نیشنل ایکشن پلان میں توسیع ہونی چاہیے اسپیکر قومی اسمبلی
بلاول یا زرداری جو بھی منتخب ہوکر ایوان میں آئے گاخوش آمدید کہوں گا، ایازصادق
ایم این اے ساجد احمد اور ذوالفقار مرزا سے کراچی میں رہائش گاہوں پر جا کر اظہار تعزیت۔ فوٹو: فائل
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہاہے کہ کراچی پاکستان کا چہرہ ہے، مشترکہ کوششوں کے ذریعے شہر کو بہتر بنایاجائے گا، نیشنل ایکشن پلان میں توسیع ہونی چاہیے، حکومت نے کرپشن کے خاتمے کیلیے اقدامات کیے ہیں، پاناما لیکس کا معاملہ عدالت میں ہے، عدالتی فیصلوں کا سب کو احترام کرنا ہوگا۔ بحیثیت اسپیکر آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو ایوان میں خوش آمدید کہوں گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو ایم کیوایم پاکستان کے رکن قومی اسمبلی ساجد احمد اور بعد ازاں سابق وزیرداخلہ سندھ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا سے تعزیت کے بعد میڈیاسے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
ایاز صادق نے کہا کہ میں یہاں ڈاکٹرذوالفقار مرزا سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کیلیے آیا ہوں اس لیے سیاست سے دور رہنا چاہتا ہوں ۔آصف زرداری کے ذریعے20سال پہلے ڈاکٹر ذوالفقار مرزاسے ملاقات ہوئی تھی، ان سے میرا پرانا تعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں کسی بھی جماعت کی کامیابی اس کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ سی پیک منصوبہ ملک کی ترقی کیلیے اہم ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے چین جانے سے منصوبہ مزید کلیئر ہوا ہے، تحریک انصاف کو مجھ سے شکایت ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ۔ جو مجھے اسپیکر نہیں مانتے اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے جو حلف اٹھایا وہ اس کی پاسداری نہیں کرتے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کاکہناتھاکہ بلاول بھٹو زرداری ہوں یا آصف زرداری جو بھی منتخب ہوکر ایوان میں آئے گا اسے خوش آمدید کہوں گا، نیشنل ایکشن پلان سے متعلق فیصلہ حکومت کرے گی۔ ایک اچھے پلان کی مدت میں توسیع ہونا سب کے مفاد میں ہوگا۔ احتساب سے متعلق قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی۔ یہ کمیٹی قانون سازی سے متعلق فیصلے کرے گی۔ حکومتی نام آگئے ہیں، اپوزیشن کے باقی ہیں۔ پارلیمنٹ کی مدت ایک سال کم کرنے کی مدت کا فیصلہ نہیں ہوا صرف غور کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات سے قبل تمام جماعتیں پارلیمنٹ کی اصلاحات کمیٹی کا حصہ ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ پاناما کا معاملہ عدالت طے کرے گی ۔سب کو عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا ۔انھوںنے کہا کہ کراچی کی ترقی سے ملکی ترقی وابستہ ہے ۔ انھوں نے رکن قومی اسمبلی ساجد احمدکی رہائش گاہ پرجاکر ان کی والدہ اور بھائی کے انتقال پر تعزیت کی۔ بعد ازاں ذوالفقار مرزا کی رہائش گاہ پر جاکر ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی۔ اس موقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا بھی موجود تھیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ میں یہاں ڈاکٹرذوالفقار مرزا سے ان کی والدہ کے انتقال پر تعزیت کیلیے آیا ہوں اس لیے سیاست سے دور رہنا چاہتا ہوں ۔آصف زرداری کے ذریعے20سال پہلے ڈاکٹر ذوالفقار مرزاسے ملاقات ہوئی تھی، ان سے میرا پرانا تعلق ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگلے انتخابات میں کسی بھی جماعت کی کامیابی اس کی کارکردگی سے مشروط ہوگی۔ سی پیک منصوبہ ملک کی ترقی کیلیے اہم ہے۔ اس سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ کی تقدیر بدل جائے گی۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے چین جانے سے منصوبہ مزید کلیئر ہوا ہے، تحریک انصاف کو مجھ سے شکایت ہے تو اس میں میرا کیا قصور ہے ۔ جو مجھے اسپیکر نہیں مانتے اس کا مطلب ہے کہ انھوں نے جو حلف اٹھایا وہ اس کی پاسداری نہیں کرتے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کاکہناتھاکہ بلاول بھٹو زرداری ہوں یا آصف زرداری جو بھی منتخب ہوکر ایوان میں آئے گا اسے خوش آمدید کہوں گا، نیشنل ایکشن پلان سے متعلق فیصلہ حکومت کرے گی۔ ایک اچھے پلان کی مدت میں توسیع ہونا سب کے مفاد میں ہوگا۔ احتساب سے متعلق قومی اسمبلی اور سینیٹ کی مشترکہ کمیٹی بنائی جائے گی۔ یہ کمیٹی قانون سازی سے متعلق فیصلے کرے گی۔ حکومتی نام آگئے ہیں، اپوزیشن کے باقی ہیں۔ پارلیمنٹ کی مدت ایک سال کم کرنے کی مدت کا فیصلہ نہیں ہوا صرف غور کیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ 2018کے انتخابات سے قبل تمام جماعتیں پارلیمنٹ کی اصلاحات کمیٹی کا حصہ ہیں۔
ایاز صادق نے کہا کہ پاناما کا معاملہ عدالت طے کرے گی ۔سب کو عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا ہوگا ۔انھوںنے کہا کہ کراچی کی ترقی سے ملکی ترقی وابستہ ہے ۔ انھوں نے رکن قومی اسمبلی ساجد احمدکی رہائش گاہ پرجاکر ان کی والدہ اور بھائی کے انتقال پر تعزیت کی۔ بعد ازاں ذوالفقار مرزا کی رہائش گاہ پر جاکر ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کی۔ اس موقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا بھی موجود تھیں۔