انسانی اسمگلرز کی اغوا برائے تاوان کی سفاکانہ وارداتیں

ترک انتظامیہ نے اس معاملے پرجو فوری ایکشن لیا ہے وہ قابل ستائش ہے

- فوٹو؛ فائل

SWABI:
پاکستان میں بے روزگاری سے پریشان اور بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمندوں کو ہوشیار ہوجانا چاہیے کہ وہ انسانی اسمگلرز جو معصوم نوجوانوں کو غیر قانونی طور پر بیرون ملک بھیجنے اور مستقبل کے سنہرے خواب دکھاتے ہیں ان کی سفاکیت کا ایک اور پہلو سامنے آیا ہے۔ گزشتہ دنوں میڈیا پر روزگار کی تلاش میں ترکی جانے والے 4نوجوانوں پر بھیانک تشدد کی وڈیو سامنے آئی جس نے ہر نرم دل انسان کو لرزا کر رکھ دیا۔ چاروں نوجوانوں کے لواحقین کو اغوا کاروں نے وڈیو بھیج کر20، 20 لاکھ روپے تاوان کا مطالبہ کیا ۔

ان نوجوانوں کو لے جانے والے انسانی اسمگلر مبینہ طور پر وہاں اغوا کاروں سے مل گئے اور ٹیلیفون پر تاوان کا مطالبہ کرتے رہے بعد ازاں نوجوانوں پر بدترین تشدد کی وڈیو لواحقین کو بھجوائی۔ جب کہ دوسری خبر میں مردان کے ایک نوجوان اشفاق کو بھی ترکی میں مبینہ طور پر تاوان کے لیے اغوا کیے جانے کا انکشاف ہوا ۔6 مغویوں کو بعدازاں ترک پولیس نے بازیاب کرالیا، اس سے پیشتر یہ رپورٹس بھی میڈیا پر جاری ہوتی رہیں کہ انسانی اسمگلرز کس بے دردی سے ان نوجوانوں کا استحصال کرتے ہیں، غیر انسانی طریقے سے سمندری سفر، کنٹینروں میں دم گھٹنے سے ہلاکتیں اور جعلی دستاویزات کے باعث غیر ممالک میں پابند سلاسل رہنے کی خبریں بھی عوام میں شعور بیدار نہ کرسکیں کہ بیرون ملک جانے کے لیے قانونی راستہ ہی اپنایا جائے۔


آخر جمع پونجی لٹا کر اپنے لیے درد انگیز موت خریدنا کہاں کی دانشمندی ہے؟ حیرت تو پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں پر بھی ہے کہ کس طرح یہ انسانی اسمگلرز باآسانی قانون اور محافظوں کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس انسانی اسمگلنگ میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ اور اب ان اسمگلروں کی جانب سے اغوا کی وارداتیں چشم کشا ہیں جس پر انٹیلی جنس اداروں کو جاگ جانا چاہیے۔ تشدد کی ویڈیو کے سامنے آنے پر ایف آئی اے کی ٹیموں نے گجرات، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں بھی کارروائیاں کرتے ہوئے 6 انسانی اسمگلر گرفتار کرلیے ہیں۔

ایک مرکزی ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے 13سال قبل یہ گروہ بنایا تھا اور ترکی جانے کے ہر خواہشمند سے ڈیڑھ لاکھ وصول کیا کرتے تھے۔ آخر 13 سال پاکستانی ادارے کہاں سوتے رہے؟ترک انتظامیہ نے اس معاملے پرجو فوری ایکشن لیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر لائحہ عمل مرتب کیا جائے گا۔
Load Next Story