یخ بستہ ہوائوں کا راج سردی 2دن تک برقرار رہے گی
محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت برقرار رہے گی
کراچی میں سردی کی شدت آئندہ دو روز تک برقرار رہے گی اور تیز ہوائیں 15 سے 10 ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی رہیں گی۔ فوٹو: ایکسپریس
کوئٹہ سے آنے والی تیز یخ بستہ ہوائوں کے سبب کراچی کا موسم سرد ہوگیا۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شہر کو اچانک آندھی کی صورت میں چلنے والی ٹھنڈی ہوائوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، تندو تیز ہوائوں کا سلسلہ جمعے کو بھی رات گئے تک جاری تھا، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت برقرار رہے گی چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کے مطابق مغرب کی جانب سے آنے والا ہوا کا کم دبائو پاکستان کے شمالی علاقوں سے گزررہا ہے جس سے ملک کے بالائی حصوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور کراچی میں موسم کی تبدیلی بھی پاکستان کے شمال مغربی علاقوں کی جانب سے چلنے والی ہوائوں کی وجہ سے آئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ کراچی کے شمال مغرب میں واقع کوئٹہ اور اس سے متصل علاقوں میں ہونے والی برف باری اور بارش کی وجہ سے اس جانب سے آنے والی یخ بستہ تیز ہوائوں نے کراچی کا رخ کرلیا ہے، انھوں نے بتایا کہ کراچی میں سردی کی شدت آئندہ دو روز تک برقرار رہے گی اور تیز ہوائیں 15 سے 10 ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی رہیں گی۔
سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ شہریوں نے ایک مرتبہ پھر گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردیا ہے جبکہ بازاروں میں گرم کپڑوں کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے افراد نے لائٹ ہائوس، حسن اسکوائر اور دیگر علاقوں میں واقع پرانے کپڑے کے بازاروں کا رخ کرلیا ہے، سردی میں اضافے کے ساتھ ہی مونگ پھلی، خشک میوہ جات، سوپ اور گرم مشروبات کے استعمال میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، لیاقت آباد، صدر اور دیگر علاقوں میں چکن کارن سوپ، یخنی، دیسی انڈوں اور دیگر اشیا کے اسٹالز اور ہوٹلوں پر شہریوں کا غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا،کراچی میں جمعرات کی رات گئے آنے والی تیز ہوائوں کے باعث شہر میں گرد و غبار پھیل گیا اور سڑکوں پر مٹھی کے جھکڑ چلتے رہے جس کے باعث شہریوں نے محتاط ڈرائیونگ کی اور موٹر سائیکل چلانے والے افراد زیادہ متاثر ہوئے،سرد موسم کے باعث شہر میں شام ڈھلتے ہی سڑکوں پر روزمرہ زیادہ رہنے والے ٹریفک کے اژدھام میں کمی دیکھنے میں آئی۔
لوگوں نے سرد موسم میں گھر میں ہی رہنے میں عافیت جانی اور باہر نکلنے سے گریز کیا ،گلی محلوں میں کام کاج سے فارغ ہونے والے افراد اور ٹولیوں نے لکڑیوں کو آگ لگاکر ہاتھ تاپے جبکہ والدین نے بچوں کو گرم کپڑوں کے علاوہ گرم ٹوپیاں اور دستانے بھی پہنائے اس موسم میں بچے صبح سرد موسم سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،سردی کی شدت میں اضافے کے باعث گھریلو خواتین کو گیس کے پریشر میں کمی کی شکایات رہیں۔
جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب شہر کو اچانک آندھی کی صورت میں چلنے والی ٹھنڈی ہوائوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور سردی کی شدت میں اضافہ ہوگیا، تندو تیز ہوائوں کا سلسلہ جمعے کو بھی رات گئے تک جاری تھا، محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران سردی کی شدت برقرار رہے گی چیف میٹرولوجسٹ محمد ریاض کے مطابق مغرب کی جانب سے آنے والا ہوا کا کم دبائو پاکستان کے شمالی علاقوں سے گزررہا ہے جس سے ملک کے بالائی حصوں میں بارشوں کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور کراچی میں موسم کی تبدیلی بھی پاکستان کے شمال مغربی علاقوں کی جانب سے چلنے والی ہوائوں کی وجہ سے آئی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ چونکہ کراچی کے شمال مغرب میں واقع کوئٹہ اور اس سے متصل علاقوں میں ہونے والی برف باری اور بارش کی وجہ سے اس جانب سے آنے والی یخ بستہ تیز ہوائوں نے کراچی کا رخ کرلیا ہے، انھوں نے بتایا کہ کراچی میں سردی کی شدت آئندہ دو روز تک برقرار رہے گی اور تیز ہوائیں 15 سے 10 ناٹیکل میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی رہیں گی۔
سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ شہریوں نے ایک مرتبہ پھر گرم کپڑوں کا استعمال شروع کردیا ہے جبکہ بازاروں میں گرم کپڑوں کی خریداری میں بھی اضافہ ہوا ہے خاص طور پر متوسط اور غریب طبقے کے افراد نے لائٹ ہائوس، حسن اسکوائر اور دیگر علاقوں میں واقع پرانے کپڑے کے بازاروں کا رخ کرلیا ہے، سردی میں اضافے کے ساتھ ہی مونگ پھلی، خشک میوہ جات، سوپ اور گرم مشروبات کے استعمال میں بھی کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔
اولڈ سٹی ایریا، ناظم آباد، لیاقت آباد، صدر اور دیگر علاقوں میں چکن کارن سوپ، یخنی، دیسی انڈوں اور دیگر اشیا کے اسٹالز اور ہوٹلوں پر شہریوں کا غیرمعمولی رش دیکھنے میں آیا،کراچی میں جمعرات کی رات گئے آنے والی تیز ہوائوں کے باعث شہر میں گرد و غبار پھیل گیا اور سڑکوں پر مٹھی کے جھکڑ چلتے رہے جس کے باعث شہریوں نے محتاط ڈرائیونگ کی اور موٹر سائیکل چلانے والے افراد زیادہ متاثر ہوئے،سرد موسم کے باعث شہر میں شام ڈھلتے ہی سڑکوں پر روزمرہ زیادہ رہنے والے ٹریفک کے اژدھام میں کمی دیکھنے میں آئی۔
لوگوں نے سرد موسم میں گھر میں ہی رہنے میں عافیت جانی اور باہر نکلنے سے گریز کیا ،گلی محلوں میں کام کاج سے فارغ ہونے والے افراد اور ٹولیوں نے لکڑیوں کو آگ لگاکر ہاتھ تاپے جبکہ والدین نے بچوں کو گرم کپڑوں کے علاوہ گرم ٹوپیاں اور دستانے بھی پہنائے اس موسم میں بچے صبح سرد موسم سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں،سردی کی شدت میں اضافے کے باعث گھریلو خواتین کو گیس کے پریشر میں کمی کی شکایات رہیں۔