مولانا اورنگزیب پر حملے کے اہم شواہد مل گئےشاہد حیات
ڈرائیور اور جاں بحق کارکن کی نماز جنازہ، مشتعل افراد کا پولیس کے خلاف شدید احتجاج.
مولانا اورنگزیب فاروقی پرقاتلانہ حملے میں شہید پولیس اہلکاروںکی گارڈن ہیڈکوارٹرمیں نمازجنازہ اداکی جارہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس
ڈی آئی جی سائوتھ زون شاہد حیات نے کہا ہے کہ مولانا اورنگزیب فاروقی پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے کے کئی اہم شواہد مل گئے ہیں جبکہ عینی شاہدین کی مدد سے واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی سائوتھ زون شاہد حیات نے منگل کو مولانا اورنگزیب فاروقی پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے میں جاں بحق 3 پولیس گارڈز کی گارڈن ہیڈ کوارٹرز میں نماز جنازہ ادا کیے جانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ پولیس کو مولانا اورنگزیب فاروقی پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے کے کئی اہم شواہد ملے ہیں،پولیس نے شک پر ایک زخمی شخص کو گرفتار کیا تھا جسے رہا کردیا گیا ہے،مولانا اورنگزیب فاروقی پر حملہ کرنیوالے ملزمان موٹر سائیکل پر سوار تھے، واقعے کی فوٹیج ملی ہے لیکن گاڑیوں کے نمبر اور چہرے واضح نہیں ہیں۔
قاتلانہ حملے میں مولانا کی حفاظت پر معمور جاں بحق ہونے والے3پولیس گارڈز کانسٹیبل عمران خان ولد قدر الزماں، وحید ولد کالے خان اور موبائل کے ڈرائیور سلیم ولد غلام سر ور کی نماز جنازہ پورے اعزاز کے ساتھ گارڈن ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی گئی، نماز جنازہ اہلسنّت و الجماعت کے سر براہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے ادا کی،ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات ، ڈی آئی ویسٹ آصف اعجاز ، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ امین یوسف زئی، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس سے قبل مولانا اورنگزیب فاروقی کے ڈرائیور عبدالوکیل کی نماز جنازہ لانڈھی میں ادا کی گئی اور تدفین نیو مظفر آباد میں کردی گئی،ادھر نیو کراچی میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے زخمی اور بعد میں جاں بحق ہونیوالے اہلسنّت و الجماعت کے کارکن زین العابدین کی نماز جنازہ نیو کراچی گودھرا میں ادا کی گئی جس کے بعد نماز جنازہ کے شرکا نے کارکن کی میت کو نیو کراچی صنعتی ایریا تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈی آئی جی سائوتھ زون شاہد حیات نے منگل کو مولانا اورنگزیب فاروقی پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے میں جاں بحق 3 پولیس گارڈز کی گارڈن ہیڈ کوارٹرز میں نماز جنازہ ادا کیے جانے کے بعد صحافیوں سے بات چیت میں بتایا کہ پولیس کو مولانا اورنگزیب فاروقی پر کیے جانے والے قاتلانہ حملے کے کئی اہم شواہد ملے ہیں،پولیس نے شک پر ایک زخمی شخص کو گرفتار کیا تھا جسے رہا کردیا گیا ہے،مولانا اورنگزیب فاروقی پر حملہ کرنیوالے ملزمان موٹر سائیکل پر سوار تھے، واقعے کی فوٹیج ملی ہے لیکن گاڑیوں کے نمبر اور چہرے واضح نہیں ہیں۔
قاتلانہ حملے میں مولانا کی حفاظت پر معمور جاں بحق ہونے والے3پولیس گارڈز کانسٹیبل عمران خان ولد قدر الزماں، وحید ولد کالے خان اور موبائل کے ڈرائیور سلیم ولد غلام سر ور کی نماز جنازہ پورے اعزاز کے ساتھ گارڈن ہیڈ کوارٹرز میں ادا کی گئی، نماز جنازہ اہلسنّت و الجماعت کے سر براہ مولانا محمد احمد لدھیانوی نے ادا کی،ڈی آئی جی سائوتھ شاہد حیات ، ڈی آئی ویسٹ آصف اعجاز ، ڈی آئی جی اسٹیبلشمنٹ امین یوسف زئی، عزیز و اقارب اور علاقہ مکینوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
اس سے قبل مولانا اورنگزیب فاروقی کے ڈرائیور عبدالوکیل کی نماز جنازہ لانڈھی میں ادا کی گئی اور تدفین نیو مظفر آباد میں کردی گئی،ادھر نیو کراچی میں پولیس کی مبینہ فائرنگ سے زخمی اور بعد میں جاں بحق ہونیوالے اہلسنّت و الجماعت کے کارکن زین العابدین کی نماز جنازہ نیو کراچی گودھرا میں ادا کی گئی جس کے بعد نماز جنازہ کے شرکا نے کارکن کی میت کو نیو کراچی صنعتی ایریا تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