ایکشن پلان امن کی کلید

ایک وقت وہ تھا جب کراچی کو ایشیا اور پھر دنیا کا انتہائی خطرناک شہر قراردیا گیا۔۔۔

ایک وقت وہ تھا جب کراچی کو ایشیا اور پھر دنیا کا انتہائی خطرناک شہر قراردیا گیا ۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے وفاقی حکومت کے کردار پرسخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے درحقیقت شکایات کا پینڈورا باکس کھولا ہے اور وفاق و سندھ حکومت کا تقابلی جائزہ پیش کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ حکومت سندھ کی نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عملدرآمد میں سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے نئے سال کے پہلے ورکنگ ڈے پر اپیکس کمیٹی کا 19ویں اجلاس منعقد کیا ہے جب کہ وفاقی حکومت نیشنل ایکشن پلان کے چند اہم حصوں پر عملدرآمد کرنے میں ناکام رہی ہے، نیشنل ایکشن پلان کے تحت کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن ہونا چاہیے مگر وہ کھلم کھلا جلسے جلوس کر رہی ہیں، وفاقی حکومت کی ان تنظیموں کے حوالے سے پالیسی واضح نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ اس بات پر بھی خوش نہیں کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے حوالے سے اب تک کوئی خاطر خواہ پیشرفت نہیں ہو سکی ہے، جب کہ اس حوالے سے نیکٹا بھی فعال نہیں ہوئی۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے پیر کو وزیر اعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں کیا جس میں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن، کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ، میجرجنرل محمد سعید، آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی ثنا اللہ عباسی ، ایڈیشنل آئی جی کراچی مشتاق مہر، پروسیکیوٹرجنرل سندھ شہادت اعوان ،سینئر وزیر نثار کھوڑو، صوبائی مشیروں مولا بخش چانڈیو، مرتضیٰ وہاب، صوبائی ایجنسیوں کے سربراہوں اور دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔

سندھ حکومت اور وفاق کے مابین برہمی کا تسلسل کوئی آج کی بات نہیں ،اسی طرح مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کے گلے شکوے بھی قابل غور ہیں، مگر وقت کا تقاضا ہے کہ امن کے لیے مشترکہ جدوجہد کشادہ دلی سے جاری رہے، شہر قائد کے مسائل، ماضی میں جرائم سے نمٹنے میں تساہل اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سیاسی دباؤ ، مختلف سیاسی اور پریشر گروپوں کے مابین کشمکش اور علاقے پر قبضے کی کوششوں نے کراچی کو آتش فشاں کی حیثیت دے دی، پھر ایم کیو ایم فیکٹر اور اسلحہ و دہشتگردی کے ہولناک مظاہر نے درحقیقت اسے مجرموں کی جنت بنا دیا ۔


ایک وقت وہ تھا جب کراچی کو ایشیا اور پھر دنیا کا انتہائی خطرناک شہر قراردیا گیا۔اس لیے سندھ حکومت اور وفاق کی چشمک زنی اور خاموش محاذ آرائی اپیکس کمیٹی کے کسی ایک اجلاس یا چند ماہ کی حکومتی کارگزاریوں کا قصہ نہیں ہے، نئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی آمد بہار کا جھونکا ہے، حالات قدرے بہتری کی طرف گامزن ہیں، دہشتگردی پسپائیت سے دوچار ہے، مگر اسٹریٹ کرائم میں اضافہ کم خطرناک نہیں، اپیکس کمیٹی سے جرائم پیشہ قوتوں کو صرف ایک پیغام جانا چاہیے کہ وفاق و صوبائی حکومتیں شہریوں کی جان ومال کے تحفظ اور ملکی سلامتی و معاشی استحکام کے لیے آپریشن جاری رکھیں گی اور کسی دہشتگرد کو ریاستی رٹ یا صوبوں میں اپنے سلیپر سیلز کو دوبارہ ایکٹیویٹ کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

لہٰذا صائب مشورہ تو یہی ہے کہ سندھ اپیکس کمیٹی آپریشن اور ترقیاتی اہداف کے ثمرات پر توجہ مرکوز رکھے ، خود بھی ذمے داریاں پوری کرے، وفاق پر الزامات سے سماج دشمن قوتوں کو شہ ملے گی ، سیاسی مفاہمت ہونی چاہیے۔ بلاشبہ وفاق و سندھ کے درمیان مکالمے کی بنیادی معروضی حقیقت آج خوش آیند ہے ۔ دہشتگردی سے نمٹنے ، پولیس و رینجرز کے جرائم پیشہ مافیا ، ٹارگٹ کلرز ، بھتہ خوروں اور اغوا برائے تاوان گروہوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل سابقہ سندھ حکومت کے آخر مہینوں میں اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکا تھا، رینجرز اور پولیس کی کارکردگی شاندار رہی، بہترین انٹیلی جنس شیئرنگ سے مجرموں تک رسائی ملی، عسکری قیادت نے اپنا مثبت کردار ادا کیا، دہشتگردی کے مالیاتی گٹھ جوڑ کو توڑنے میں بڑی حد تک کامیابی ملی، اسی لیے اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد کے حوالے سے تحفظات کا ازالہ کیا جائے۔

ایکشن پلان سے پنجاب ، بلوچستان اور پختونخوا بھی جڑے ہوئے ہیں اور سب کا ملکی امن کے قیام اور دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے ایک پیج پر ہونا ناگزیر ہے، گزشتہ تین عشرے سندھ کی سیاست کے لیے صبر آزما تھے۔آج کراچی آپریشن سے کافی بہتری آئی ہے ۔ وزیراعلیٰ سندھ کمیٹڈ ہیں انھوں نے اسٹریٹ کریمنلز، ڈرگ مافیا اور لینڈ مافیا کے خلاف سخت آپریشن کی منظوری دی ہے ، شہر قائد کے لیے 10ارب روپے کے کراچی پیکیج کے تحت شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں پر کام کی رفتار پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی جذبے سے اپیکس کمیٹی کو دہشتگردی اور امن کے دائمی قیام کے لیے سب کو ساتھ لے کر چلنا ہوگا۔ ایم کیو ایم کی صورتحال کی تفہیم دانشمندانہ طرز عمل اور سیاسی رواداری اور فیئر پلے کا تقاضا کرتی ہے، کراچی کسی قسم کی داخلی کشمکش، سیاسی انتشار، مسلح شوڈاؤن یا دہشتگردوں کی واپسی کا متحمل نہیں ہوسکتا ، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جان پر کھیل کر کراچی کی رونقیں بحال کی ہیں، دو کروڑ کی آبادی کے اس ملک گیر اقتصادی انجن کا پہیہ چلنا چاہیے۔
Load Next Story