یہودی آبادکاری جاری رہی توفلسطین بھی اسرائیل کودیدونگا محمود عباس
اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد نیتن یاہوکو ہاں یا ناں کا فیصلہ کرنا ہو گا،انٹرویو۔
اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد نیتن یاہوکو ہاں یا ناں کا فیصلہ کرنا ہو گا،انٹرویو. فوٹو: اے ایف پی
ISLAMABAD:
فلسطینی صدر محمود عباس نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعطل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہا تو وہ فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سونپ دیں گے۔
فلسطینی صدر نے اسرائیلی روزنامے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد وہ نیتن یاہو ہی کو چابیاں دینے اور فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انھیں سونپنے پر مجبور ہوں گے۔
انھوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہاکہ اگر اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو میں نیتن یاہو کو فون کروں گا اور ان سے کہوں گا میرے دوست میں آپ کورام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹرزمیں آنے کی دعوت دیتا ہوں وہاں تشریف لے آئیں اور میری جگہ کرسی پر بیٹھیں چابیاں سنبھالیں اور اب آپ فلسطینی اتھارٹی کے ذمے دار ہوں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد نیتن کو ہاں یا ناں کا فیصلہ کرنا ہو گا۔
فلسطینی صدر محمود عباس نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعطل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہا تو وہ فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انتہا پسند اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کو سونپ دیں گے۔
فلسطینی صدر نے اسرائیلی روزنامے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امن مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہونے کے بعد وہ نیتن یاہو ہی کو چابیاں دینے اور فلسطینیوں کی ذمے داری بھی انھیں سونپنے پر مجبور ہوں گے۔
انھوں نے بڑے جذباتی انداز میں کہاکہ اگر اسرائیل میں عام انتخابات کے بعد بھی کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو میں نیتن یاہو کو فون کروں گا اور ان سے کہوں گا میرے دوست میں آپ کورام اللہ میں فلسطینی اتھارٹی کے ہیڈ کوارٹرزمیں آنے کی دعوت دیتا ہوں وہاں تشریف لے آئیں اور میری جگہ کرسی پر بیٹھیں چابیاں سنبھالیں اور اب آپ فلسطینی اتھارٹی کے ذمے دار ہوں گے۔ محمود عباس نے کہا کہ اسرائیل میں نئی حکومت کے قیام کے بعد نیتن کو ہاں یا ناں کا فیصلہ کرنا ہو گا۔