بھارتی مداخلت پر ڈوزئیر تیار

بھارت کی پاکستان میں دخل اندازی مکروہ فعل اور ننگی جارحیت ہے

، فوٹو: فائل

دفتر خارجہ نے بھارت کی پاکستان میں مداخلت کے تمام ثبوتوں پر مشتمل ڈوزیئر تشکیل دیدیا ہے جسے جلد اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔ ڈوزیئر کو اقوام متحدہ میں پاکستانی مندوب ملیحہ لودھی عالمی ادارے کے نئے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوٹیرس کو چارج سنبھالتے ہی پیش کر دینگی۔

مذکورہ ڈوزیئر کو حتمی شکل دینے یا اس کے متن یا ناکافی مٹیریل سے متعلق تنازع کی گونج 7 دسمبر کو سینٹ کے اجلاس میں سنائی دی تھی جس میں وزیراعظم کے مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے بتایا تھا کہ دفتر خارجہ کو پیش کیے گئے ڈوزئیر میں شواہد ناکافی تھے جسے مزید شواہد کے ساتھ بہتر کرنے کی ضرورت تھی۔

غالباً تاخیر اسی سبب سے تھا تاہم یہ حقیقت ہے کہ اس نکتہ کو شدت کے ساتھ ق لیگ کے سینیٹر سید مشاہد حسین نے اٹھایا تھا اور تاخیر کی وجہ دریافت کی تھی تاہم حکومتی اور اپوزیشن حلقوں کی طرف سے ڈوزیئر کی عالمی اہمیت بدستور موجود تھی، مگر جس سرعت کے ساتھ بھارتی مداخلت کو بے نقاب کرنے کی عالمی سطح پر ضرورت تھی اس میں سست روی سے کام لیا گیا جب کہ سال رواں کے آغاز یعنی مارچ میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو بلوچستان میں پاکستان کے سیکیورٹی اداروں نے گرفتار کیا، وہ بھارتی بحریہ کا حاضر سروس افسر نکلا اور خود اس کے اعترافی بیان اور ریکارڈ شدہ ویڈیو کے مطابق وہ بلوچستان اور کراچی سمیت مختلف علاقوں میں دہشتگردی، بدامنی اور شورش پسند تنظیموں سے معاونت کے نیٹ ورک کی نگرانی پر مامور تھا۔

ڈوزیئر میں سی پیک کی جاسوسی کے لیے پاکستانی سمندری حدود میں بھارتی آبدوز کا بھی ذکر ہے اور اس کے ویڈیو ثبوت بھی ہیں جب کہ بھارتی ایجنٹ کل بھوشن یادیو کا اعترافی بیان اور متعلقہ دستاویزات کو بھی ڈوزیئرکا حصہ بنایا گیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈوزیئر مکمل کرکے نیویارک میں موجود پاکستانی مشن کو پہنچا دیا گیا ہے جسے جنوری کے دوسرے ہفتے میں اقوام متحدہ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ضرورت اسے جلد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کو پیش کرنے کی ہے تاکہ مودی حکومت پاکستان مخاصمت حکمت عملی میں جس دیوانگی کا مظاہرہ کر رہی ہے اسے بے نقاب کیا جا سکے۔ تاخیر اس لیے مناسب نہیں کہ بھارت خود اپنی امن دشمن اور جارحانہ پالیسی کے جال میں بری طرح پھنس چکا ہے، ایک طرف اس نے کنٹرول لائن پر پھر سے اشتعال انگیز کارروائی شروع کردی ہے جب کہ دوسری جانب امریکا اور چین اسے دوطرفہ طور پر حصار میں لیے ہوئے ہیں۔


امریکا سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تنازع حل کروانے کے لیے سرگرم ہو گیا ہے تاکہ اسے آبی جارحیت سے روکا جائے، وزیر خارجہ جان کیری نے گزشتہ روز وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو ٹیلی فون کر کے سندھ طاس معاہدے کے متعلق تبادلہ خیال کیا ہے، جان کیری کا کہنا تھا کہ عالمی بینک کے صدر نے انھیں سندھ طاس معاہدہ پر بھارت کے خلاف پاکستان کی شکایت سے آگاہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ امریکا اس مسئلہ کا خوش اسلوب حل چاہتا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی کمٹمنٹ ہے اور یہ ورلڈ بینک کی ذمے داری ہے کہ بھارت اس معاہدے پر عملدر آمد کرے اور پاکستان کے لاکھوں کروڑوں لوگوں کا پانی کا حق محفوظ رہنا چاہیے۔ ثالثی عدالت ایک قانونی تقاضا ہے اور عالمی بینک ثالثی عدالت کے چیئرمین کی تقرری کرکے یہ قانونی تقاضا پورا کرے۔

وزیر خزانہ نے کہا عالمی بینک کے صدر کا ان سے حالیہ ماہ میں تحریری اور ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے۔ امریکا کی پاکستان کی اصولی اور قانونی پوزیشن پر حمایت قابل تعریف ہے۔چین نے ایک بار پھر کالعدم جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی بھارتی درخواست کو ویٹو کر دیا جس پر بھارت کو ایک بار شرمندگی کا سامنا ہے، وہ نیوکلیئر سپلائیرز گروپ میں شمولیت کے لیے پاگل پن کی حد تک ہاتھ پیر مار رہا ہے۔

بھارت کی جانب سے جیش محمد اور مسعود اظہر پر جنوری مں پٹھانکوٹ ایئربیس حملے سمیت کئی حملوں کا ماسٹرمائنڈ ہونے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پندرہ ممالک کے ارکان پر مشتمل اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل جیش محمد کو پہلے ہی بلیک لسٹ کر چکی ہے لیکن مسعود اظہر کا نام اس فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے الزام لگایا ہے کہ عالمی برادری کا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں دوہرا معیار ہے جب کہ بھارتی دوعملی کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ وہ مذاکرات کی ہر پاکستانی کوشش کو غیر موثر کرتے ہوئے خطے کے امن کو خطرات سے دوچار کررہا ہے اور جنگی جنون میں مبتلا ہے۔

بھارت کی پاکستان میں دخل اندازی مکروہ فعل اور ننگی جارحیت ہے، وہ اپنے جاسوس کلبھوشن کے ذریعے دہشتگردی کی کارروائیوں سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتاتھا وہ پاکستان کی خود مختاری اور امن و استحکام پر بہیمانہ حملہ کے مترادف ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلبھوشن بھارتی ایجنسی''را'' کا ایجنٹ ہے، جسے پاکستان نے گرفتار کرکے دہشتگردی اور مداخلت کے ثبوت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کیا ہے ۔ اس سچ کو بھارت جھٹلا نہیںسکتا ؟

 
Load Next Story