کرپشن کا علاج بالمثل

ایک تو وہی علامہ بریانی عرف برڈ فلو ہیں جو عملیات، ازدواجیات، سیاسیات، بکواسیات یعنی ھمہ قسم کی خرافات کے ماہر ہیں

barq@email.com

زبردست قسم کی بریکنگ، ٹریکنگ اور سریکنگ بلکہ شالنگ نیوز مملکت ناپرسان سے آئی ہے کہ مملکت ناپرسان کی اسمبلی میں ممبران کونسلران اور عوامی نمایندگان نے ستر سال میں پہلی بار اپنے فنڈز، مراعات، اختیارات، استحقاقات اور بندر بانٹ سے وقت نکال کر قانون سازی کی ہے جو پورے چار گھنٹے انسٹھ منٹ کم ... پانچ گھنٹے جاری رہی ... اور متفقہ طور پر خراٹے لے کر یہ قانون پاس کیا گیا کہ کرپشن کو قانونی تحفظ دیا جائے۔

وجہ اس انقلابی قانون کی یہ بتائی جاتی ہے کہ ایک عرصے سے محسوس کیا جا رہا تھا کہ یہ سانڈ اب اتنا بے قابو ہو چلا ہے کہ اگر مزید روکنے کی کوشش کی گئی تو قانون کے ہاتھ چھل جائیں گے یا رسی ٹوٹ جائے گی، اس نئے اقدام سے رسی بھی بچ گئی اور قانون کے ہاتھ بھی صحیح سلامت رہ گئے۔ ق

انون کو مزید بہتر اور موثر بنانے کے لیے اور ملک کے عظیم تر مفاد کے پیش نظر سرکاری اہل کاروں کی تنخواہیں ختم کر دی گئیں کہ اس سے ایک تو ملکی خزانے میں کچھ رقم بچ جائے گی جو منتخب نمایندوں کے ''ترقیاتی کام'' پر صرف ہو سکے گی اور دوسرے ملازموں میں اپنی مدد آپ کرنے کا رجحان پیدا ہو جائے گا۔ اس قانون پر چرچا کرنے کے لیے چینل ''ہیاں سے ہواں تک'' نے اپنے رسوائے عالم اور بدنام زمانہ ٹاک شو ''چونچ بہ چونچ'' کا خصوصی پروگرام ترتیب دیا ہے، پروگرام کے شرکاء مملکت ناپرسان کا معروف قانون دان پیر الدین مسکین زادہ آج ہمارے مہمان ہیں، ان سے چونچ لڑانے کے لیے ہم نے اپنے پالے ہوئے اصیل مرغ میدان میں اتارے ہیں جن کو آپ ویسے تو جانتے ہیں لیکن اگر ہم ان کا تعارف تمام القاب و آداب کے ساتھ نہ کریں تو پھر ''منقار زیر پر'' ہو کر چونچ لڑانے سے انکاری ہو جاتے ہیں۔

ایک تو وہی علامہ بریانی عرف برڈ فلو ہیں جو عملیات، ازدواجیات، سیاسیات، بکواسیات یعنی ھمہ قسم کی خرافات کے ماہر ہیں اور دوسرے ان کے پہلو میں ط ظ آنکھوں والی چیز بیٹھی ہوئی ہے یہ تعلیم سے لے کر جہالت تک ہر چیز پر اتھارٹی تسلیم کیے جاتے ہیں یعنی چشم گل چشم عرف قہر خداوندی سابقہ ڈینگی بخار، تو لیجیے ابتدا کرتے ہیں

اینکر : جناب مسکین زادہ صاحب ... ذرا اس نئے قانون کی تفصیلات بتایئے ؟
مسکین : تفصیلات تو اخباروں اور چینلات میں آچکی ہیں البتہ میں کچھ مجملات پیش کرتا ہوں
اینکر : فرمایئے فرمایئے
مسکین :دراصل مملکت اللہ داد ناپرسان ایک الگ قسم کا ملک ہے
چشم : وہ تو آپ کو دیکھ کر ہی پتہ چل جاتا ہے
علامہ : ہاں جہاں آپ جیسے ''نابغہ روزگار'' قسم کے لوگ تولد ہوتے ہوں اس کے ''بنوع'' میں کسی یک چشم ہی کو شک ہو سکتا ہے
چشم : علامہ دیکھو میری طرف اشارہ مت کرو
علامہ : میں اشارہ نہیں کر رہا ہوں اظہار حقیقت کر رہا ہوں
اینکر : بریک بریک بریک ... ہاں تو جناب

مسکین :دراصل جس طرح کٹوں اور بچھڑوں میں ماں کے پیٹ ہی سے کیڑے آجاتے ہیں ویسے ہی مملکت ناپرسان کے پیٹ میں کرپشن کے کیڑے آگئے تھے
چشم : توکیڑے مار دوا دے دیتے
مسکین :یہی تو پرابلم ہے کہ اسے جو کیڑے مار دوائیں دی گئیں وہ ساختہ ناپرسان تھیں جو بجائے خود کرپشن کے میٹریل سے بنائی گئی تھیں۔
چشم : یہ تو علامہ کے چورنوں جیسی بات ہو گئی کہ ان میں ایک جزو مرض بڑھانے کا بھی ڈالا جاتا ہے
علامہ : دیکھو میرے منہ مت لگو
چشم : ہاں تمہارے منہ کو تو صرف مرغیاں لگی ہوئی ہیں
اینکر : آپ دونوں پلیز ... ہماری بحث میں بریک ڈالنے کی کوشش نہ کریں
چشم : یہ ٹی وی پروگرام ہے جس کا جزو اعظم بریک ہوتا ہے کبھی چھوٹا سا بریک کبھی موٹا سا اور کبھی بریکنگ ہی بریکنگ
مسکین :میں اپنی بات شروع کرتا ہوں ہاں تو بتا رہا تھا کہ ان ساختہ ناپرسان دواؤں سے کرپشن کے کیڑے رزسٹ ہو کر اور زیادہ طاقت ور ہو گئے
اینکر : جی ہاں ایسا ہوتا ہے
مسکین :چنانچہ جب معالجین نے دیکھا کہ اب ان کیڑوں پر کوئی دوا کارگر نہیں ہو گی حالانکہ مملکت ناپرسان نے آئی ایم ایف میڈیسن کمپنی کی نہایت بیش قیمت دوائیں بھی منگوا کر دیکھیں
چشم : ان پر تو بڑا خرچہ آیا ہو گا
مسکین :خرچہ داؤں پر اتنا نہیں تھا لیکن وزیروں اور افسروں کے کمیشن بشمول کرپشن سے تھوڑا بڑھ گیا
علامہ : مثلاً کتنا
مسکین :یہی دس گنا تقریباً
اینکر : جناب اصل موضوع پر آیئے
مسکین :اصل موضوع یہ ہی ہے کہ علاج بالضد کو چھوڑ کر علاج بالمثل کا طریقہ اپنایا جائے ویسے بھی کرپشن کی بے پناہ فتوحات سے کچھ بچا تو تھا نہیں، خزانے میں تنخواہیں ادا کرنے کی سکت نہیں رہ گئی تھی
اینکر : آپ کے خیال میں اس کا نتیجہ کیا ہو گا
مسکین :اچھا ہی ہو گا جب سارے لوگ کرپشن پر پل پڑیں گے تو پھر کرپشن میں کوئی فائدہ نہ دیکھ کر لوگ خود ہی توبہ تائب ہو جائیں گے اور تنخواہوں پر اتر آئیں گے۔
Load Next Story