لاہور میٹرو اور گوشت
یعنی اے قلندر جس راہ پر تم چل نکلے ہو اس پر تم بہت سے یاروں کو ہار جاؤ گے۔۔۔
barq@email.com
ایک مدت سے خواہش تھی کہ پیدا ہوتے، یا اس مرتبہ ''پیدا ہوتے'' ہی لاہور میٹرو بس کا احوال ضرور دیکھیں گے حالانکہ اس سے پہلے بھی ہم لاہور آتے جاتے اور اپنی پیدائش کا ثبوت دیتے رہے ہیں لیکن درمیان میں اب کچھ نئی باتیں ایسی آگئی ہیں جن کی وجہ سے اپنی پیدائش کو از سر نو ثابت کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ پہلے تو یہ تھا کہ ''جنے لہور نئیں ویکھیا او اجے جمیا نہیں'' یعنی جس نے لاہور نہیں دیکھا ہے وہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے۔
وہ تو ہم نے عرصہ ہوا کر لیا تھا یعنی اپنی پیدائش پر تو ہم نے مہر تصدیق ایک لاہوریئے ہی سے لگوائی اور وہ کوئی عام ''لہوریا'' نہیں بلکہ یہی خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہیں، ایک نہیں دو دو مرتبہ وہ ہمیں لاہور سرکاری طور پر لے گئے تھے چنانچہ اپنے طور پر پیدا ہونے کے بعد ہم سرکاری طور پر بھی پیدا ہو چکے ہیں، لیکن درمیان میں نہ جانے کیوں ان کا دل ہم سے کھٹا ہو گیا، کسی نے شاید لگائی بجھائی کی ہو گی بلکہ ہمیں تو شک ہے کہ لگائی بجھائی کسی قریبی صاحب نے ہی کی ہو گی۔ بہرحال خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا، ہم بھی مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کیوں کہ ایسا ہمارے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ یار دوست ہمارے پاس کچھ زیادہ نہیں ٹکتے بلکہ بہت جلد ہی ہمیں پہچان کر دشمنوں کی قطار میں جا کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قلندر مومند مرحوم کا ایک شعر ہے کہ
داؤ بہ کڑے یاران پر قلندرہ ڈیر
تہ چہ کومہ لار د جوندانہ غوارے
یعنی اے قلندر جس راہ پر تم چل نکلے ہو اس پر تم بہت سے یاروں کو ہار جاؤ گے۔ قلندری کے ساتھ اٹھتے بیٹھے یہ مرض ہم میں سرایت کر چکا ہے کیوں کہ صحبت تاثیر سے خالی نہیں ہوتی اور چھوت چھات والی بیماریاں دوسروں کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔
خیر یہ تو چلتا رہتا ہے مگر جب میٹرو بس کے بارے میں بہت ساری ادھر ادھر کی باتیں سنیں، خان صاحب عمران خان بھی اس پر کئی مرتبہ کالی روشنی ڈال چکے ہیں اس لیے چاہا کہ ہم بھی ذرا اپنی پیدائش کو مزید سرٹیفائی کریں کیوں کہ اب لاہور کے ساتھ ساتھ میٹرو اور ایک دوسری چیز بھی پیدائش کے نصاب میں شامل ہو گئی ہے، بہتر ہو گا کہ اس دوسری چیز کا ذکر پہلے ہی کر دیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرف سے پکڑیں، کیوں کہ لاہوریوں کے ناراض ہونے کا بھی خدشہ ہے لیکن اسے کیا کیا جائے کہ یہ لاہوریوں ہی نے ہم سے کہا ہے کہ یہ ''اجے جمیا نئیں'' کا دائرہ اب مزید وسیع ہو چکا ہے۔
