا کردار ادا کر کے سب کوحیران کیا تو کرن جوہر کی''اسٹوڈنٹ آف دی ائیر'' میں بالکل مختلف اور 'ہٹ' کے گے ڈین کے روپ میں ناقدین کو بھی تعریف کرنے پر مجبور کر دیا۔ابھے دیول روٹین سے ہٹ کر کی گئی فلموں اور کرداروں کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ چارمنگ ابھے اپنی دلکش پرسنالٹی کی وجہ سے لڑکیوں میں مقبول تو ہیں مگر اپنی اداکاری کی وجہ سے بھی سراہے جاتے ہیں۔ پرکاش جھا کی فلم 'چکر ویو' میں ماو باغی کے رول میں بھی ابھے کی اداکاری نے داد سمیٹی' گو کہ فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی لیکن ابھے کے کام کی سب نے تعریف کی۔