کرپشن کا خاتمہ اور پلی بارگین
پلی بارگین دنیاکے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں روبہ عمل ہے۔۔۔۔
پلی بارگین دنیاکے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں روبہ عمل ہے۔ فوٹو: فائل
دنیا میں وہی قومیں ترقی کر پاتی ہیں، جوکرپشن سے پاک ہوتی ہیں، پاکستان کے تمام سرکاری اور غیرسرکاری محکموں سمیت تمام شعبہ جات میں کرپشن کی طلسم ہوشربا جیسی کہانیاں زبان زد عام ہیں۔اس ناسورکے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پرکوششیں تو اپنی جگہ اہم ہیں، وہیں نیب کے کردار سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا ہے۔آجکل نیب اور اس کا دائرہ اختیار سیاسی وعوامی حلقوں کے علاوہ سپریم کورٹ میں بھی زیربحث ہے۔
اسی پس منظر اور پیش منظر میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز کے پروگرام میں جامع گفتگو کی اور سوال وجواب کے ذریعے اپنے نقطہ نظرکی وضاحت پیش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہوتے ہوئے سیاستدانوں سمیت تمام طبقوں کے خلاف بلاامتیازکارروائی جاری رکھے ہوئے ہے، نیب نے 285 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، پلی بارگین دنیاکے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں روبہ عمل ہے، ملک میں گزشتہ16سال سے اس پرعمل کیا جا رہا ہے،یہاں ایسا تاثر غلط ہے کہ نیب کو پلی بارگین میں سے حصہ ملتا ہے۔
چیئرمین نیب کی گفتگو بھی اپنا وزن رکھتی ہے، انھوں نے دلائل کے ذریعے پیدا شدہ منفی ابہام کو دورکرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں ایک چلن عام ہوگیا ہے کہ کسی بھی مسئلے پر ایسی گرد اڑائی جاتی ہے کہ حقیقت پوشیدہ ہوجائے اور کچھ صاف نظر نہ آئے۔چیئرمین نیب کا تقرر حکومت اور اپوزیشن لیڈرکے اتفاق رائے سے ہوتا ہے، ادارے کا دائرہ اختیار بھی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد طے کیا گیا ہے ، لیکن آج کل اس کے دائرہ اختیار پر بھی نہ صرف انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں بلکہ اس ادارے کو بعض سیاستدان متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس پر بحث ہوئی ہے ۔
جس کی وجہ سے عوام میں ایک منفی تاثر بھی جا رہا ہے،دوسری جانب سپریم کورٹ نے پلی بارگین کے قانون پر حکومت سے ٹھوس موقف طلب کر لیا۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ لوٹی ہوئی دولت کی رضاکارانہ واپسی پر ملزمان کو معاف کرنے کے چیئرمین نیب کے اختیار سے متعلق حکومت سے موقف معلوم کرکے عدالت کو تحریری طور پرآگاہ کریں۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا رقم کی رضاکارانہ واپسی کا قانون نیب نے نہیں بنایا۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے، چیئرمین نیب کو وی آرکا اختیار قانون نے دیا ہوا ہے اور وہ قانون کے تحت اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں، جب کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب پلی بارگین سے متعلق اختیارات کے قانون کا غلط استعمال کررہا ہے۔ ہماری نظر میں حکومت اگر سمجھتی ہے کہ پلی بارگین سے بہتر کوئی طریقہ لایا جا سکتا ہے تو پھر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنی چاہیے۔ کرپشن کا خاتمہ بہر حال ملک کے مفاد میں ہے۔
اسی پس منظر اور پیش منظر میں چیئرمین نیب قمر زمان چوہدری نے کونسل آف پاکستان نیوزپیپرز ایڈیٹرز کے پروگرام میں جامع گفتگو کی اور سوال وجواب کے ذریعے اپنے نقطہ نظرکی وضاحت پیش کی ۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب ایک خودمختار ادارہ ہوتے ہوئے سیاستدانوں سمیت تمام طبقوں کے خلاف بلاامتیازکارروائی جاری رکھے ہوئے ہے، نیب نے 285 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں، پلی بارگین دنیاکے بیشتر ترقی یافتہ ممالک میں روبہ عمل ہے، ملک میں گزشتہ16سال سے اس پرعمل کیا جا رہا ہے،یہاں ایسا تاثر غلط ہے کہ نیب کو پلی بارگین میں سے حصہ ملتا ہے۔
چیئرمین نیب کی گفتگو بھی اپنا وزن رکھتی ہے، انھوں نے دلائل کے ذریعے پیدا شدہ منفی ابہام کو دورکرنے کی کوشش کی ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں ایک چلن عام ہوگیا ہے کہ کسی بھی مسئلے پر ایسی گرد اڑائی جاتی ہے کہ حقیقت پوشیدہ ہوجائے اور کچھ صاف نظر نہ آئے۔چیئرمین نیب کا تقرر حکومت اور اپوزیشن لیڈرکے اتفاق رائے سے ہوتا ہے، ادارے کا دائرہ اختیار بھی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد طے کیا گیا ہے ، لیکن آج کل اس کے دائرہ اختیار پر بھی نہ صرف انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں بلکہ اس ادارے کو بعض سیاستدان متنازعہ بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس پر بحث ہوئی ہے ۔
جس کی وجہ سے عوام میں ایک منفی تاثر بھی جا رہا ہے،دوسری جانب سپریم کورٹ نے پلی بارگین کے قانون پر حکومت سے ٹھوس موقف طلب کر لیا۔ دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ لوٹی ہوئی دولت کی رضاکارانہ واپسی پر ملزمان کو معاف کرنے کے چیئرمین نیب کے اختیار سے متعلق حکومت سے موقف معلوم کرکے عدالت کو تحریری طور پرآگاہ کریں۔
سماعت کے دوران نیب پراسیکیوٹر جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا رقم کی رضاکارانہ واپسی کا قانون نیب نے نہیں بنایا۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے بنایا ہے، چیئرمین نیب کو وی آرکا اختیار قانون نے دیا ہوا ہے اور وہ قانون کے تحت اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں، جب کہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ نیب پلی بارگین سے متعلق اختیارات کے قانون کا غلط استعمال کررہا ہے۔ ہماری نظر میں حکومت اگر سمجھتی ہے کہ پلی بارگین سے بہتر کوئی طریقہ لایا جا سکتا ہے تو پھر دیگر سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر اسے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کرنی چاہیے۔ کرپشن کا خاتمہ بہر حال ملک کے مفاد میں ہے۔