سی پیک انرجی منصوبے

سی پیک کے تحت8ہزار میگاواٹ کے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں

۔ فوٹو: فائل

پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے گیم چینجر پہلو سے شاید ہی کسی کو انکار ہو۔ اس کی اہمیت و افادیت پر خطے کے پڑوسی ممالک سمیت یورپ و مشرق وسطیٰ کی حکومتوں نے بھی شاندار مضمرات اور ترقی کو خوشحالی کے حوالہ سے پرکشش قراردیا ہے تاہم ایکسپریس ٹریبیون کی ایک رپورٹ کے مطابق سی پیک کے انرجی پروجیکٹس میں بعض منصوبوں پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا ہے، ٹارگٹ ''مس '' ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا، مثلاً یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ پنجاب میں سالٹ رینج کے 300 میگاواٹ پلانٹ کے لیے پانی اور دیگر سہولیات میسر نہیں ، وزارت پانی و بجلی کے ان تحفطات کا بھی ذکر رپورٹ میں موجود ہے جو حکام نے گوادر کے 300میگاواٹ پروجیکٹ کے بارے میں ظاہر کیے اور کہا تھا کہ ایسے پروجیکٹ بھی ترک کیے جا سکتے ہیں جن کی تعمیراتی رفتار مایوس کن ہوگی۔

تاہم گوادر الیکٹریسٹی پروجیکٹس ، صنعتی معاشی زون اور گوادر امپورٹڈ کول بیسڈ پروجیکٹ اور انٹرنیشنل ایئر پورٹ کی تکمیل پر جے سی سی کے اجلاس میں بھی زور دیا گیا تھا، بہرحال رپورٹ میں کئی پروجیکٹس کی جلد اور برق رفتاری سے تکمیل کا یقین بھی دلایا گیا ہے۔ ''چائنہ ڈیلی''کے مطابق چین کی نظر میں چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کا مستقبل روشن ہے جو سلک روڈ اکنامک بیلٹ اور 21 ویں صدی کی بحری شاہراہ ریشم کا اہم حصہ ہے، تین سال پہلے چین کے صدر شی چن پنگ نے ایک رابطے کا منصوبہ تجویز کیا تھا ۔

جس نے اب مثبت نتائج دینا شروع کردیے ہیں۔ جب2016ء پر ایک نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے، شاہراہوں کے منصوبے نے بڑی تیزی سے ثمر بار ہونا شروع کردیا ہے، اس سے دیگر ممالک کے ساتھ رابطوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور قدیم تجارتی شاہراہ سے منسلک ممالک میں ترقی کی اہلیت اور امکانات پیدا ہونے لگے ہیں جب کہ پاک چائنہ اکنامک کوریڈور کے مختلف پروجیکٹ پر کام کرنے والی کمپنی سینو ہائیڈرو بیورو کے ڈائریکٹر پروفیسر جین کے مطابق مختلف زرعی اجناس کی باقیات بالخصوص گنے کے بھس کو تعمیراتی مقاصد میں استعمال کر کے اخراجات میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہے۔


وزیراعظم نواز شریف نے گزشتہ روز کہا کہ سی پیک میں صوبوں کی نمایندگی خوش آیند ہے، عالمی سرمایہ کاروں کی پاکستان میں دلچسپی ہماری کامیابی ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے لیے وفاق سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا کیونکہ یہ منصوبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ بلاشبہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک کی شفافیت کو ہر قسم کے شک وشبہ سے بالاتر ہونا چاہیے۔ منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں جن خدشات کا ذکر کیا گیا ان پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے اور ان منصوبوں کی ترجیحات اور ان کے مالی و عملی وتکنیکی معاملات پر تحقیق و سوچ بچار ناگزیر ہے ۔

ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹ کے مطابق چینی اسپانسرڈ بعض ناقابل عمل انرجی منصوبے روبہ عمل نہیں لائے جا سکیں گے جب کہ کچھ کو ترک کرنے اور بعض کی تعمیراتی رفتار پر عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف 8,810 میگاواٹ کے انرجی پروجیکٹ کے 2018 ء تک نصف پیداوار دینے کی امید ہے، رپورٹ کے مطابق بین الوزارتی تنازع اور پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ کے ابتدائی مرحلہ میں مالی اعتبار سے ناقابل عمل منصوبوں کی شمولیت سے فریقین اپنا ٹارگٹ حاصل نہیں کرسکیں گے۔ ادھر وزارت منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے بدھ کو ایک پریس کانفرنس میں ان پاور پروجیکٹس کی مجموعی پیداوار پر گفتگو کی اور کہا یہ 2017 ء سے2018 ء تک مکمل ہوجائیں گے، جب کہ بعض منصوبے 2020 ء میں آپریشنل ہوجائیں گے۔ رپورٹ کے مطابق انرجی سیکٹر کے12 منصوبے پائپ لائن میں ہیں، سی پیک کے تحت8ہزار میگاواٹ کے منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں جب کہ نان سی پیک منصوبے بھی 2018 ء تک مکمل کیے جائیں گے۔

ترجیحی منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم ایک اور رپورٹ بھی قابل غور جس میں کہا گیا ہے کہ چین کی طرف سے پاکستان میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے جب کہ قرضوں کی فراہمی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا ستمبر2016 ء کے دوران چین کی جانب سے پاکستان میں مجموعی طور پر 9 کروڑ 8 لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری کی گئی۔

ادھر پیپلز پارٹی کی قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری کی تکمیل کے لیے وفاق سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا ، آصف زرداری نے کہا ہے سی پیک معاشی طور پر گیم چینجر ہے اس سے ترقی کی نئی راہیں کھل جائیں گی، اس منصوبے پر کام پیپلزپارٹی کی حکومت نے شروع کیا تھا اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ منصوبہ بغیر کسی رکاوٹ کے جلد از جلد مکمل ہو۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سی پیک منصوبوں کے بارے میں پائے جانے والے اندیشوں ، خدشات اور تحفظات کے حوالہ سے قوم کے سامنے مثبت تصویر رکھی جائے تاکہ یہ تاثر دم توڑ دے کہ سی پیک کے سمندر میں ہنگامی طور پر نئے منصوبہ کی ہر کشتی ڈالی جا رہی ہے ۔
Load Next Story