تعلیم پر پابندی کا قانون
خدا کا شکر ہے کہ ہمارا خبری جاسوس بغیر’’خرچ ہوئے‘‘ زندہ لوٹ آیا ہے
barq@email.com
ISLAMABAD:
کوئی خبر تو ابھی نہیں آئی ہے لیکن ہمیں اپنے خصوصی ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ ان دنوں مملکت اللہ داد ناپرسان میں کچھ ... ''کچھ کچھ''ہو رہا ہے اور یہ کوئی چھوٹا موٹا ''کچھ کچھ'' نہیں بلکہ بڑا بہت بڑا اور بگ بگ ''کچھ کچھ'' بتایا جا رہا ہے، آپ تو جانتے ہیں کہ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کے پاس بڑے نابغہ روزگارقسم کے خبری جاسوس بھی ہیں جو نہ صرف خفیہ واقعات کی سن گن لینے میں ماہر ہیں بلکہ نہ ہونے والے یا آیندہ ہونے والے واقعات پرمبنی خبریں بھی بنا سکتے ہیں، مثلاً یہ خبر ہمارے ایک خبری جاسوس نے معلوم کی ہے کہ آیندہ تقریباً پانچ سالوں میں خراب لیڈروں سے نجات مل جائے گی اور ان کی جگہ مہا خراب لیڈر یا خراب ترین لیڈر لے لیں گے یا ناپرسان کے عوام کالانعام سے ترقی کر کے پورے''انعام'' ہو جائیں گے اور کم عقل ووٹر کم عقل نہیں رہیں گے بلکہ بے عقل ہو جائیں گے، چنانچہ ہم نے بھی اپنا بہترین خبری جاسوس وہاں بھیجا کہ ذرا پتہ تو لگے کہ یہ ناپرسان میں جو کچھ بڑا بڑا ''کچھ کچھ'' ہونے والا ہے وہ کیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ ہمارا خبری جاسوس بغیر''خرچ ہوئے'' زندہ لوٹ آیا ہے بلکہ تابندہ اور پابندہ بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اس نے اس ''کچھ کچھ'' کی سن گن لے لی ہے جو وہاں ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ تفصیل تو ہم اس خبری جاسوس کو بنفس نفیس اپنے ٹاک شو چونچ بہ چونچ میں بٹھا کر اس کی زبانی بتائیں گے لیکن اس ''کچھ کچھ'' کا خلاصہ یہ ہے کہ مملکت ناپرسان میں بہت جلد ''تعلیم'' پر مکمل پابندی عائد کیے جانے والی ہیں، نہ صرف اس پابندی سے تعلیم کی وہ دکانیں شڑاپ ہو جائیں گی بلکہ ریڑھیوں اور چھابڑیوں پرگلی گلی کوچے کوچے پھرنے والی پرچون فروشی بھی ختم ہو جائے گی۔
جہاں تک محکمہ تعلیم کا تعلق ہے تو اسے تو وزیر تعلیم سے لے کر چوکیداروں اور چپڑاسیوں تک تمام ''مال و اسباب'' سمیت کیفر کردار کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ خیر باقی تفصیلات آپ ہمارے خبری جاسوس جناب ''دیوار بگوش'' سے سن لیں جو اس وقت ہمارے ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' کے چونچ خصوصی ہیں اور یہ تو ممکن ہی نہیں ''چونچ بہ چونچ'' ہو اور ہمارے دو خصوصی چونچیں نہ ہوں، تو سنئے اور سر دھنئے یا پیٹئے
اینکر : ہاں تو جناب ہمارے خبری جاسوس اعظم دیوار بہ گوش صاحب کیسے ہیں آپ
دیوار : میں تو ٹھیک ہوں لیکن تمہاری کھوپڑی میں مجھے خلل نظر آرہا ہے میرا نام دیوار بگوش نہیں بلکہ گوش بہ دیوار ہے، پورا نام قلم بہ گوش کیمرہ بدوش اور گوش بہ دیوار ہے۔
اینکر : او سوری آئی ریپیٹ اٹ
علامہ : اب بس بھی کرو یہ گوش گوش کی تکرار ورنہ
چشم : ورنہ یہ گوشمالی کریں گے اور وہ بھی اپنی
اینکر : بس بس لڑیئے مت ہاں تو گوش بہ دیوار صاحب کیا حال ہے
دیوار : کم از کم دو بیویوں کے شوہر سے تو اچھا ہے
چشم : اور تین بیویوں کے شوہر کے بارے میں کیا خیال ہے
علامہ : دیکھو میری بیوی کی طرف اشارہ مت کرو
چشم : خدا نہ کرے میں اتنا کم ظرف نہیں کہ کسی کی بیوی یا بیویوں سے اشارے بازی کروں