پہلے تو یہ تھا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے لیکن اب اس کے ساتھ ایک جملہ اور بڑھا لیا گیا ہے خود لاہوریوں نے ہی بڑھایا ہے کہ ... سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیسے کہیں ... بلکہ لکھیں کیوں کہ کہنے کی حد تک تو اس مستند لاہوری نے ہمیں ایک ہی سانس میں سنایا کہ جنے لہور نہیں ویکھیا او اجے جمیا نئیں اور جنے ... کا گوشت نہیں کھایا وہ ''لہوریا نئیں'' ... نام کی جگہ ہم نے خالی چھوڑ دی ہے وہ لہورئیوں کی مرضی ہے کہ کون سا جانور یا اس کا گوشت بھرتے ہیں ہمیں خود وہ نام لینے یا کسی جانور کا نام بھرنے میں ہچکچاہٹ اس لیے ہو رہی ہے کہ یہ پسند اور ذائقے کی بات ہے اور خاص طور پر گوشت کے سلسلے میں تو ہم نے رنگارنگ طبیعت کے لوگ دیکھے ہیں مثلاً ہمارا ایک بزرگ ہے وہ مرغا مرغی کا گوشت بالکل پسند نہیں کرتا، کہتا ہے مرغا مرغی گندگی کے ڈھیر پر پلتے ہیں لاکھ سمجھایا کہ آج کل یہ پرندے بڑے صاف غذا پر پلتے ہیں لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔
ایک اور علاقہ ہے وہ لوگ بھینس بھینسے کا گوشت نہیں کھاتے اور اس علاقے میں قصائی بیل یا گائے ہی ذبح کرتے ہیں چاہے کتنے ہی لاغر یا عمر رسیدہ کیوں نہ ہوں، لیکن وہی لوگ جب ہمارے قصبے میں آتے ہیں تو چپلی کباب ہی کھاتے ہیں جو ہمیشہ بھینس بھینسے کا گوشت ہوتے ہیں، چنانچہ ہم بھی خالی جگہ لہوریوں کے لیے چھوڑتے ہیں کہ جس جانور کا نام چاہے بھر لیں لیکن یہ کہاوت اب پک چکی ہے کہ ... کہ وہ پیدا نہیں ہوا اور جس نے ... کا گوشت نہیں کھایا وہ لہوریا نہیں، لیکن ہمارے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے پیدا تو ہم ہو چکے ہیں اور لہوریا کہلانے کا ہمیں شوق نہیں اس لیے بات ختم، لیکن یہ میٹرو بس کا معاملہ تھوڑا سا الگ ہے چونکہ ہمارا اپنا صوبہ خیبر پختون خوا اس وقت ''سب کچھ'' میں ٹاپ پر جا رہا ہے ہم نے خود تو نہیں دیکھی ہیں لیکن مستند سرکاری بیانات میں کہا جاتا ہے کہ ہر سڑک کے ایک طرف دودھ کی نہر اور دوسری طرف شہد کی نہر بہہ رہی ہے جو بالکل مفت بہائی جاتی ہیں، دو چار میل کے فاصلے پر ''حور و غلمان'' مخصوص وردی میں ملبوس آنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
نہروں کے گرد ''سبز باغ'' لگے ہوئے ہیں جس میں داخلہ بالکل مفت ہے، ایسے حالات میں میٹرو کی باتیں سن کر ... آپ سے کیا پردہ بدنیتی لے کر گئے تاکہ جیسا کہ خان صاحب بنی گالہ والے کہتے ہیں، ذرا دیکھ تو لیا جائے کہ اس فضول سے کام پر اتنے پیسے کیوں لگائے گئے ہیں ، لیکن افسوس کہ بے نیل مرام واپس آگئے، ان کو شاید ہماری بری نیت کا پہلے ہی سے پتہ چل گیا تھا چنانچہ میٹرو بس کا نظام خوب نک سک سے درست کیا ہوا تھا، باوجود کوشش کے کوئی ایسا رخنہ یا سوراخ نہیں ملا جس میں ہم انگلی ڈال کر گھما سکیں، بڑی پرابلم تو یہ ہو گئی کہ سارے لاہور کو بھی الرٹ کر دیا گیا تھا خاص طور پر میٹرو سے سفر کرنے والوں کو تو اچھی طرح چوکنا کیا گیا تھا کہ وہ اس کی تعریف میں رطب اللسان نظر آئے۔
