تمغوں سے نوازا جانے والا سرکاری افسر واجبات و پنشن سے محروم

سپریم کورٹ نے جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی سندھ کو آج پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیوروسندھ نے عدالت میں درخواست گزار کو واجبات کی ادائیگی کی یقین دہانی کرادی۔ فوٹو: راشد اجمیری/فائل

خدمات سرانجام دینے پر قوم نے تمغے سے نوازدیا لیکن بیورو کریسی ریٹائرسرکاری افسر کو بڑھاپے میں پنشن کے واجبات دینے کے لیے تیار نہیں۔

سپریم کورٹ کے طلب کرنے پر جمعرات کو جوائنٹ ڈائریکٹر انٹیلی جنس بیوروسندھ غلام نبی میمن عدالت میں پیش ہوئے اور یقین دہانی کرائی کہ درخواست گزار کے واجبات جلد ادا کردیے جائینگے،جسٹس خلجی عارف حسین اور جسٹس امیرہانی مسلم پر مشتمل بینچ نے بدھ کو آئی بی کے سابق افسر نذیراحمد کی درخواست کی سماعت کی، اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل سید عاشق رضا اور آئی بی کی جانب سے بعض افسران پیش ہوئے، تاہم فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ متعلقہ افسر کیوں نہیں آئے۔

عدالت نے ہدایت کی کہ جمعرات کو جوائنٹ ڈائریکٹر آئی بی سندھ خود پیش ہوں اور اپنے ہمراہ درخواست گزرا کے واجبات کا چیک بھی لائیں، درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے پاک بحریہ میں ایڈمن افسر کی حیثیت سے فرائض انجام دیے،1963 سے 1976تک پاک بحریہ سے وابستہ رہے اور1976 سے 2004تک آئی بی کیلیے خدمات انجام دیں،20 فروری 2004 کو ریٹائرمنٹ کے بعد اسٹیٹ افسر نے درخواست گزار کی پنشن اور دیگر واجبات روک لیے، سندھ ہائیکورٹ نے گذشتہ برس حکم دیا تھا کہ درخواست گزار کے واجبات اداکیے جائیں،عدالت عالیہ نے درخواست گزار کو ایک ماہ میں آرمی کوارٹر خالی کرنے کی ہدایت کی تھی۔




درخواست گزار نے کوارٹر خالی کرنے کے فیصلے کیخلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائرکردی تھی مگر درخواست زیرالتوا ہونے کے باوجود ایف آئی اے اور پولیس اہلکاروں نے 17نومبر2011کو زبردستی آرمی کوارٹر خالی کرایا اور اہل خانہ پر تشدد بھی کیا، درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرمی کوارٹر کے کرائے کی مد میں 20ہزار روپے ماہانہ وصول کے جارہے تھے اس کے باوجود کوارٹر سے اہل خانہ کو زبردستی نکالنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان نے درخواست گزار کی خدمات کے اعتراف میں تمغہ جنگ اور ستارہ جرات سے بھی نوازا ہے۔

دریں اثنا سپریم کورٹ نے حکومت کو سمندری و فضائی آلودگی کے خاتمے کیلیے 3 ماہ کی مہلت دی ہے، سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے صنعتی فضلے کے باعث ہلاکتوں اور آلودگی سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی،سیکریٹری ماحولیات میرحسین علی نے عدالت کو بتایا کہ صنعتی آلودگی کے خاتمے کیلیے اقدامات کیے جارہے ہیں، کیمیائی فضلہ جمع کرنے کیلیے 3 پوائنٹس قائم کردیے گئے ہیں، صنعتوں کو پابند کیا گیا ہے کہ ماحولیات سے متعلق قوانین پر عملدرآمد کریں،سالڈویسٹ مینجمنٹ سسٹم پر کام شروع کردیا گیا ہے جبکہ ایچ تھری پروجیکٹ کیلیے کورنگی میں300 ایکڑ اراضی حاصل کرلی گئی ہے تاہم مذکورہ اراضی پر ایرو کلب کا قبضہ ہے، مہلت دی جائے تو یہ اراضی حاصل کرلی جائے گی۔

سیکریٹری ماحولیات نے استدعا کی کہ منصوبوں کی تکمیل کیلیے 3 ماہ کی مہلت دی جائے،عدالت نے مہلت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ 3 ماہ میں منصوبوں کی تکمیل کی رپورٹ پیش کی جائے، عدالت کو بتایا گیا کہ کیمیائی فضلے سے جاں بحق 2 بچوں کے لواحقین کو معاوضے کی رقم ادا کردی گئی ہے،وائس ایڈمرل (ر)احمد تسنیم نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط میں بتایا تھا کہ صنعتی فضلہ سمندر میں گرایا دیا جاتا ہے جس سے سمندری آلودگی میں اضافہ ہورہا ہے اور آبی جانوروں کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔
Load Next Story