چیف الیکشن کمشنر اور آرمی چیف کی ملاقات
چیف الیکشن کمشنر کا کہنا ہے کہ جنرل کیانی نے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق آرمی چیف اور چیف الیکشن کمشنر کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات غیر طے شدہ تھی۔ فوٹو : فائل
اخباری اطلاعات کے مطابق چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان بدھ کو نادرا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں آئندہ عام انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں اہم ملاقات ہوئی ہے۔
میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق یہ ملاقات غیر طے شدہ تھی۔ اخباری خبر کے مطابق چیئرمین نادرا فاروق ملک کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ نادرا حکام کی ملاقات طے شدہ تھی ۔ بہرحال یہ ملاقات طے شدہ تھی یا اتفاقیہ ، موجودہ سیاسی حالات اور نئے الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف سے تمام موضوعات پر بڑے کھلے انداز میں تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس ملاقات کے بعد میرے حوصلے بڑھے ہیں اور میرے اس یقین میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں گے' فوج اور تمام ایجنسیوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
اس ملاقات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات کو پرامن، غیرجانبداراور شفاف بنانے کے لیے متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ان کا آرمی چیف سے ملاقات کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ادھر کچھ عرصے سے بعض حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت، بلوچستان کے حالات اور ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث عام انتخابات التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کچھ دانشورانہ حلقے بھی اس خیال کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے جلسے کے دوران یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں، آئین میں انتخابات کے التوا کی گنجائش موجود ہے۔
اس سے مختلف حلقوں میںمزید اضطراب محسوس کیا جانے لگا مگر چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ انتخابات کے التوا کی باتوں کو فضول قرار دیتے ہوئے تمام خدشات کو دور کر دیا ہے۔ انھوں نے دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات اپنے مقررہ نظام الاقات کے مطابق ہوں گے اور الیکشن کمیشن شفاف اور وقت پر انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔یوں یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور ان کے ملتوی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ادھر یہ بھی سامنے کی حقیقت ہے کہ بعض اوقات اچھی فہم وفراست رکھنے والے سیاستدان بھی حالات کی نزاکت کا احساس کیے بغیر اپنے وقتی نوعیت کے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے کوئی ایسا ایشو پیدا کردیتے ہیں جو آگے چل کر ملک و قوم کی ترقی اور اتحاد کی راہ میں مستقل رکاوٹ کا باعث بن جاتے ہیں۔
کالا باغ ڈیم کی مثال سب کے سامنے ہے۔اس فنی معاملے پر سیاسی جماعتوں نے جو کردار ادا کیا ،اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔اب حالت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اسے تعمیر کرنا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتی ۔اب کچھ عرسے سے صوبوں کی سیاست کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ یہ معمولی تنازعات آہستہ آہستہ اس قدر شدید ہو جاتے ہیں کہ انھیں حل کرنا نا ممکن دکھائی دینے لگتا ہے۔ اسی طرح کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا تنازعہ کھڑا ہو گیا جس سے بعض سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی کشمکش کا آغاز ہو گیا، اسی سے الیکشن وقت پر نہ ہونے کی چہ میگوئیاں زیادہ زور پکڑ گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے بھی سیاسی جماعتوں کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئے نئے تنازعات کھڑے کرنے کے بجائے عوام میں جائیں، مردم شماری کے مطابق جو حلقہ بندیاں پہلے سے موجود ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو انھیں قبول کرنا چاہیے۔