اینکر : انھیں چھوڑو دیواربگوش صاحب ۔۔۔۔ یہ بتائیں کہ مملکت ناپرسان میں کیا واقعی تعلیم پر پابندی لگنے والی ہے
دیوار : ایسی ویسی پابندی ؟ اتنی سخت پابندی لگنے والی ہے کہ تعلیم کا نام تک لینے والا بھی تختہ دار پر لٹکایا جائے گا کم سے کم
چشم : اور زیادہ سے زیادہ؟
دیوار : زیادہ سے زیادہ ''عوام'' بنایا جائے کہ ناپرسان میں یہی سب سے بڑی اور سخت سزا ہے
اینکر : مگر کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟
دیوار : بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے
اینکر : کیا مطلب
دیوار : دراصل ناپرسان میں بیروزگاری بہت زیادہ ہو گئی ہے اتنی زیادہ کہ اتنی زیادہ ہمارے ملک میں اتنے بھکاری نہ ہوں گے جتنے زیادہ وہاں بیروزگار تھے
چشم : یہ تو بہت غلط حل ہے
علامہ : ہاں ہمارے ملک ہی کے نقش قدم پرچل کر بیروزگاری کا خاتمہ بھکاری پن سے کرتے
چشم : کیوں کہ فی زمانہ بھکاری پن سے اچھا ھمہ گیر اور بہترین روزگار اور کوئی نہیں
دیوار : یہی تو بات ہے ناپرسان کے حکمران ہمارے حکمرانوں جتنے ذہین لائق فائق تو نہیں ہیں نا ... یہ سعادت توکسی کسی کو نصیب ہوتی ہے
اینکر : آپ اپنی بات کو آگے بڑھایئے
دیوار : بیروزگاری جب اتنی بڑھ گئی کہ لوگ بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر سیاحت جوائن کرنے لگے اور مجبور ہو کر دھرنوں اور جلسوں جلوسوں تک میں دیہاڑی لگانے لگے
چشم : یہ تو واقعی حد ہے بیروزگاری کی
اینکر : آگے بڑھیئے
دیوار : جب سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ سارا کیا دھرا تعلیم کا تھا کیوں کہ جس زمانے میں تعلیم نہ تھی لوگ کسی نہ کسی دھندے کو سیکھ لیتے تھے اور اس سے روزی روٹی کماتے تھے۔
علامہ : یہ تو مجھے بھی یاد ہے جب یہ تعلیم نام کی چیز نہیں تھی تو لوگ آرام سے اپنا آبائی ہنر سیکھ لیتے تھے یا کوئی اور پسندیدہ ہنرسیکھ کرروزی کماتے تھے۔
چشم : لیکن اس میں چائیلڈ لیبر ہوتا تھا یعنی بچوں پر ظلم کیا جاتا تھا
علامہ : تو کیا ہوا تھوڑا سا بچپن کو بے آرام کر کے عمر بھر تو آرام سے رہتے اب تو بچپن کے آرام کے بدلے عمر بھر کی خواری نصیب ہوتی ہے
اینکر : گوش بہ دیوار صاحب آپ کچھ اور تفصیلیے
دیوار : بیروزگاری کے بڑھنے سے اور زیادہ پرابلمز بھی پیدا ہونے لگیں، لوگ مجبور ہو کر جرائم پر اتر آئے کیوں کہ سرکاری محکموں میں بھی تو وزیروں اور منتخب نمایندوں نے کئی گنا زیادہ نالائق اور بے کار لوگ بھر دیے تھے کہ سارے محکمے خسارے میں جانے لگے
اینکر : اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
چشم : کاموں میں نہیں بلکہ ملکوں میں
علامہ : ہاں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اس طرح کے بڑے بڑے محکمے تو ہوتے ہی ہیں
اینکر : پھر کیا ہوا
چشم : پھر جھمکا گرا رے
دیوار : اس تجزیئے سے جب یہ ثابت ہوا کہ فساد کی جڑ کہاں ہے تو فساد کی جڑ
چشم : پڑوسی ملک کی ایک دانا دانشورہ سونم کپور کا قول زرین بھی ہے کہ پرابلم کی جڑ پر جاؤ باقی سب شیمپو پرچھوڑو
علامہ : آج کل تمہارے اعصاب پرخواتین زیادہ سوارہونے لگی ہیں
چشم : تو کیا کروں اپ کو سوارکر دوں
اینکر : ہاں جناب
دیوار : کچھ ہی دنوں میں تعلیم پر پابندی کا اعلان ہو جائے گا اور لوگ فضول کی نوکریوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے کسی نہ کسی دھندے سے لگنا شروع ہو جائیں گے
