پی پی چیئرمین نے اداروں کے ٹکراؤ کی بات نہیں کی شرمیلا

پی پی اور بھٹو ازم محاذ آرائی نہیں چاہتے، معاون خصوصی کی بھٹ شاہ میں میڈیا سے گفتگو

وزیر اعلیٰ سندھ کی معاون خصوصی برائے اوقاف شرمیلہ فاروقی مزار پر چادر چڑھا کر عرس کا افتتاح کررہی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

وزیر اعلیٰ سندھ کی خصوصی معاون برائے اوقاف شرمیلا فاروقی نے کہا ہے کہ حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی ؒ نے محبت اور بھائی چارے کا پیغام دیا۔

جس پر عمل کر کے ہم سماج میں امن اور پر سکون ماحول پیدا کر سکتے ہیں، بالخصوص ملک کے موجودہ حالات میں شاہ لطیف کے پیغام کو پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ بھٹ شاہ میں شاہ لطیف بھٹائی کے 269ویں عرس کی تین روزہ تقریبات کا باضابطہ افتتاح کرنے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ عام انتخابات ملتوی ہونے کی کوئی گنجائش نہیں، آئین میں ایسی کوئی شق نہیں جس کے تحت اسمبلیاں تحلیل ہونے کے 90دن کے بعد بھی الیکشن کرائے جائیں، ایسا صرف ضیاء الحق نے اعلان کیا تھا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے 27 دسمبر کو جلسے سے خطاب میں انکی والدہ محترمہ کا عکس ظاہر ہو رہا تھا ۔پارٹی چیئرمین نے اداروں کے ٹکراؤ کی کوئی بات نہیں کی مگر اپنی والدہ محترمہ کے قتل کیس میں تاخیر پر اعتراضات ظاہر کیے ہیں۔




عوام چاہتے ہیں کہ شہید بینظیر بھٹو کے قاتلوں کو منظر عام پر لا کر سزا دی جائے۔ شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ پی پی اور بھٹو ازم کوئی بھی محاذ آرائی نہیں چاہتے اور ملک میں خوشحالی آنے تک پی پی جدو جہد جاری رکھے گی۔ ملک کو دہشتگردی کا چیلنج در پیش ہے، بشیر بلور کو بھی دہشتگردی کے تحت شہید کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کسی ملازم کو نوکری سے نہیں نکالا جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کوجائز حق دیا ہے اور آئین کو اصل صورت میںبحال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ادارے میں غیر جمہوری سوچ رکھنے والے عناصر موجود ہیں جو سیاست میں مداخلت چاہتے ہیں اور وہ نہیں چاہتے کہ ملک میں جمہوریت ہو لیکن تمام مسائل کا حل جمہوریت کے تسلسل میں ہے۔ اس موقع پر سیکریٹری اوقاف شاہد پرویز، ڈپٹی کمشنر مٹیاری، شاہد ظفر لغاری اور دیگر بھی انکے ہمرا ہ تھے۔
Load Next Story