سیاستدانوں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نئے نئے تنازعات کھڑے کرنے سے گریز کریں اور شفاف سیاست کو فروغ دیں۔ بہتر ہے کہ سیاستدان قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے بجائے جمہوری طریقوں کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابات کی تیاری کریں اور اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کریں اور ہار کی صورت میں بھی عوامی رائے کو بخوشی قبول کرتے ہوئے نئی حکومت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔گزشتہ عشروں میں ہونے والے انتخابات کے ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ پریشان کن صورتحال سامنے آتی ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ کا ٹرن آئوٹ 36 فیصد سے زائد نہیں رہا، اس کا سبب عوام کا سیاستدانوں پر عدم اعتماد اور الیکشن کے منصفانہ ہونے پر شک تھا۔
اسی مایوسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہارنے والے سیاستدان انتخابی نتائج کو انجینئرڈ قرار دے کر نئی حکومت کی راہ میں کانٹے بچھانے کی کوشش کرتے رہے۔ فخر الدین جی ابراہیم بطور چیف الیکشن کمشنر تمام جماعتوں کے متفقہ اور قابل اعتماد انتخاب ہیں جن کی غیر جانبداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں عوام پرامید ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آرمی چیف نے بھی منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلا کر سیاسی فضا میں موجود شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ انتخابات منصفانہ ہوں گے تو وہ بڑھ چڑھ کر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر نے بھی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹ کا تناسب 60 فیصد رہے گا۔
امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ اس صورتحال میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں۔ انھیں الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے لہٰذا امید ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس امید کے چراغ کو روشن کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے بھی یہ کہا کہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگی۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے طے کردہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے انتخابات کی تیاری کریں۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔ امید ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو خواہ وہ ان کی امید کے برعکس ہی کیوں نہ نکلیں بخوشی قبول کریں گی اور روایتاً بوگس ووٹنگ کا الزام لگا کر سیاسی فضا کو مکدر کرنے سے گریز کریں گی۔
میڈیا کے بعض حلقوں کے مطابق یہ ملاقات غیر طے شدہ تھی۔ اخباری خبر کے مطابق چیئرمین نادرا فاروق ملک کا کہنا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ نادرا حکام کی ملاقات طے شدہ تھی ۔ بہرحال یہ ملاقات طے شدہ تھی یا اتفاقیہ ، موجودہ سیاسی حالات اور نئے الیکشن کی تیاریوں کے سلسلے میں یہ نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف سے تمام موضوعات پر بڑے کھلے انداز میں تفصیلی بات چیت ہوئی اور اس ملاقات کے بعد میرے حوصلے بڑھے ہیں اور میرے اس یقین میں مزید اضافہ ہوا ہے کہ ملک میں شفاف اور غیر جانبدارانہ انتخابات ہوں گے' فوج اور تمام ایجنسیوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
اس ملاقات سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ چیف الیکشن کمشنر عام انتخابات کو پرامن، غیرجانبداراور شفاف بنانے کے لیے متحرک کردار ادا کررہے ہیں۔ان کا آرمی چیف سے ملاقات کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ادھر کچھ عرصے سے بعض حلقوں کی جانب سے اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ کراچی میں ہونے والی قتل و غارت، بلوچستان کے حالات اور ملک میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث عام انتخابات التوا کا شکار ہو سکتے ہیں۔ کچھ دانشورانہ حلقے بھی اس خیال کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری نے مینار پاکستان گرائونڈ میں ہونے والے جلسے کے دوران یہ مطالبہ بھی کر دیا کہ پہلے انتخابی اصلاحات کی جائیں، آئین میں انتخابات کے التوا کی گنجائش موجود ہے۔