دو تین مرتبہ ہم نے کسی مخصوص اسٹاپ پر گاڑی کھڑی کی اور میٹرو میں جا گھسے ... لیکن یہ دیکھ کر بڑے شرمندہ ہوئے کہ جن جگہوں پر ہم گاڑی کے ذریعے پورے دن میں بھی نہیں پہنچ پا رہے تھے وہاں ایک گھنٹے میں پہنچ گئے۔ ارادہ اب بھی ہمارا نیک نہیں ہے لیکن کئی کئی بار لاہور جانے اور پیدا ہونے کی وجہ سے وہاں اپنے جیسے پیدل اور عامی عوامی لوگوں سے انسیت سی ہو گئی اور اگر ہم نے کچھ ایسا ویسا لکھ دیا تو وہ سارے ناراض ہو جائیں گے جو میٹرو سے مستفید ہو رہے ہیں، رہی ''دشمنوں'' سے انتقام کی بات تو وہ پھر کبھی سہی۔
وہ تو ہم نے عرصہ ہوا کر لیا تھا یعنی اپنی پیدائش پر تو ہم نے مہر تصدیق ایک لاہوریئے ہی سے لگوائی اور وہ کوئی عام ''لہوریا'' نہیں بلکہ یہی خادم اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ہیں، ایک نہیں دو دو مرتبہ وہ ہمیں لاہور سرکاری طور پر لے گئے تھے چنانچہ اپنے طور پر پیدا ہونے کے بعد ہم سرکاری طور پر بھی پیدا ہو چکے ہیں، لیکن درمیان میں نہ جانے کیوں ان کا دل ہم سے کھٹا ہو گیا، کسی نے شاید لگائی بجھائی کی ہو گی بلکہ ہمیں تو شک ہے کہ لگائی بجھائی کسی قریبی صاحب نے ہی کی ہو گی۔ بہرحال خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا، ہم بھی مطمئن ہو کر بیٹھ گئے کیوں کہ ایسا ہمارے ساتھ ہمیشہ سے ہوتا رہا ہے کہ یار دوست ہمارے پاس کچھ زیادہ نہیں ٹکتے بلکہ بہت جلد ہی ہمیں پہچان کر دشمنوں کی قطار میں جا کھڑے ہو جاتے ہیں۔ قلندر مومند مرحوم کا ایک شعر ہے کہ
داؤ بہ کڑے یاران پر قلندرہ ڈیر
تہ چہ کومہ لار د جوندانہ غوارے
یعنی اے قلندر جس راہ پر تم چل نکلے ہو اس پر تم بہت سے یاروں کو ہار جاؤ گے۔ قلندری کے ساتھ اٹھتے بیٹھے یہ مرض ہم میں سرایت کر چکا ہے کیوں کہ صحبت تاثیر سے خالی نہیں ہوتی اور چھوت چھات والی بیماریاں دوسروں کو بھی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔
خیر یہ تو چلتا رہتا ہے مگر جب میٹرو بس کے بارے میں بہت ساری ادھر ادھر کی باتیں سنیں، خان صاحب عمران خان بھی اس پر کئی مرتبہ کالی روشنی ڈال چکے ہیں اس لیے چاہا کہ ہم بھی ذرا اپنی پیدائش کو مزید سرٹیفائی کریں کیوں کہ اب لاہور کے ساتھ ساتھ میٹرو اور ایک دوسری چیز بھی پیدائش کے نصاب میں شامل ہو گئی ہے، بہتر ہو گا کہ اس دوسری چیز کا ذکر پہلے ہی کر دیں لیکن سمجھ میں نہیں آتا کہ کس طرف سے پکڑیں، کیوں کہ لاہوریوں کے ناراض ہونے کا بھی خدشہ ہے لیکن اسے کیا کیا جائے کہ یہ لاہوریوں ہی نے ہم سے کہا ہے کہ یہ ''اجے جمیا نئیں'' کا دائرہ اب مزید وسیع ہو چکا ہے۔
پہلے تو یہ تھا کہ جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ ابھی پیدا نہیں ہوا ہے لیکن اب اس کے ساتھ ایک جملہ اور بڑھا لیا گیا ہے خود لاہوریوں نے ہی بڑھایا ہے کہ ... سمجھ میں نہیں آرہا کہ کیسے کہیں ... بلکہ لکھیں کیوں کہ کہنے کی حد تک تو اس مستند لاہوری نے ہمیں ایک ہی سانس میں سنایا کہ جنے لہور نہیں ویکھیا او اجے جمیا نئیں اور جنے ... کا گوشت نہیں کھایا وہ ''لہوریا نئیں'' ... نام کی جگہ ہم نے خالی چھوڑ دی ہے وہ لہورئیوں کی مرضی ہے کہ کون سا جانور یا اس کا گوشت بھرتے ہیں ہمیں خود وہ نام لینے یا کسی جانور کا نام بھرنے میں ہچکچاہٹ اس لیے ہو رہی ہے کہ یہ پسند اور ذائقے کی بات ہے اور خاص طور پر گوشت کے سلسلے میں تو ہم نے رنگارنگ طبیعت کے لوگ دیکھے ہیں مثلاً ہمارا ایک بزرگ ہے وہ مرغا مرغی کا گوشت بالکل پسند نہیں کرتا، کہتا ہے مرغا مرغی گندگی کے ڈھیر پر پلتے ہیں لاکھ سمجھایا کہ آج کل یہ پرندے بڑے صاف غذا پر پلتے ہیں لیکن وہ ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں ۔