چشم : بیروزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک کو ہنر مند بھی مل جائیں گے اور سب کچھ باہر سے منگوانا بھی نہیں پڑے گا۔
کوئی خبر تو ابھی نہیں آئی ہے لیکن ہمیں اپنے خصوصی ذرایع سے پتہ چلا ہے کہ ان دنوں مملکت اللہ داد ناپرسان میں کچھ ... ''کچھ کچھ''ہو رہا ہے اور یہ کوئی چھوٹا موٹا ''کچھ کچھ'' نہیں بلکہ بڑا بہت بڑا اور بگ بگ ''کچھ کچھ'' بتایا جا رہا ہے، آپ تو جانتے ہیں کہ چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' کے پاس بڑے نابغہ روزگارقسم کے خبری جاسوس بھی ہیں جو نہ صرف خفیہ واقعات کی سن گن لینے میں ماہر ہیں بلکہ نہ ہونے والے یا آیندہ ہونے والے واقعات پرمبنی خبریں بھی بنا سکتے ہیں، مثلاً یہ خبر ہمارے ایک خبری جاسوس نے معلوم کی ہے کہ آیندہ تقریباً پانچ سالوں میں خراب لیڈروں سے نجات مل جائے گی اور ان کی جگہ مہا خراب لیڈر یا خراب ترین لیڈر لے لیں گے یا ناپرسان کے عوام کالانعام سے ترقی کر کے پورے''انعام'' ہو جائیں گے اور کم عقل ووٹر کم عقل نہیں رہیں گے بلکہ بے عقل ہو جائیں گے، چنانچہ ہم نے بھی اپنا بہترین خبری جاسوس وہاں بھیجا کہ ذرا پتہ تو لگے کہ یہ ناپرسان میں جو کچھ بڑا بڑا ''کچھ کچھ'' ہونے والا ہے وہ کیا ہے۔
خدا کا شکر ہے کہ ہمارا خبری جاسوس بغیر''خرچ ہوئے'' زندہ لوٹ آیا ہے بلکہ تابندہ اور پابندہ بھی کہہ سکتے ہیں کیوں کہ اس نے اس ''کچھ کچھ'' کی سن گن لے لی ہے جو وہاں ہو رہا ہے یا ہونے والا ہے۔ تفصیل تو ہم اس خبری جاسوس کو بنفس نفیس اپنے ٹاک شو چونچ بہ چونچ میں بٹھا کر اس کی زبانی بتائیں گے لیکن اس ''کچھ کچھ'' کا خلاصہ یہ ہے کہ مملکت ناپرسان میں بہت جلد ''تعلیم'' پر مکمل پابندی عائد کیے جانے والی ہیں، نہ صرف اس پابندی سے تعلیم کی وہ دکانیں شڑاپ ہو جائیں گی بلکہ ریڑھیوں اور چھابڑیوں پرگلی گلی کوچے کوچے پھرنے والی پرچون فروشی بھی ختم ہو جائے گی۔
جہاں تک محکمہ تعلیم کا تعلق ہے تو اسے تو وزیر تعلیم سے لے کر چوکیداروں اور چپڑاسیوں تک تمام ''مال و اسباب'' سمیت کیفر کردار کا فیصلہ کیا جا چکا ہے۔ خیر باقی تفصیلات آپ ہمارے خبری جاسوس جناب ''دیوار بگوش'' سے سن لیں جو اس وقت ہمارے ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' کے چونچ خصوصی ہیں اور یہ تو ممکن ہی نہیں ''چونچ بہ چونچ'' ہو اور ہمارے دو خصوصی چونچیں نہ ہوں، تو سنئے اور سر دھنئے یا پیٹئے
اینکر : ہاں تو جناب ہمارے خبری جاسوس اعظم دیوار بہ گوش صاحب کیسے ہیں آپ
دیوار : میں تو ٹھیک ہوں لیکن تمہاری کھوپڑی میں مجھے خلل نظر آرہا ہے میرا نام دیوار بگوش نہیں بلکہ گوش بہ دیوار ہے، پورا نام قلم بہ گوش کیمرہ بدوش اور گوش بہ دیوار ہے۔
اینکر : او سوری آئی ریپیٹ اٹ
علامہ : اب بس بھی کرو یہ گوش گوش کی تکرار ورنہ
چشم : ورنہ یہ گوشمالی کریں گے اور وہ بھی اپنی
اینکر : بس بس لڑیئے مت ہاں تو گوش بہ دیوار صاحب کیا حال ہے
دیوار : کم از کم دو بیویوں کے شوہر سے تو اچھا ہے
چشم : اور تین بیویوں کے شوہر کے بارے میں کیا خیال ہے
علامہ : دیکھو میری بیوی کی طرف اشارہ مت کرو
چشم : خدا نہ کرے میں اتنا کم ظرف نہیں کہ کسی کی بیوی یا بیویوں سے اشارے بازی کروں
اینکر : انھیں چھوڑو دیواربگوش صاحب ۔۔۔۔ یہ بتائیں کہ مملکت ناپرسان میں کیا واقعی تعلیم پر پابندی لگنے والی ہے
