بھارت کے سیاسی حربے

بھارتی گمراہی اور سیاسی کج روی کا بظاہر کوئی علاج نہیں

۔ فوٹو؛ فائل

پاکستان نے کہا ہے کہ بھارت کی معاونت سے ہونے والی دہشت گردی کا سامنا ہے، کل بھوشن یادیو کی گرفتاری اور اس کا اعترافی بیان بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی اور بھارت کی پاکستان میں مداخلت کا واضح ثبوت ہے، دہشت گردی بھارت کی ریاستی پالیسی ہے اور وہ دہشت گردی کی مذمت کی آڑ میں درحقیقت دہشت گردی کرانے، دہشت گردوں کی معاونت اور انھیں وسائل فراہم کرنے میں ملوث ہے۔

سلامتی کونسل نے بھارتی متعصبانہ ایجنڈا مسترد کردیا ۔ ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے بھارت کی طرف سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی قرارداد کو سیاسی حربہ قراردیتے ہوئے کہا کہ انڈیا ایسی کوششوں سے پاکستان میں اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سچ کو دنیا سے چھپانے کی پاداش میں اور نہیں خود بھارتی رہنما، مودی کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں،بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے سال نو کے موقع پر قوم سے جو خطاب کیا اس پر ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی نے اپنے ٹویٹ میں مودی کو قطار میں مرنے والے 112 افراد کی موت کا ذمے دار ٹھہرایا ہے اور انھیں خود پسند قراردیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسداد دہشت گردی کے حوالے سے بھارتی کردار بھی مشکوک ہے، نفیس زکریا نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت کے مزید ثبوت اقوام متحدہ کودیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر پابندیوں سے متعلق اقوام متحدہ میں جمع کرائی گئی قرارداد بھارت کا سیاسی حربہ تھی۔ داعش اور القاعدہ سے متعلق سلامتی کونسل کی پابندی کمیٹی نے بھارت کی جانب سے سیاسی مقاصد کے لیے جمع کرائی گئی قرارداد مسترد کردی۔ یہ بھارتی قرارداد خلاف میرٹ، غیرسنجیدہ اور بے بنیاد الزامات پر مبنی تھی جس کا مقصد اپنے متعصبانہ قومی ایجنڈے کو آگے بڑھانا تھا۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ پاکستان کی جانب سے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کرنے اور بھارتی مداخلت کے واضح ثبوتوں سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کے سبب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کے خلاف مودی حکومت کی جانب سے جمع کرائی گئی قرار دادکو مسترد کیا ۔ اس سبکی کو بھارتی سفارت کار اپنی ناکامیوں کا تسلسل سمجھیں اور احساس کریں کہ مقبوضہ کشمیر میں سال 2016ء بھارتی بربریت کی تلخ یادیں چھوڑ کر رخصت ہوگیا ، کشمیری عوام اور قابض حکمراں ان یادوں کو آسانی سے بھول نہیں پائیں گے، لیکن بھارت سرکار غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل کے ذریعے خطے کو مسلسل بدامنی سے دوچار کر رہی ہے۔


بھارتی گمراہی اور سیاسی کج روی کا بظاہر کوئی علاج نہیں اسے بالادستی اور جنگجویانہ عزائم کے نشہ نے پاکستان سمیت ہر اس فورم سے تغافل برتنے کی خوئے بد میں مبتلا کیا ہے جہاں اس کے ظلم و ستم ،امن دشمنی، انسانیت سوز اقدامات اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر کڑی تنقید ہوتی ہے، بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی اور سرحدی جارحیت کے بعد آئی ٹی کے میدان میں بھی دہشتگردی شروع کردی، بھارتی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستانی موبائل فونز ہیک کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے ایڈوائزری الرٹ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شہری واٹس ایپ وڈیو کال کے کسی لنک کو کلک نہ کریں ۔

مسئلہ صرف یہ ہے کہ بھارتی جنگی جنون کے باعث عالمی برادری سے اگر مودی کی قیادت میں سیکولر یا جمہوری اسپرٹ سے محرومی کا گلہ کیجیے تب بھی بھارتی حکام کے طرز عمل میں مخاصمت کا زہر بے اثر نہیں ہوتا۔ لہٰذا دوطرفہ معاملات کو ریاستی وقار اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے تحت نمٹانے کا تزویراتی میکنزم وضع اور موثر طریقہ سے طے ہو تو تمام دیرینہ تنازعات کے تصفیہ کے لیے کوئی راستہ نکالا جاسکتا ہے، مثال کے طور پر گزشتہ روز پاکستان اور بھارت نے جوہری تنصیبات اور قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ کیا ہے جو وہ 1998ء کے معاہدے کے تحت ہر سال یکم جنوری اور یکم جولائی کو کرتے ہیں۔

یہ اصول طے ہے ، اگر اسی اصول اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر کشادہ نظری سے عمل کیا جائے تو کشمیر سمیت دیگر امور پر بھی پائیدار فیصلے ہوسکتے ہیں، مگر مودی سرکار اپنے فسطائی اور غیر عقلی مائنڈ سیٹ کی غلامی سے نجات پائے پھر بات بنے ۔

حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سال2017ء کا آغاز بھی آزاد کشمیر کے شہری علاقوں پر بلا اشتعال گولہ باری اور فائرنگ سے کر دیا۔ اتوار کی صبح پونچھ سیکٹر کے مختلف شہری علاقوں پر بھارتی فوج نے بلا اشتعال فائرنگ کی۔ بھارتی فوج کی یہ گولہ باری سال نو کے پہلے دن جنرل دلبیر سنگھ کی سبکدوشی اور نئے بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی تعیناتی کے فوری بعد شروع ہوئی۔ بھارت کی عسکری مجبوریاں اور ارمان بھی پہاڑ جیسے ہیں، کیونکہ وہ تمام تر جنگی تیاریوں اور دھمکیوں کے باوجود پاکستان سے بقول ہمارے سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے پاکستان سے کھلی جنگ کی پوزیشن میں نہیں ہے۔اس لیے ضرورت اب اس بات کی ہے کہ بھارت کو اقوام متحدہ کے سامنے سرنڈر کرایا جائے۔
Load Next Story