ایک اور علاقہ ہے وہ لوگ بھینس بھینسے کا گوشت نہیں کھاتے اور اس علاقے میں قصائی بیل یا گائے ہی ذبح کرتے ہیں چاہے کتنے ہی لاغر یا عمر رسیدہ کیوں نہ ہوں، لیکن وہی لوگ جب ہمارے قصبے میں آتے ہیں تو چپلی کباب ہی کھاتے ہیں جو ہمیشہ بھینس بھینسے کا گوشت ہوتے ہیں، چنانچہ ہم بھی خالی جگہ لہوریوں کے لیے چھوڑتے ہیں کہ جس جانور کا نام چاہے بھر لیں لیکن یہ کہاوت اب پک چکی ہے کہ ... کہ وہ پیدا نہیں ہوا اور جس نے ... کا گوشت نہیں کھایا وہ لہوریا نہیں، لیکن ہمارے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے پیدا تو ہم ہو چکے ہیں اور لہوریا کہلانے کا ہمیں شوق نہیں اس لیے بات ختم، لیکن یہ میٹرو بس کا معاملہ تھوڑا سا الگ ہے چونکہ ہمارا اپنا صوبہ خیبر پختون خوا اس وقت ''سب کچھ'' میں ٹاپ پر جا رہا ہے ہم نے خود تو نہیں دیکھی ہیں لیکن مستند سرکاری بیانات میں کہا جاتا ہے کہ ہر سڑک کے ایک طرف دودھ کی نہر اور دوسری طرف شہد کی نہر بہہ رہی ہے جو بالکل مفت بہائی جاتی ہیں، دو چار میل کے فاصلے پر ''حور و غلمان'' مخصوص وردی میں ملبوس آنے والوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
نہروں کے گرد ''سبز باغ'' لگے ہوئے ہیں جس میں داخلہ بالکل مفت ہے، ایسے حالات میں میٹرو کی باتیں سن کر ... آپ سے کیا پردہ بدنیتی لے کر گئے تاکہ جیسا کہ خان صاحب بنی گالہ والے کہتے ہیں، ذرا دیکھ تو لیا جائے کہ اس فضول سے کام پر اتنے پیسے کیوں لگائے گئے ہیں ، لیکن افسوس کہ بے نیل مرام واپس آگئے، ان کو شاید ہماری بری نیت کا پہلے ہی سے پتہ چل گیا تھا چنانچہ میٹرو بس کا نظام خوب نک سک سے درست کیا ہوا تھا، باوجود کوشش کے کوئی ایسا رخنہ یا سوراخ نہیں ملا جس میں ہم انگلی ڈال کر گھما سکیں، بڑی پرابلم تو یہ ہو گئی کہ سارے لاہور کو بھی الرٹ کر دیا گیا تھا خاص طور پر میٹرو سے سفر کرنے والوں کو تو اچھی طرح چوکنا کیا گیا تھا کہ وہ اس کی تعریف میں رطب اللسان نظر آئے۔
دو تین مرتبہ ہم نے کسی مخصوص اسٹاپ پر گاڑی کھڑی کی اور میٹرو میں جا گھسے ... لیکن یہ دیکھ کر بڑے شرمندہ ہوئے کہ جن جگہوں پر ہم گاڑی کے ذریعے پورے دن میں بھی نہیں پہنچ پا رہے تھے وہاں ایک گھنٹے میں پہنچ گئے۔ ارادہ اب بھی ہمارا نیک نہیں ہے لیکن کئی کئی بار لاہور جانے اور پیدا ہونے کی وجہ سے وہاں اپنے جیسے پیدل اور عامی عوامی لوگوں سے انسیت سی ہو گئی اور اگر ہم نے کچھ ایسا ویسا لکھ دیا تو وہ سارے ناراض ہو جائیں گے جو میٹرو سے مستفید ہو رہے ہیں، رہی ''دشمنوں'' سے انتقام کی بات تو وہ پھر کبھی سہی۔