اپوزیشن جماعتیں حکومت پر دباؤ بڑھانے کی پالیسی پر عمل پیرا

امکان ہے کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان 27 دسمبر کے بعد بات چیت کا باضابطہ آغاز ہو سکتا ہے۔

سربراہ پاک فوج نے کہا ہے کہ معاشی ترقی اور استحکام کے لیے سی پیک منصوبہ انتہائی ضروری تھا۔ فوٹو: فائل

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے ایک بار پھر اعلان کردیا ہے کہ میاں نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ سے انصاف نہ ملا تو تحریک انصاف پھر سڑکوں پرآئے گی۔

عمران خان کا کہنا ہے کہ کرپشن کا پیسہ عوام کا ہے اور اس دولت کو عوام پر خرچ ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کے حکمرانوں نے عوام کی دولت کو ملک سے باہر لے جا کر اپنی جائیدادیں اور کاروبار بنایا ہے۔ عمران خان نے واضح طور پر کہا ہے کہ جب تک وہ زندہ ہیں،کرپٹ مافیا کے خلاف جنگ کرتے رہیں گے۔ انھوں نے اعلان کیا کہ اگر سپریم کورٹ سے پاناما کیس میں انصاف نہ ملا تو ان کی جماعت پھر سڑکوں پر ہوگی کیونکہ جب تک انصاف نہیں ہوگا ملک آگے نہیں بڑھے گا، ہمارے ملک میں طاقتور اورکمزور کے لیے الگ الگ قانون ہے، شرم کی بات ہے کہ طاقتورکو سزا نہیں دی جاتی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف سڑکوں پر نہ آتی تو پاناما کیس ختم ہو جاتا، لوگوں میں تشویش ہے کہ پاناما کیس اتنا لمبا کیوں چلا کیونکہ پاکستان کا نظام صرف کمزوروں کو پکڑتا ہے، ہمارا المیہ ہے کہ لوگ کہتے ہیں کہ نواز شریف کو سزا نہیں ہوگی، پاناما کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف نے اسمبلی میں جھوٹ بولا لیکن انہیں پتہ تھا کہ سپریم کورٹ میں جھوٹ نہیں چلے گا، قطری شہزادے کا خط بھی جھوٹا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ کیس فوری طور پر سنا جائے۔

عمران خان نے جہاں پاناما لیکس کے خلاف حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے وہیں سی پیک کے معاملہ پر بھی حکومتی رویہ پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ ہمیں سی پیک پر وفاق سے تحفظات ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اپنی زبان کے پکے نہیں ہیں، وزیراعظم نے اے پی سی میں پہلے مغربی روٹ بنانے کا وعدہ کیا، اب کہا جارہا ہے کہ خیبرپختونخوا سی پیک کا حصہ نہیں، بلوچستان، خیبرپختونخوا اورسندھ کو ان کا حق ملنا چاہئے، کیونکہ جب حق نہیں ملتا تو انتشار پیدا ہوتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ اب دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی پاناما لیکس ایشو پر اپنے مطالبات کی منظوری نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی دھرنوں اور جلسوں کی دھمکی دی ہوئی ہے اسی تناظر میں پارٹی کے شریک چیئرمیں آصف علی زرداری بھی گذشتہ ہفتے پاکستان واپس آچکے ہیں اور آج سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کی برسی اور پارٹی کی کور کمیٹی میٹنگ کے دوران اہم اعلان بھی متوقع ہیں۔

یہی نہیں پاکستان پیپلز پارٹی نے اب حزب اختلاف کی جماعتوں کے قائدین سے ملاقاتوں اور رابطوں کا سلسلہ بھی شروع کردیا ہے اس دوران حکومت مخالف گرینڈ الائنس بنانے کی بھی بات چیت جاری ہے، پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کا گرینڈ الائنس جلد تشکیل دیا جائے گا اور حکومت مخالف احتجاجی تحریک کے آغاز کیلئے تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت ہوگی اور مشترکہ طور پر لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ حکومت مخالف احتجاج پارلیمنٹ اور عوامی سطح پر کیا جائے گا۔ اس احتجاج میں کوئی ایسی حکمت عملی شامل نہیں کی جائے گی جس سے جمہوری نظام کو خطرہ لاحق ہو،گرینڈ الائنس کی تشکیل کے لیے جلد رابطوں کا آغاز کیا جائے گا۔


