دوسرا ٹی ٹوئنٹی پاکستانی فتح کا امکان روشن ہے معین
پاکستان نے ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کے بجائے ٹارگٹ کے حصول کو ترجیح دی تو یہ فیصلہ سود مند ثابت ہوگا،
کامران اکمل اور ایشانت شرما کے مابین پیش آنے والے واقعے کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے، معین خان۔ فائل فوٹو
KARACHI:
سابق پاکستانی کپتان معین خان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف پہلے میچ میں شاندار کامیابی کے بعد احمد آباد میں شیڈول دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی فتح کا امکان روشن ہے،میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہاکہ میچ میں دونوں ٹیمیں دبائو کا شکار ہونگی۔
تاہم پہلے میچ میں شکست کے باعث میزبان پر پاکستا ن کی بانسبت زیادہ پریشر ہوگا،معین خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو موقع کی مناسبت سے کھیل پیش کرنا ہوگا، ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کے بجائے ٹارگٹ کے حصول کو ترجیح دی تو یہ فیصلہ سود مند ثابت ہوگا، میچ میں سیکنڈ بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو فائدہ پہنچے گا۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بنگلور کے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کامران اکمل اور ایشانت شرما کے مابین پیش آنے والے واقعے کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے،ایسے واقعات سے کھیل کی روح متاثر ہوتی ہے چنانچہ اسپورٹس مین اسپرٹ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔
ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کا اعزاز رکھنے والے سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت پر فوقیت حاصل ہونے کے باعث پاکستان فتح سے ہمکنارہو سکتا ہے، اس کیلیے اوپنرز کو اچھا کھیل پیش کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز بھارتی بیٹنگ کو تہس نہس کرنے کی بھر پورصلاحیت رکھتے ہیں،طویل قامت بولر عرفان فٹنس لیول کو بڑھا کر زیادہ بہتر کارکردگی پیش کرسکتے ہیں۔ سابق ٹیسٹ اسپنر توصیف احمد نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کیخلاف نفسیاتی برتری حاصل مگر مقابلے کو ہرگز آسان نہیں لیا جا سکتا، میزبان ٹیم کو اپنی کمزوریوں کا علم اور وہ کم بیک کر سکتی ہے، انھوں نے کہا کہ بھارت نے پہلے میچ میں ایشون کو نہ کھلاکر شکست کی صورت میں غلطی کا خمیازہ بھگتا، دوسرے میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن خاص طور پر اوپنرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
سابق پاکستانی کپتان معین خان نے کہا ہے کہ بھارت کے خلاف پہلے میچ میں شاندار کامیابی کے بعد احمد آباد میں شیڈول دوسرے ٹی ٹوئنٹی میں بھی فتح کا امکان روشن ہے،میڈیا سے بات چیت میں انھوں نے کہاکہ میچ میں دونوں ٹیمیں دبائو کا شکار ہونگی۔
تاہم پہلے میچ میں شکست کے باعث میزبان پر پاکستا ن کی بانسبت زیادہ پریشر ہوگا،معین خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو موقع کی مناسبت سے کھیل پیش کرنا ہوگا، ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کے بجائے ٹارگٹ کے حصول کو ترجیح دی تو یہ فیصلہ سود مند ثابت ہوگا، میچ میں سیکنڈ بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو فائدہ پہنچے گا۔ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ بنگلور کے پہلے ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں کامران اکمل اور ایشانت شرما کے مابین پیش آنے والے واقعے کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے،ایسے واقعات سے کھیل کی روح متاثر ہوتی ہے چنانچہ اسپورٹس مین اسپرٹ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔
ون ڈے انٹرنیشنل کرکٹ میں پہلی ہیٹ ٹرک کا اعزاز رکھنے والے سابق فاسٹ بولر جلال الدین نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ میں بھارت پر فوقیت حاصل ہونے کے باعث پاکستان فتح سے ہمکنارہو سکتا ہے، اس کیلیے اوپنرز کو اچھا کھیل پیش کرنا ہوگا، انھوں نے کہا کہ پاکستانی بولرز بھارتی بیٹنگ کو تہس نہس کرنے کی بھر پورصلاحیت رکھتے ہیں،طویل قامت بولر عرفان فٹنس لیول کو بڑھا کر زیادہ بہتر کارکردگی پیش کرسکتے ہیں۔ سابق ٹیسٹ اسپنر توصیف احمد نے کہا کہ پاکستان کو بھارت کیخلاف نفسیاتی برتری حاصل مگر مقابلے کو ہرگز آسان نہیں لیا جا سکتا، میزبان ٹیم کو اپنی کمزوریوں کا علم اور وہ کم بیک کر سکتی ہے، انھوں نے کہا کہ بھارت نے پہلے میچ میں ایشون کو نہ کھلاکر شکست کی صورت میں غلطی کا خمیازہ بھگتا، دوسرے میچ میں پاکستانی بیٹنگ لائن خاص طور پر اوپنرز کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