بینظیر قتل کیسدو فوجی افسران کو شامل تفتیش ہی نہیں کیا گیا

کرنل توفیق ،میجر تصدق نے سعود عزیز کو جائے حادثہ کو دھونے کی ہدایت کی تھی

دوران تفتیش یہ بات ثابت نہیں ہوسکی کہ سازش کا ماسٹر مائنڈ کون تھا ، اہلکار تحقیقاتی ٹیم . فوٹو فائل

سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والے وفاقی تحقیقاتی ادارے کی ٹیم نے اْن دو فوجی افسران کو طلب ہی نہیں کیا جنہوں نے لیاقت باغ کے باہر 27 دسمبر 2007 ء کو خود کش حملے کے بعد اْس وقت کے راولپنڈی پولیس کے سربراہ ڈی آئی جی سعود عزیز کو مبینہ طور پر جائے حادثہ کو فوری طور پر دھونے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔

اس تحقیقاتی ٹیم میں شامل ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی نشریاتی ادارے کو بتایا کہ جن فوجی افسران سے راولپنڈی پولیس کے سابق سربراہ کی موبائل فون پر بات ہوئی تھی اْن کے نام کرنل توفیق اور میجر تصدق بتائے جاتے ہیں تاہم اہلکار نے یہ نہیں بتایا کہ یہ دونوں فوجی افسران اْن دنوں کہاں تعینات تھے۔ اہلکار کے بقول ان افسران کو طلب کرنے کیلئے وزارت داخلہ کو بھی خط نہیں لکھا گیا۔ ڈی آئی جی سعود عزیز ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انہوں نے اس موبائل فون کا تمام ریکارڈ ایف آئی اے کے حوالے کردیا تھا جو وقوعہ کے روز ان کے استعمال میں تھا۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سرکاری وکیل چودھری ذوالفقار کے بقول ان فوجی افسران کو بھی طلب کیا جانا چاہیے تھا تاکہ معلوم ہوسکے کہ اس قتل کے پیچھے کون سے ہاتھ کارفرما تھے۔ تفتیش میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سعود عزیزجو ستمبر 2007 میں پانچ اضلاع پر مشتمل ریجنل پولیس افسر گوجرانوالہ تعینات تھے کو اچانک کوئی وجہ بتائے بغیر ایک چھوٹے عہدے یعنی سٹی پولیس افسر راولپنڈی تعینات کر دیا گیا۔ بینظیر بھٹو کی سکیورٹی پر تعینات پولیس افسر کو ہٹانے اور لاش کا پوسٹمارٹم نہ کروانے کی ذمہ داری بھی تفتیشی ٹیم نے سعود عزیز پر ہی عائد کی ہے۔ سابق وزیر اعظم کے قتل کے مقدمے میں اب تک پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔




ان پانچ میں سے محمد رفاقت اور حسنین گل پر الزام ہے کہ انہوں نے بینظیر بھٹو پر خودکش حملہ آوروں بلال اور اکرام اللہ کو پناہ دی جبکہ شیر زمان، رشید احمد اور اعتزاز شاہ پر الزام ہے کہ انہیں بینظیر بھٹو کی قتل کی سازش کا علم تھا لیکن انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ نہیں کیا۔ تفتیشی ٹیم کے بقول بینظیر بھٹو کے قتل کی سازش تیار کرنے والے اور دیگر ملزمان اکوڑہ خٹک میں مدرسہ حقانیہ میں زیر تعلیم رہے جس کے بارے میں اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والے پنجاب پولیس کی ٹیم نے مزکورہ مدرسہ کی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش بھی نہیں کی تھی۔ اس مقدمے کی تفتیشی ٹیم میں شامل اہلکار کے بقول اشتہاری قرار دیے جانے والوں میں سے پانچ افراد وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں مختلف واقعات کے دوران مارے گئے۔

ان میں قاری اسماعیل، نصراللہ، علی الرحمٰن، فیض محمد اور عبادالرحمٰن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ حد تک اس مقدمے میں گرفتار ہونے والے دو ملزمان رفاقت اور حسنین گْل کا اشتہاری قرار دیے جانے والے افراد کے ساتھ فارنزک رپورٹ سے تعلق ثابت ہوا ہے لیکن تفتیش کے دوران یہ بات ابھی تک ثابت نہیں ہوسکی کہ اس بینظیر بھٹو کی قتل کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔ اہلکار کے مطابق ان افراد کے پکڑے جانے کی صورت میں ہی پتہ چل سکتا تھا کہ بینظیر بھٹو کے قتل کا ماسٹر مائنڈ کون تھا۔ اشتہاری قرار دیے جانے والوں میں سے صرف قاری اسماعیل کی سرکاری طور پر ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ باقیوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے کہ وہ کیسے ''مارے'' گئے۔

Recommended Stories

Load Next Story