دیوار : ایسی ویسی پابندی ؟ اتنی سخت پابندی لگنے والی ہے کہ تعلیم کا نام تک لینے والا بھی تختہ دار پر لٹکایا جائے گا کم سے کم
چشم : اور زیادہ سے زیادہ؟
دیوار : زیادہ سے زیادہ ''عوام'' بنایا جائے کہ ناپرسان میں یہی سب سے بڑی اور سخت سزا ہے
اینکر : مگر کیوں؟ اس کی وجہ کیا ہے؟
دیوار : بیروزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے
اینکر : کیا مطلب
دیوار : دراصل ناپرسان میں بیروزگاری بہت زیادہ ہو گئی ہے اتنی زیادہ کہ اتنی زیادہ ہمارے ملک میں اتنے بھکاری نہ ہوں گے جتنے زیادہ وہاں بیروزگار تھے
چشم : یہ تو بہت غلط حل ہے
علامہ : ہاں ہمارے ملک ہی کے نقش قدم پرچل کر بیروزگاری کا خاتمہ بھکاری پن سے کرتے
چشم : کیوں کہ فی زمانہ بھکاری پن سے اچھا ھمہ گیر اور بہترین روزگار اور کوئی نہیں
دیوار : یہی تو بات ہے ناپرسان کے حکمران ہمارے حکمرانوں جتنے ذہین لائق فائق تو نہیں ہیں نا ... یہ سعادت توکسی کسی کو نصیب ہوتی ہے
اینکر : آپ اپنی بات کو آگے بڑھایئے
دیوار : بیروزگاری جب اتنی بڑھ گئی کہ لوگ بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر سیاحت جوائن کرنے لگے اور مجبور ہو کر دھرنوں اور جلسوں جلوسوں تک میں دیہاڑی لگانے لگے
چشم : یہ تو واقعی حد ہے بیروزگاری کی
اینکر : آگے بڑھیئے
دیوار : جب سروے کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ سارا کیا دھرا تعلیم کا تھا کیوں کہ جس زمانے میں تعلیم نہ تھی لوگ کسی نہ کسی دھندے کو سیکھ لیتے تھے اور اس سے روزی روٹی کماتے تھے۔
علامہ : یہ تو مجھے بھی یاد ہے جب یہ تعلیم نام کی چیز نہیں تھی تو لوگ آرام سے اپنا آبائی ہنر سیکھ لیتے تھے یا کوئی اور پسندیدہ ہنرسیکھ کرروزی کماتے تھے۔
چشم : لیکن اس میں چائیلڈ لیبر ہوتا تھا یعنی بچوں پر ظلم کیا جاتا تھا
علامہ : تو کیا ہوا تھوڑا سا بچپن کو بے آرام کر کے عمر بھر تو آرام سے رہتے اب تو بچپن کے آرام کے بدلے عمر بھر کی خواری نصیب ہوتی ہے
اینکر : گوش بہ دیوار صاحب آپ کچھ اور تفصیلیے
دیوار : بیروزگاری کے بڑھنے سے اور زیادہ پرابلمز بھی پیدا ہونے لگیں، لوگ مجبور ہو کر جرائم پر اتر آئے کیوں کہ سرکاری محکموں میں بھی تو وزیروں اور منتخب نمایندوں نے کئی گنا زیادہ نالائق اور بے کار لوگ بھر دیے تھے کہ سارے محکمے خسارے میں جانے لگے
اینکر : اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں
چشم : کاموں میں نہیں بلکہ ملکوں میں
علامہ : ہاں چھوٹے چھوٹے ملکوں میں اس طرح کے بڑے بڑے محکمے تو ہوتے ہی ہیں
اینکر : پھر کیا ہوا
چشم : پھر جھمکا گرا رے
دیوار : اس تجزیئے سے جب یہ ثابت ہوا کہ فساد کی جڑ کہاں ہے تو فساد کی جڑ
چشم : پڑوسی ملک کی ایک دانا دانشورہ سونم کپور کا قول زرین بھی ہے کہ پرابلم کی جڑ پر جاؤ باقی سب شیمپو پرچھوڑو
علامہ : آج کل تمہارے اعصاب پرخواتین زیادہ سوارہونے لگی ہیں
چشم : تو کیا کروں اپ کو سوارکر دوں
اینکر : ہاں جناب
دیوار : کچھ ہی دنوں میں تعلیم پر پابندی کا اعلان ہو جائے گا اور لوگ فضول کی نوکریوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے کسی نہ کسی دھندے سے لگنا شروع ہو جائیں گے
چشم : بیروزگاری کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ملک کو ہنر مند بھی مل جائیں گے اور سب کچھ باہر سے منگوانا بھی نہیں پڑے گا۔