اس سے مختلف حلقوں میںمزید اضطراب محسوس کیا جانے لگا مگر چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ انتخابات کے التوا کی باتوں کو فضول قرار دیتے ہوئے تمام خدشات کو دور کر دیا ہے۔ انھوں نے دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات اپنے مقررہ نظام الاقات کے مطابق ہوں گے اور الیکشن کمیشن شفاف اور وقت پر انتخابات کے انعقاد کے لیے تیار ہے۔یوں یہ واضح ہوگیا ہے کہ ملک میں عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوں گے اور ان کے ملتوی ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ادھر یہ بھی سامنے کی حقیقت ہے کہ بعض اوقات اچھی فہم وفراست رکھنے والے سیاستدان بھی حالات کی نزاکت کا احساس کیے بغیر اپنے وقتی نوعیت کے سیاسی فوائد کے حصول کے لیے کوئی ایسا ایشو پیدا کردیتے ہیں جو آگے چل کر ملک و قوم کی ترقی اور اتحاد کی راہ میں مستقل رکاوٹ کا باعث بن جاتے ہیں۔
کالا باغ ڈیم کی مثال سب کے سامنے ہے۔اس فنی معاملے پر سیاسی جماعتوں نے جو کردار ادا کیا ،اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔اب حالت یہ ہے کہ کوئی سیاسی جماعت اسے تعمیر کرنا چاہے تو ایسا نہیں کرسکتی ۔اب کچھ عرسے سے صوبوں کی سیاست کا ڈول ڈال دیا گیا ہے۔ یہ معمولی تنازعات آہستہ آہستہ اس قدر شدید ہو جاتے ہیں کہ انھیں حل کرنا نا ممکن دکھائی دینے لگتا ہے۔ اسی طرح کراچی میں نئی حلقہ بندیوں کا تنازعہ کھڑا ہو گیا جس سے بعض سیاسی جماعتوں کے درمیان نئی کشمکش کا آغاز ہو گیا، اسی سے الیکشن وقت پر نہ ہونے کی چہ میگوئیاں زیادہ زور پکڑ گئیں۔چیف الیکشن کمشنر نے بھی سیاسی جماعتوں کو تنبیہہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئے نئے تنازعات کھڑے کرنے کے بجائے عوام میں جائیں، مردم شماری کے مطابق جو حلقہ بندیاں پہلے سے موجود ہیں، تمام سیاسی جماعتوں کو انھیں قبول کرنا چاہیے۔
سیاستدانوں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف وقتی سیاسی مفادات کے حصول کے لیے نئے نئے تنازعات کھڑے کرنے سے گریز کریں اور شفاف سیاست کو فروغ دیں۔ بہتر ہے کہ سیاستدان قوم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کرنے کے بجائے جمہوری طریقوں کی پاسداری کرتے ہوئے انتخابات کی تیاری کریں اور اپنے آپ کو عوام کے سامنے پیش کریں اور ہار کی صورت میں بھی عوامی رائے کو بخوشی قبول کرتے ہوئے نئی حکومت کی راہ میں رکاوٹیں پیدا نہ کریں۔گزشتہ عشروں میں ہونے والے انتخابات کے ریکارڈ کا جائزہ لینے سے یہ پریشان کن صورتحال سامنے آتی ہے کہ ان انتخابات میں ووٹ کا ٹرن آئوٹ 36 فیصد سے زائد نہیں رہا، اس کا سبب عوام کا سیاستدانوں پر عدم اعتماد اور الیکشن کے منصفانہ ہونے پر شک تھا۔
اسی مایوسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہارنے والے سیاستدان انتخابی نتائج کو انجینئرڈ قرار دے کر نئی حکومت کی راہ میں کانٹے بچھانے کی کوشش کرتے رہے۔ فخر الدین جی ابراہیم بطور چیف الیکشن کمشنر تمام جماعتوں کے متفقہ اور قابل اعتماد انتخاب ہیں جن کی غیر جانبداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ اس لیے انتخابات کے شفاف ہونے کے بارے میں عوام پرامید ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ آرمی چیف نے بھی منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے ہر ممکن تعاون کا یقین دلا کر سیاسی فضا میں موجود شکوک و شبہات کو دور کر دیا ہے۔ جب عوام کو یقین ہو کہ انتخابات منصفانہ ہوں گے تو وہ بڑھ چڑھ کر انتخابات میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی بنیاد پر چیف الیکشن کمشنر نے بھی امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات میں ووٹ کا تناسب 60 فیصد رہے گا۔
امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور مہنگائی نے عوام کی مایوسی میں اضافہ کیا ہے اور اب وہ اس صورتحال میں بہتری لانے کے خواہاں ہیں۔ انھیں الیکشن کمیشن پر اعتماد ہے لہٰذا امید ہے کہ وہ انتخابات میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس امید کے چراغ کو روشن کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے بھی یہ کہا کہ انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سب سے زیادہ ہوگی۔ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کے طے کردہ ضابطہ اخلاق پر عملدرآمد کو یقینی بناتے ہوئے انتخابات کی تیاری کریں۔ یہی جمہوریت کا تقاضا ہے۔ امید ہے کہ وہ انتخابی نتائج کو خواہ وہ ان کی امید کے برعکس ہی کیوں نہ نکلیں بخوشی قبول کریں گی اور روایتاً بوگس ووٹنگ کا الزام لگا کر سیاسی فضا کو مکدر کرنے سے گریز کریں گی۔