2012 میں 3یونیورسٹیاں قائم صرف این ای ڈی نے نیا پروگرام شروع کیا
سندھ مدرسۃ الاسلام اور لیاری یونیورسٹی سرکاری سطح اور انڈس یونیورسٹی نجی سطح پر قائم کی گئی
دائودکالج کویونیورسٹی نہ بنایا جاسکا،جامعہ کراچی واین ای ڈی میں ڈونرنشستیں بحال،جامعہ کراچی اور اردویونیورسٹی نئی فیکلٹی قائم نہ کرسکیں۔ فوٹو: فائل
رواں سال2012 میں کراچی میں مجموعی طورپر 3جامعات قائم کی گئی جن میں سرکاری سطح پر 2 اور نجی سطح پرایک یونیورسٹی شامل ہے ان جامعات میں لیاری یونیورسٹی، سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی اورانڈس یونیورسٹی شامل ہیں۔
تاہم حکومت سندھ کی عدم دلچسپی کے سبب اسناد تفویض کرنے والے ادارے دائود انجینئرنگ کالج کویونیورسٹی کادرجہ نہیں دیاجاسکا جس کے سبب ملک کے سب سے گنجان آباد شہرکراچی میں سرکاری سطح پرصرف ایک انجینئرنگ یونیورسٹی (این ای ڈی) قائم ہے، مزید براں سوائے این ای ڈی یونیورسٹی کے پہلے سے قائم کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں کوئی نیا پروگرام یافیکلٹی متعارف نہیں کرائی گئی این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے سال 2012 میں ماسٹرزکی سطح پر''ارتھ کوئیک انجینئرنگ''کاشعبہ قائم کیاگیا اورارتھ کوئیک انجینئرنگ میں ایم ایس پروگرام شروع کیاگیا۔
سال 2012 میں کراچی میں قائم ہونے والی نئی سرکاری جامعات میں لیاری یونیورسٹی اورسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی جبکہ نجی سطح پرانڈس یونیورسٹی کوحکومت سندھ کی جانب سے چارٹر دیے گئے حکومت سندھ کی جانب سے لیاری یونیورسٹی پہلے سے قائم لیاری ڈگری کالج کی عمارت میں ہی قائم کی گئی جس کے لیے رینجرز سے اس کالج میں قائم ایک عمارت بھی خالی کرائی گئی جبکہ حال ہی میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے لیاری یونیورسٹی کوتسلیم کیے جانے کاخط بھی جاری کردیاگیاہے دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے سندھ مدرسہ کالج کوسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کا درجہ دیاگیا تاہم یونیورسٹی میں سندھ مدرسہ اسکول اورکالج قائم رہیں گے یونیورسٹی انتظامیہ کا ایس ایم سائنس کالج کی عمارت حاصل کرنے کے لیے کالج انتظامیہ سے تاحال تنازع جاری ہے۔
مزید براں نجی شعبے میں پہلے سے قائم اسناد تفویض کرنے والے ادارے ''انڈس انسٹی ٹیوٹ'' کو یونیورسٹی کادرجہ دے دیاگیاکراچی میں قائم دائود کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی محکمہ تعلیم کی جانب سے کالج کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کے لیے ایک سمری وزیراعلیٰ ہائوس بجھوائی گئی تاہم تاحال اس سمری کومنظور نہیں کیاگیا جس کے سبب کالج کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی۔
کراچی میں پبلک سیکٹرکی جامعات میں جامعہ کراچی اوروفاقی اردویونیورسٹی نے تعلیمی سال 2012 کے لیے کوئی نیا شعبہ یا فیکلٹی متعارف نہیں کرایا اور پہلے سے قائم شعبوں میں ہی داخلے دیے گئے تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے کئی سال کے وقفے کے بعد ایک بارپھر ڈونر نشستوں پرداخلوں کاسلسلہ شروع کیاگیایہ سلسلہ این ای ڈی یونیورسٹی نے بھی شروع کیا تاہم ان نشستوں پردیے گئے داخلے کاسیشن سال 2013سے شروع ہوگا۔
تاہم حکومت سندھ کی عدم دلچسپی کے سبب اسناد تفویض کرنے والے ادارے دائود انجینئرنگ کالج کویونیورسٹی کادرجہ نہیں دیاجاسکا جس کے سبب ملک کے سب سے گنجان آباد شہرکراچی میں سرکاری سطح پرصرف ایک انجینئرنگ یونیورسٹی (این ای ڈی) قائم ہے، مزید براں سوائے این ای ڈی یونیورسٹی کے پہلے سے قائم کسی بھی سرکاری یونیورسٹی میں کوئی نیا پروگرام یافیکلٹی متعارف نہیں کرائی گئی این ای ڈی یونیورسٹی کی جانب سے سال 2012 میں ماسٹرزکی سطح پر''ارتھ کوئیک انجینئرنگ''کاشعبہ قائم کیاگیا اورارتھ کوئیک انجینئرنگ میں ایم ایس پروگرام شروع کیاگیا۔
سال 2012 میں کراچی میں قائم ہونے والی نئی سرکاری جامعات میں لیاری یونیورسٹی اورسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی جبکہ نجی سطح پرانڈس یونیورسٹی کوحکومت سندھ کی جانب سے چارٹر دیے گئے حکومت سندھ کی جانب سے لیاری یونیورسٹی پہلے سے قائم لیاری ڈگری کالج کی عمارت میں ہی قائم کی گئی جس کے لیے رینجرز سے اس کالج میں قائم ایک عمارت بھی خالی کرائی گئی جبکہ حال ہی میں اعلیٰ تعلیمی کمیشن کی جانب سے لیاری یونیورسٹی کوتسلیم کیے جانے کاخط بھی جاری کردیاگیاہے دوسری جانب حکومت سندھ کی جانب سے سندھ مدرسہ کالج کوسندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کا درجہ دیاگیا تاہم یونیورسٹی میں سندھ مدرسہ اسکول اورکالج قائم رہیں گے یونیورسٹی انتظامیہ کا ایس ایم سائنس کالج کی عمارت حاصل کرنے کے لیے کالج انتظامیہ سے تاحال تنازع جاری ہے۔
مزید براں نجی شعبے میں پہلے سے قائم اسناد تفویض کرنے والے ادارے ''انڈس انسٹی ٹیوٹ'' کو یونیورسٹی کادرجہ دے دیاگیاکراچی میں قائم دائود کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی محکمہ تعلیم کی جانب سے کالج کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کے لیے ایک سمری وزیراعلیٰ ہائوس بجھوائی گئی تاہم تاحال اس سمری کومنظور نہیں کیاگیا جس کے سبب کالج کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہ ہوسکی۔
کراچی میں پبلک سیکٹرکی جامعات میں جامعہ کراچی اوروفاقی اردویونیورسٹی نے تعلیمی سال 2012 کے لیے کوئی نیا شعبہ یا فیکلٹی متعارف نہیں کرایا اور پہلے سے قائم شعبوں میں ہی داخلے دیے گئے تاہم جامعہ کراچی کی جانب سے کئی سال کے وقفے کے بعد ایک بارپھر ڈونر نشستوں پرداخلوں کاسلسلہ شروع کیاگیایہ سلسلہ این ای ڈی یونیورسٹی نے بھی شروع کیا تاہم ان نشستوں پردیے گئے داخلے کاسیشن سال 2013سے شروع ہوگا۔