وفاقی حکومت نے پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے دئے گئے چار مطالبات میں سے دو کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پیپلز پارٹی کے 2 مطالبات سی پیک کی قرارداد پر عملدرآمد کے لیے دوبارہ اے پی سی بلانے اور قومی سلامتی پر پارلیمانی کمیٹی کی ازسرنو تشکیل کے مطالبات کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امکان ہے کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان 27 دسمبر کے بعد بات چیت کا باضابطہ آغاز ہو سکتا ہے۔

دوسری طرف الیکشن کمیشن میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلیت کیلئے قومی اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے بھیجے گئے ریفرنس کی سماعت بھی جاری ہے۔ گذشتہ روز سماعت کے دوران تحریکِ انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے الیکشن کمیشن کی اہلیت پر سوال اُٹھاتے ہوئے کہا کہ بنی گالہ کی اراضی سنہ 2003 میں خریدی گئی تھی اور انتخابات سے قبل کے معاملات کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھائے جا سکتے تھے۔ اُنھوں نے کہا ہے کہ اگر عمران خان پرالزامات درست مان بھی لیے جائیں تو بھی الیکشن کمیشن کو اِس معاملے کی سماعت کا اختیار نہیں۔

گذشتہ روز آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوئٹہ میں سدرن کمانڈ کے افسران سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ملک میں امن و استحکام واپس لانے میں پاک فوج اور عوام نے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور آپریشن ضرب عضب سے ملکی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے، اب اس آپریشن کے ثمرات کو برقرار رکھنا بڑا چیلنج ہے اور ہم ان چیلنجزکو ہر قیمت پر برقراررکھیں گے، پاک فوج ہرقسم کے خطرات سے نمٹنے کے لئے تیار ہے اور ہر میدان میں عوام کی توقعات پر پوری اتری ہے۔

سربراہ پاک فوج نے کہا ہے کہ معاشی ترقی اور استحکام کے لیے سی پیک منصوبہ انتہائی ضروری تھا، اس کی بر وقت تکمیل ہر قیمت پرکی جائے گی کیوں کہ اس نے خطے کی صورتحال تبدیل کردی ہے۔آرمی چیف نے خطاب کے دوران واضح طور پر پیغام دیا کہ بلوچستان کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے اسی لئے دشمن بلوچستان کی ترقی کی راہوں اور روشن مستقبل میں رکاوٹ بننا چاہتا ہے اور صوبے میں بدامنی پھیلا رہا ہے لیکن بلوچ عوام بھی دشمن کی چالوں کوسمجھ گئے ہیں، انھوں نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ وہ بھائی جو ناسمجھی میں دشمن کے بہکاوے میں آگئے ہیں ان کیلیے دروازے کھلے ہیں کیونکہ ہماری جنگ پاکستان کے دشمنوں سے ہے۔

گذشتہ ہفتے پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پر اسرائیل کے وزیر دفاع کی جانب سے پاکستان کو دی جانے والی دھمکی کا جو جواب دیا اس کا بھی چرچا رہا۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے پاکستان کے شام میں داعش کے خلاف کردار پر قیاس آرائی کرتے ہوئے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی دی تھی جس پر خواجہ آصف نے جواب دیا تھا کہ اسرائیل بھول رہا ہے کہ پاکستان بھی جوہری صلاحیت رکھتا ہے، الحمدللہ۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ اگر پاکستان نے کسی بھی بہانے سے شام میں زمینی فوج بھیجی تو ہم اس ملک کو ایٹمی حملے میں تباہ کر دیں گے۔ اس خبر کے مطابق اسرائیل کے سابق وزیر دفاع موشے یالون نے پاکستان کو دھمکی دی۔

سوشل میڈیا میں شائع ہونے والی کہانی کے مطابق یالون نے مزید پاکستانی فوج کی شام میں آمد کے حوالے سے کہا جہاں تک ہمارا تعلق ہے یہ ایک دھمکی ہے اور اگر بدقسمتی سے وہ شام میں آتے ہیں تو ہمیں معلوم ہے کہ ہم نے کیا کرنا ہے، ہم ان کو ایٹمی حملے میں تباہ کردیں گے۔ تاہم اسرائیلی وزارت دفاع نے ٹوئٹ میں خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے جو بیان سابق وزیر دفاع یالون کے حوالے سے نشر کیا گیا ہے وہ کبھی دیا ہی نہیں گیا۔ ایک اور ٹوئٹ میں اسرائیلی وزارت دفاع نے ایک بار پھر خواجہ آصف کو ٹیگ کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ آصف جس رپورٹ کا ذکر کر رہے ہیں وہ بالکل من گھڑت ہے۔
Load Next Story